کھنکتی چوڑیوں، مہندی کے سٹالز سے عید کے رنگ دوبالا، سویوں پھینیوں، مٹھائی کی فروخت

کھنکتی چوڑیوں، مہندی کے سٹالز سے عید کے رنگ دوبالا، سویوں پھینیوں، مٹھائی کی ...

  

ملتان،رحیم یار خان(جنرل رپورٹر،سٹی رپورٹر) عید الفطر کی آمد محض چند روز کی دوری پر ہے لیکن اس کے رنگ اس وقت پورے جوبن پر ہیں جگہ جگہ سویوں ، پھینیوں کے سٹالز لگ گئے ہیں بیکری مالکان نے مٹھائیوں کی تیاری شروع کرنے کیساتھ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور معیار میں کمی کر دی ہے چوڑیوں اور مہندی کے سٹالز نے عید کی رونقیں دوبالا کردی ہیں تفصیل کیمطابق عید کی آمد کے پیش نظر شہر میں جگہ جگہ سویاں اور پھینیاں فروخت کرنے والوں کے سٹال لگ گئے۔ شہریوں کی جانب سے پھینیوں میں دلچسپی کے باعث دکانداروں نے ریٹ بھی بڑھادےئے ہیں ۔رمضان المبارک سے قبل پھینیاں200روپے کلو فروخت ہورہی تھی ماہ مقدس میں ان کی قیمتیں بڑھا کر 280روپے تک پہنچادی گئی مگر اب عید الفطر کے موقع پر ایک بار پھر قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے320روپے کلو تک فروخت کی جارہی ہے ۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ صرف رمضان بازاروں میں کارروائیوں تک محدود ہیں جس کی وجہ سے شہر میں مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے شہریوں نے خود ساختہ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے اس طرف بھی توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ میٹھی عید پر مٹھائی کی مانگ بڑھنے کی وجہ سے بیکری مالکان نے مٹھائیوں کی تیاری 3روز قبل ہی شروع کردی ۔ شہریوں کی جانب سے مٹھائیوں کے تحفے دےئے جانے کے باعث قیمتوں میں ہوشربااضافہ اور معیار میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں مضر صحت‘ غیر معیار یور ملاوٹ شدہ اشیاء سے مٹھائیاں ‘کیک اور دیگر بیکری آئٹمز تیار کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ہرسال متعدد افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ جاتے ہیں مگر محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ ان دکاندار وں سے مال پانی کے نام پر یہی مضر صحت مٹھائیاں لے کر خاموش اختیار کرلیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان مٹھائیوں میں گندے انڈے‘ انتہائی ناقص میدہ‘ سکرین استعمال کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے کھاتے ہی لوگ پیٹ اور معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب‘ سیکرٹری صحت اور ضلعی انتظامیہ سے مضر صحت اور ملاوٹ شدہ مٹھائیاں تیار کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مہندی کی خوشبواورکھنکتی چوڑیاں عیدکوچارچاندلگادیتی ہیں۔ چوڑیوں میں میناکاری،مہندی میں مصری اور عربی ڈیزائن خواتین میں مقبول ہیں‘اسی لئے عید قریب آتے ہی رنگ برنگی سٹائلش چوڑیوں کے سٹالز سے بازار اور شاپنگ مالز بھر گئے ہیں جہاں رات گئے تک خواتین کا رش لگا رہتا ہے۔اگرچہ سٹائلش چوڑیاں بھی بازاروں میں موجود ہیں لیکن کانچ کی چوڑیاں ہر عمر اور دور میں خواتین کو بھاتی ہیں اور ہیرے کی مانند پرکشش دکھائی دیتی ہیں۔ مہندی کے بغیرعید کارنگ بھلا کیسے چڑھ سکتاہے۔بازاروں میں چوڑیوں کے ساتھ مہندی کے تھال بھی سج چکے ہیں۔ سادہ، مینا کاری، گلیٹر، کندن اور جڑاوں ر نگوں والی دلفریب چوڑیاں خواتین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔اس سلسلہ میں بازارمیں خریدارخاتون عائشہ کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پرپر مہندی اور چوڑیوں کے ریٹ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ ہی، بیوٹی پارلروں میں مہندی لگوانے کے ریٹ بھی بڑھ گئے ہیں۔ عام دنوں میں سادہ چوڑی 30 روپے درجن فروخت ہوتی ہے ‘خریدار خاتون نسرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی عید کی تیاری مہندی لگوانے اور چوڑیاں پہنے بغیر ادھوری ہے۔مومنہ کا کہناہے کہ چوڑیاں اور مہندی عید کا لازمی جزو ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -