ہار کے بعد بالآخر زبان کھول دی

ہار کے بعد بالآخر زبان کھول دی
 ہار کے بعد بالآخر زبان کھول دی

  

پورٹ آف سپین (مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی کرکٹ ٹیم چیمپئنز ٹرافی کے بعد سے مختلف تنازعات میں گھر چکی ہے۔ پاکستان کیخلاف فائنل ہارنے کے بعد جہاں ہیڈ کوچ انیل کمبلے اپنا عہدہ چھوڑ چکے ہیں تو ہیں سابق کھلاڑیوں نے اس تمام معاملے کا ذمہ دار ویرات کوہلی کو قرار دیتے ہوئے ان کی کپتانی پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔خیال رہے کہ انیل کمبلے نے گزشتہ دنوں بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں ویرات کوہلی کے ساتھ کام کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ دوسری جانب ویرات کوہلی اس معاملے کو کبھی میڈیا کے سامنے نہیں لائے تھے، تاہم کمبلے کی جانب سے بیان بازی کے بعد انہوں نے بالاخر اپنی زبان کھول دی ہے۔انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ وہ سابق کھلاڑی کی حیثیت سے انیل کمبلے کی بہت عزت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ہیڈ کوچ کا عہدہ چھوڑنے کے فیصلے کا بھی احترام کرتے ہیں۔ انیل کمبلے کے ساتھ چپقلش کے بارے میں بات کرتے ہوئے ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ انہوں نے چیمپئنز ٹرافی کے دوران تقریباً 11 بار پریس کانفرنسز کیں اور میڈیا کا سامنا کیا لیکن ڈریسنگ روم کی خبریں کبھی باہر نہیں لائے۔ویرات کوہلی نے کہا کہ کھلاڑی ہونے کی حیثیت سے انیل کمبلے نے جو خدمات سرانجام دیں اور جو فتوحات سمیٹیں وہ ان کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، وہ ہمیشہ ان کی عزت کرتے رہیں گے۔ جب ایک صحافی نے ان سے انیل کمبلے کے ساتھ جھگڑے کی خبروں کے بارے میں سوال پوچھا تو ویرات کوہلی نے اس کا بھی گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ جیسا میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ کپتان ہونے کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ میں ڈریسنگ روم کے ماحول کو خوشگوار رکھوں اور بگڑنے نہ دوں۔ ڈریسنگ روم میں کیا ہوتا رہا؟ میں اسے عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتا۔دوسری جانب ایک انڈین نیوز ویب سائٹ کے مطابق انیل کمبلے نے چمپئنز ٹرافی کا فائنل ہارنے کے بعد ڈریسنگ روم میں ایک کھلاڑی کو بہت برا بھلا کہا تھا۔ خبریں ہیں کہ کمبلے اپنی ٹیم کی شکست سے خاصے مایوس تھے۔ بی سی سی ا?ئی کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ فائنل کے بعد کمبلے نے ایک کھلاڑی کو ڈانٹا تھا جو مناسب نہیں تھا۔ ایسی بھی خبریں ا?ئی ہیں کہ کمبلے ٹیم کے کھلاڑیوں کو بچوں کی طرح ڈانٹتے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کمبلے اور ویرات کے درمیان گزشتہ چھ ماہ میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

مزید :

صفحہ اول -