جے آئی ٹی

جے آئی ٹی
 جے آئی ٹی

  

جے آئی ٹی پانامہ پیپرز میں لگائے گئے کرپشن کے الزامات کی تحقیق کے لئے بنائی گئی تھی مگرجے آئی ٹی کے حوالے سے تاثر یہ بن گیا ہے کہ اس کی تشکیل وزیر اعظم کی فیملی کو کرپٹ ثابت کرنا ہے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس تاثر کی نفی نہ کئے جانے کی وجہ سے اس کو مزید پختگی مل گئی ۔کیا یہ جے آئی ٹی کی ناکامی ہے یا اس کے بنانے والوں کی ؟....اوراگر ان دونوں کی ناکامی نہیں تو کس کی کامیابی ہے ؟.... لیکن ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کیا ہوا کہ وہ بھی وزیر اعظم کی چھاتی پر مونگ دل رہی ہے !

جے آئی ٹی 5مئی کو تشکیل دی گئی جس کا پہلا غیر رسمی اجلاس 8مئی کو منعقد ہوا اور6جولائی کو اس کا کام مکمل ہوجائے گا....گویا مئی اورجون کے سخت مہینے لد گئے ، اب جولائی میں دھول اڑائی جائے گی۔ چونکہ جولائی کے مہینے میں بارشوں کا زور ہوتا ہے اس لئے ممکن ہے کچھ زیادہ دھول نہ اڑے ، خاص طور پر جبکہ اب کے تو جون کے مہینے سے ہی بارشیں شروع ہو گئی ہیں۔

22جون کو جے آئی ٹی نے 45دن کی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو پیش کی جبکہ 21جون کو جاوید ہاشمی نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اس عدم اعتماد پر میڈیا کے مخصوص حصے نے مزید عدم اعتماد کردیا اور اسے درخور اعتنا ہی نہ جانا ، لیکن کیا عوام بھی جاوید ہاشمی کے خدشات کو اسی طرح نظر انداز کردیں گے ؟....ایسا ہے تو محترم جاوید ہاشمی کو سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لینی چاہئے۔

اس سے قبل جے آئی ٹی نے 7جون اور 23مئی کو عدالت عظمیٰ کو رپورٹس پیش کی تھیں جہاں تین رکنی بنچ نے تحقیقات کے صحیح خطوط پر ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور 60دن سے زیادہ وقت نہ دینے کا اعلان کیا تھا ۔ معلوم نہیں کہ منی ٹریل کے ضمن میں یہ 60دنوں میں تلاش کیا جانے والا سچ تصور ہوگا یا پھر 60دنوں تک تلاش کیا جانے والا سچ تصور ہوگاکیونکہ یہ وہ سچ ہے جسے 60دن میں تلاش کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سچ 59دنوں میں تلاش کرلیا گیا یا پھر 60کی بجائے 61دنوں میں ہوا توپھر کیا ہوگا؟

ایسالگتا ہے کہ عدالت عظمیٰ اپنی غیر جانبداریت کا تاثر قائم کرنے کی بجائے حکومتی اورریاستی اداروں کے درمیان تقسیم ہوجانے کا تاثر دے رہی ہے ، خاص طور پر حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے حوالے سے عدالتی فیصلے نے بہت سے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

جے آئی ٹی کی کارروائی کو خفیہ رکھا گیا ہے، تحقیقات کواوپن نہیں کیا گیا البتہ ان تحقیقات پر کھلی گفتگو ہو رہی ہے ،خفیہ تحقیقات پر کھلی گفتگو کنفیوژن کو راہ دے رہی ہے، کسی کو معلوم نہیں اند ر کیا ہورہا ہے ،ہر کوئی باہر سے اندازے اور مفروضے گھڑ کر بے تکان ہانکے جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے پانامہ مقدمہ کے آغاز پر عدالتی کارروائی پر منع کرکے ایک ایسی بلا کو کھول دیاجو آج خود اس کے اپنے گلے پڑنے کو تیار ہے۔

اگر جے آئی ٹی کی تحقیقات اوپن ہو جائیں تو سپریم کورٹ کو بند کرنا پڑسکتا ہے!

آئین میں جو ہے وہ ملک میں ہوتا نظر نہیں آرہا،ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے سپریم کورٹ آئین و قانون کا حصہ بنانے کے مشورے دے رہی ہے ،جب آئین اور ملکی صورت حال متصادم ہو تو آئین ہار جاتا ہے کیونکہ اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل جاتی ہے ۔ دوسری جانب عوام کا امام وقت کا ہر گزرتا ہوا لمحہ ہوتا ہے، حکومت یا اپوزیشن میں جو کوئی اس لمحے کو پکڑ لے عوام اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں!

خیر سے یہ جے آئی ٹی میڈیا پر بھی بھاری ثابت ہو رہی ہے کہ خود سپریم کورٹ نے ایسی آبزرویشن دی ہے جس سے لگتا ہے کہ کوئی ایک میڈیا گروپ جے آئی ٹی کی کارروائی کے خلاف محاذ گرم کئے ہوئے ہے۔ اس پر اسٹیبلشمنٹ کی پاکٹ میں پڑے ٹی وی چینل بغلیں بجا رہے ہیں لیکن ہم بصد احترام عرض کرتے ہیں کہ میڈیا کا وہ گروپ تو دھرنے میں بھی اسی گناہ میں روزانہ شام کو پی ٹی آئی کے کارکنوں سے پتھر کھاتا تھا اور عمران خان امپائر کی انگلی اٹھنے کی نوید سناتے تھے۔ اگر اس میڈیا گروپ کا قصور یہ ہے کہ وہ جمہوریت کی پاسداری کے لئے آئین اور قانون کی بات کر رہا ہے تو کیا ان عوام کا بھی یہی قصور ہے جنھوں نے ضمنی انتخابات، لوکل باڈیز انتخابات اور آزاد کشمیر کے انتخابات میں نون لیگ کو ووٹ دیا تھا۔ اگر ایسا ہے تو کس کس کو سزا دی جائے گی، کس کس کو معتوب ٹھہرایا جائے گا!

مزید :

کالم -