نواز شریف ۔۔۔۔ ضیا ء الحق سے واجدضیاء تک

نواز شریف ۔۔۔۔ ضیا ء الحق سے واجدضیاء تک
نواز شریف ۔۔۔۔ ضیا ء الحق سے واجدضیاء تک

  

انسانی زندگی اور خاص طور پر اس میں سیاست ایک عجب کھیل ہے۔ سیاست میں کل کے دشمن آج کے دوست اور آج کے دوست کل کوآپ کے دشمن بھی بن سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت سے ایسے دلچسپ اتار چڑھاؤ آئے جن پر تحقیق کرنے بیٹھے تو بڑی بڑی کمال کی سٹوریز بن گئیں۔ لیکن اس وقت ذکر ہے ملک کے وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نوازشریف کی سیاست اور اس میں ضیا ء نام کے کرداروں کا۔

ایک شخص جس کا نام جنرل ضیا ء الحق تھا ،جو ملک کا آرمی چیف تھا ، عسکری طاقت کا جو ہر پھرپور انداز سے اس کی پشت پر تھا، جس کے بل پر اس نے پوری دیدہ دلیری سے ملک کے منتخب وزیراعظم کا تختہ الٹ دیا۔ اسے جیل میں ڈالا،قتل کاکیس بنایا، چلایا اور پھربلا تردد پھانسی پر لٹکا دیا۔ ایسے میں ملک میں نئی سیاسی قیادت کی ضرورت کو پورا کرنا تھا تو نظروں نے ہونہار بزنس مین محمد نوازشریف کا انتخاب کیا اور پھر نوازشات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ نہ صرف بھٹو دور میں قومیائی گئی اس فیملی کی تمام فیکٹریاں واپس دے دیں ، بلکہ بزنس اور سیاست کو ترقی دینے کے تمام مواقع فراہم کئے گئے ، میاں نوازشریف نے بھی اس دور میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو باکمال انداز میں کامیابی سے پر کیا اور چند ہی برسوں میں قومی سطح کے ایک کامیاب سیاستدان کے طور پر سیاسی افق پر چمکنے لگے۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا میاں نوازشریف کی سیاسی گرومنگ میں وہ معاون کردار ہے جس کی کوئی بھی تردید نہیں کرسکتا۔

لیکن لگتا ہے اس کے بعد ضیا ء نام کے کردار میاں نواز شریف کو زیادہ راس نہیں آئے، اس سے پہلے کہ ہم شریف فیملی کے خلاف لندن فلیٹس کی خریداری کے لئے منی ٹریل کا سراغ لگانے میں مصروف سپریم کورٹ کی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا ذکر کریں، کچھ ذکر ہوجائے ایک اور ضیا کا ۔۔۔۔ جی ہاں یہ ایک اور ضیا تھے اور وہ بھی جنرل ۔۔۔ لیکن یہ تھے جنرل ضیا الدین بٹ ۔۔۔۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب وزیر اعظم نواز شریف کے فوج کے ساتھ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گئے تو وزیراعظم نے سوچا کہ کیوں نہ ایک بار پھر ضیا کو ہی آواز دی جائے، ایک تو نام ضیا ہے اور پھر اوپر سے کشمیری برادری۔ چنانچہ انہیں ترقی دے کر آرمی چیف مقرر کر دیا گیا ۔ لیکن یہ 80 کی دہائی نہیں تھی اور پھر وہی بات کہ ضیا نام کی برکات میاں صاحب سے روٹھ چکی تھیں ۔ سو وہی ہوا کہ جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم کی طرف سے برطرفی کے آرڈرز کے باوجود نہ صرف آئین کو معطل کرکے حکومت کا تختہ الٹا دیا بلکہ اسی ہلے میں نئے دور کے جنرل ضیا الدین بٹ صاحب کا بھی دھڑن تختہ ہوگیا ان کا کورٹ مارشل کیا گیا اور وہ آج تک بطور ریٹائرڈ جنرل کے حاصل ہونے والی پنشن اور دیگر مراعات کے حصول کے لئے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ ویسے تو شریف فیملی میں بھی ایک ضیا ہیں پورا نام سہیل ضیا بٹ ہے۔ وہ بڑے جی دار اور یاروں کے یار شخصیت ہیں۔ ان کا اس ضیائی سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ لاہور کے مزاج کے عین مطابق اپنی مجلسیں لگانا اور دوستوں کے ساتھ خوشگوار لمحات گذارنا ا ن کا مشغلہ ہے جس میں ملکی سیاست پر بھی کھل کر بحث ہوتی ہے۔

لیکن اپنے اقتدار کے تیسرے دور میں شریف فیملی کو ایک بار پھر ایک ضیا ء سے واسطہ پڑ گیا ہے۔ یہ نہ تو ضیاء الحق ہے نہ ضیاء الدین بٹ اور نہ سہیل ضیا بٹ ۔۔۔ بلکہ یہ ہیں ایف آئی اے کے افسر واجد ضیاء۔ جن کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی ہے ۔ انتہائی دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ مسٹر ضیا شریف فیملی سے اس دور کی بزنس ڈیلز اور لندن فلیٹس کی خریداری کے لئے روپے پیسے کی ملک سے باہر ترسیل کا حساب مانگ رہے ہیں جب جنرل ضیاء اور ان کے پیش رو جرنیلوں کے ساتھ شریف فیملی کے تعلقات مثالی تھے۔ وہ ان کے بلیو آئیڈ تھے ۔مسٹر واجد ضیاء اپنی ٹیم کے ہمراہ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آپ نے لندن فلیٹس کیسے خریدے۔ اس دور میں کتنا ٹیکس دیا، کتنا نہیں دیا۔ پیسہ باہر گیا تو کن ذرائع سے گیا ۔۔۔۔اب کسی ضیا ء کی طرف سے اس قسم کے سوالات ہیں تو بہرحال تکلیف دہ ،کیونکہ اس سے پہلے کبھی کسی ضیا ء نے ایسی باتیں نہیں کی تھیں۔

اب ذرا چشم تصور سے دیکھیں کہ اگر واجد ضیا ء کی ٹیم حکمران خاندان کے خلاف فیصلہ دے دیتی ہے تو حکومتی وزیر اور لیگی زعما ء جنہوں نے پہلے ہی جے آئی ٹی کو نشانے پر لے رکھا ہے اس کے بعد نئے دور کے ضیا ء ۔۔۔یعنی۔۔۔ واجد ضیا ء کے بارے میں مسلم لیگ نون اور شریف فیملی کے کیا جذبات ہوں گے ؟اسے حالات کی ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور کہ ایک ضیا ء نے 1977 میں پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کی قیادت کا سیاسی اور جسمانی قتل کیا اور ان کے مقابلے میں ایک نئے سیاسی خاندان، سیاسی پارٹی اور سیاسی شخصیت کو قومی افق پر ابھارا اور اب ٹھیک چالیس سال بعد ملک کے اسی دوسرے بڑے سیاسی خاندان کے سیاسی مقدر کا فیصلہ بھی ایک اور ضیا ء کے ہاتھ میں آ گیا ہے ۔

باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب

نظارہ خیال کا ساماں کئے ہوئے

مزید :

کالم -