رحمان ملک جے آئی ٹی میں پیش،اڑھائی گھنٹے تفتیش، بیان قلمبند کرا دیا

رحمان ملک جے آئی ٹی میں پیش،اڑھائی گھنٹے تفتیش، بیان قلمبند کرا دیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )پانامہ کیس کی تحقیقات کے سلسلہ میں سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہو کر بیان قلمبندکرانے سمیت حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق 2000ء میں ہونیوالی تحقیقات کی دستاویزات بھی جمع کرا دیں۔جے آئی ٹی نے ان سے اڑھائی گھنٹے پوچھ گچھ کی ۔ رحمن ملک نے جے آئی ٹی میں مزید 2خط جمع کرا ئے ،پہلا خط وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے بنائے گئے ٹرسٹ کے حوالے سے ہے جو ایک سعودی اور امریکی باشندے کے ذریعہ کھولا گیا۔ خط میں شریف خاندان اور ایک شخص شیخ سعید کی مشترکہ منی لانڈرنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے خط میں شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات اور شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔ جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وز یر داخلہ کا کہنا تھا پانامہ کیس کے میچ کی پچ تیار کرنیوالا رحمان ملک ہے ، جے آئی ٹی میں انتہائی پروفیشنل لوگ موجود ہیں جن کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا، میں اس جے آئی ٹی پر اپنا پورا اعتماد ظاہر کرتا ہوں مجھے نہیں لگتا جے آئی ٹی کے اراکین متعصب ہونگے یا کسی کیساتھ ناانصافی کریں گے ، جے آئی ٹی کے پاس ایک خط موجود تھا لیکن میں مزید 2خطوط دے آیا ہوں، تفتیش اور رپورٹ میں 10افسروں نے حصہ لیا، جہاں انکو مدد کی ضرورت تھی میں نے کی ہے میں نے مذید مدد کی پیشکش کی ہے ، میں نے ذاتی طور پر تحقیقات نہیں کیں، تحقیقات سرکاری سطح پر کی گئیں، تحقیقات میں حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق منی لانڈرنگ کی ٹریل موجود ہے، دستاویزات کے بعد مزید شواہد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لوگ نعرے لگاتے ہیں ہم میچ جیت گئے لیکن آخر میں لوگوں کو پتا چلے گا گول پیپلز پارٹی نے کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں میری جو رپورٹ موجود تھی اس کے ایک ایک حصے کی تصدیق کی ہے، جے آئی ٹی کے پاس ایک خط تھا میں نے صدر رفیق تارڑ کو لکھے جانیوالے دو خطوط بھی پیش کیے ہیں، جے آئی ٹی کے روبرو انکوائری کا تمام ریکارڈ پیش کردیا ہے۔ میرے پاس تمام ریکارڈ کی فوٹو کاپیاں اسلئے موجود تھیں کیونکہ جب مجھے معطل کیا گیا تو اسوقت اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے یہ دستاویزات پیش کرنا پڑی تھیں اور مجھے چارج شیٹ کرتے وقت ان کی فوٹو کاپیز فراہم کی گئی تھیں۔ پچھلے 15دن سے پرا پیگنڈا چل رہا تھا اور کہا جا رہا تھا پیپلز پارٹی کا مک مکا ہوگیا ہے اور حکومت کو بچالیا جائے گا ، اس پراپیگنڈے پر میری یا پیپلز پارٹی کی طر ف سے کوئی جواب نہیں آیا کیونکہ ہم نے اس معاملہ کو سیاسی کی بجا ئے قانونی طور پر ہینڈل کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے میری ہی در خو ا ست پر اس پراپیگنڈے کا کوئی جواب نہیں دیا گیا،اپنی پارٹی اوراسکی پوری قیادت کو اس عقلمندی پر سلام پیش کرتا ہوں ،جب کیس کا فیصلہ آئے گا تو پیپلز پارٹی اور جیالوں کا سر فخر سے بلند ہوگا۔ رحمان ملک ایک ایسی لیڈر سے تربیت یافتہ ہے جس کا نام بینظیر بھٹو ہے،میں نہ کسی کوپھنسا نے آیا ہوں نہ نکالنے ، آف شور کمپنی میں میرا نام سامنے لے آئیں تو میں مستعفی ہو جاؤں گا ، مجھے سکیورٹی نہیں دی گئی اپنی گاڑی خود چلا کر آیا ہوں شاید وقت کے حاکم نے سوچا کہ سکیورٹی نہیں دیں گے تو رحمان ملک ڈر جائے گا میں ڈرنے والا نہیں ہوں انشاء اللہ آخری دم تک لڑیں گے۔پیشی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں انکا کہنا تھا پہلے بھی غیر جانبدار رہا اور اب بھی رہوں گا ،میں ہاکی کا پلیئر ہوں آج گول کر کے ہی باہر آؤں گا ۔واضح رہے سینیٹر رحمن ملک نے 2000ء میں حدیبیہ پیپر ملز کی تحقیقات بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے کی تھیں، آج جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بھی طلب کر رکھاہے۔ کیپٹن صفدر آج دن گیارہ بجے جے آئی ٹی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ اسے سے قبل جے آئی ٹی وزیر اعظم نواز شریف ، وزیر اعلیٰ شہباز شریف ، وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کے بیانات بھی لے چکی ہے۔ سپریم کور ٹ نے جے آئی ٹی کو مزید تین دن کی مہلت دیتے ہوئے تحقیقات 10جون تک مکمل کر نے کی ہدایت کر دی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -