کوئٹہ،پارا چنار پھر لہو لہو ،48جاں بحق، 125سے زائد زخمی

کوئٹہ،پارا چنار پھر لہو لہو ،48جاں بحق، 125سے زائد زخمی

  

پارا چنار،کوئٹہ ،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) پاکستان دشمنوں کے ایک مرتبہ پھر ایک ہی دن میں دو وار ، صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کار بم دھماکے کے بعد وفاق کے زیر انتظام فاٹاکی خیبر ایجنسی کے علاقے پارا چنار میں اوپر تلے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں 7پولیس اہلکاروں سمیت 48افراد جاں بحق اور125 سے زائد زخمی ہوگئے،زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث انسانی جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ کوئٹہ میں خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم عالمی دہشتگرد تنظیم داعش نے قبول کرتے ہوئے خود کش حملہ کرنے والے دہشت گرد کی تصویر بھی جاری کردی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کی صبح کوئٹہ کے علاقے شاہراہ گلستان پر واقع آئی جی پولیس آفس سے متصل چوک کے قریب ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے ایک مشکوک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی،گاڑی نہ رکنے پر جب دوسری جگہ پولیس اہلکاروں نے گاڑی کوروکا تو اسی اثناء میں زوداردھماکہ ہوا۔جس کے نتیجے میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 13افراد جاں بحق، جبکہ 21 زخمی ہوگئے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا خودکش تھا، 75 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، بم میں بال بیئرنگ اور نٹ بولٹس کا بھی استعمال کیا گیا۔دھماکہ اتنی شدید نوعیت کا تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔دھماکے سے موقع پر 2گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، زخمیوں میں بھی متعدد افراد پولیس اہلکار شامل ہیں۔پولیس کے مطابق دھما کا خیز مواد گاڑی میں نصب تھا، جس میں مبینہ طورپر ایک خودکش حملہ آور بھی موجود تھا، دھماکے میں جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیاگیا ہے، جہاں پہلے ہی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔دھماکے میں شہید افراد کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں،سنڈیمن پروانشل کے ترجمان ڈاکٹروسیم بیگ کے مطابق شہید ہونیوالے پولیس اہلکاروں میں سجاد علی ،لعل خان ،غنی خان ،فیصل ،غلام شبیر ،کاشف ،نعیم جبکہ سول ملازمین واپڈا کے ساجد حسین ،کیوڈی اے کے انور،لائیوسٹاک کے ڈاکٹرعبدالرحمن ،راہگیر ثناء اللہ ،محمدامین اورایک نامعلوم شخص شامل ہیں ۔21 زخمیوں میں سے 17کوطبی امدادکے بعد ہسپتال سے فارغ کردیاگیاجبکہ چار شدید زخمیوں راجن شاہ ،رحمت اللہ اورجان محمد ،سرفراز کو طبی امداددی جا ر ہی ہے۔واقعہ کے بعد بم ڈسپوزل اسکارڈاورسکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو سیل کرکے شوہدہ اکٹھے کرناشروع کرد یئے ۔ڈی جی سول ڈیفنس محمد اسلم ترین نے بتایادھماکہ باظاہر خودکش تھاتاہم تمام ترشواہد اکھٹے کئے جارہے ہیں۔واقعے کے بعد انسپکٹرجنرل پولیس بلوچستان نے وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ خان زہر ی رابطہ کرکے انہیں دھماکے متعلق رپورٹ پیش کی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کااعادہ کیاکہ دہشت گردوں کی کمرتوڑدی گئی ہے باقی رہ جانیوالے دہشت گردوں کوبھی جلد کیفرکردار تک پہنچائیں گے ۔دریں اثناء سینئر صحافی عمر قریشی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک نوجوان لڑکے کی تصویر شیئر کی ہے جس کے ہاتھ میں پستول اور دائیں بائیں بھی اسلحہ پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ یہ تصویر داعش کی طرف سے جاری کی گئی ہے اور یہ شخص وہی دہشتگرد ہے جس نے جمعۃ الوداع کے روز کوئٹہ میں آئی جی آفس کے سامنے دھماکہ کیا تھا۔ دہشتگرد تنظیم داعش کی جانب سے جاری بیان میں اس دہشتگرد کا نام ابو عثمان خراسانی بتایا گیا ہے۔ادھر افطار سے کچھ وقت پہلے پارا چنار کے طوری بازار میں جب لوگ افطاری اورعید کی خریداری میں مصروف تھے کہ ایک ہلکی نوعیت کا دھماکا ہوا ،جس کے باعث وہاں اور آس پاس کی مارکیٹوں میں موجود جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے ابھی وہ حالات و واقعات کا جائزہ ہی لے رہے تھے کہ ایک اور شدید نوعیت کا خود کش دھماکہ ہو گیا جس کی آواز 10کلو میٹر دور تک سنائی دی،جس سے ہرطرف تباہی مچ گئی اور اکبر خان نامی مارکیٹ میں اس سے آگ لگ گئی ،جس کے نتیجہ میں 35 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ100کے زائد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے30سے زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشنا ک ہے جبکہ شہادتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہے ہے۔دھماکے سے طوری بازار قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہا تھا ،ہر طرف زخمیوں کی چیخ و پکار دلوں کو دہلا رہی تھی ،مقامی لوگو اپنی مدد آپ کے تحت طوری بازار سے زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کیلئے بھاگ دوڑ کرتے نظر آئے جبکہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج ،فرنٹیئر کور ،پولیس اور دیگر امدادی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور دھماکے میں شہید اور زخمی ہونیوالے افراد کو ہسپتال پہنچایا ، ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے ،جبکہ سکیورٹی فورسز نے بھی جائے حادثہ کی جگہ کو گھیرے میں لیتے ہوئے ابتدائی طور پر امدای کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔صدرمملکت نے کوئٹہ اورپارا چنار میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا اور کہا پوری قوم پرعزم ہوکر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دے گی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی کوئٹہ اور پارا چنار میں دھماکوں شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہیں ۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی،سپیکر وقمی اسمبلی ایاز صادق ،وزرائے ا علیٰ شہبازشریف ، مراد علی شاہ ، پرویز خٹک ، وزیر اطلاعا ت مریم اورنگزیب ، آصف علی زرداری ، عمران خان اور دیگر سیاسی و مذہبی قیادت نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا ہے اور کہا ہے بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو کمزورنہیں کر سکتیں اتحاد اور اتفاق کی قومت سے دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گے ۔

کوئٹہ ، پارا چنار دھماکے

اسلا م آ با د،راولپنڈی (ما نیٹر نگ ڈیسک)وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ اور پا را چنا ر میں دہشت گرد حملو ں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں معصوم انسانوں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی بزدلی کی بدترین مثال ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے پوری قوم پرعزم ہوکر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دے گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں سنگین جرم میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کیلئے کوئی کسراٹھانہ رکھیں۔ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ہرصورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین طبی سہولیات فوری مہیاکی جائیں، دہشت گرد کسی طور قابل رحم نہیں ، انہیں ہر صورت انجام تک پہنچائیں گے۔علاوہ ازیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے دشمنوں کو قوم کی خوشیاں چھیننے نہیں دیں گے، ملک بھر میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر ) کے مطابق ملک بھر میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے حوالے سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے دشمن بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے قوم کی خوشیاں چھیننے کی کوششیں کر رہا ہے، دشمن کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ملک بھر میں سکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا ہے جبکہ خفیہ اطلاعات پر ملک بھر میں سرچ آپریشن شروع کردئیے گئے ہیں۔قوم کے حوصلے بلند ہیں اور انہی بلند حوصلوں کی بنیادپر دشمن کو شکست دیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -