اوورسیز پاکستانی ہیرو ہیں، مراعات دی جائیں،میاں زاہد

اوورسیز پاکستانی ہیرو ہیں، مراعات دی جائیں،میاں زاہد

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہدیار غیر میں مقیم پاکستانی ہمارے ہیرو ہیں، انھیں مراعات، ترغیبات اور دیگر حقوق دے کر قومی دہارے میں شامل کیا جائے تاکہ ملکی ترقی میں انکا کردار بڑھایا جا سکے۔برآمدات کے بعد ترسیلات ہی ہماری آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ اورسماجی ترقی کا اہم سبب ہیں جن کا حصہ جی ڈی پی میں ساڑھے پانچ فیصد ہے۔برآمدات کے زوال کے ساتھ ترسیلات برآمدات سے بڑھ سکتی ہیں جن پر کوئی خرچہ بھی نہیں آتا۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ پالیسی ساز بیرونی امداد کے لئے انتھک کوششوں کے بجائے اس شعبے کو توجہ دیں کیونکہ سالانہ سترہ ارب ڈالر بھیجنے والے نہ شرائط لگاتے ہیں اور نہ جواب میں کچھ مانگتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو سالانہ اربوں ڈالر بطور سود ادا کیئے جا رہے ہیں جو معیشت کے لئے ناقابل برداشت ہے اسلئے قرض ادا کرنے کے لئے مزید قرض لیا جاتا ہے جس کا حل ترسیلات میں موجود ہے جودائمی ،بین الاقوامی اتار چڑھاؤ یا پابندیوں ، بد انتظامی اورکرپشن وغیرہ کے اثرات سے زیادہ متاثر نہیں ہوتیں۔قطر میں مقیم پاکستانی بھی سالانہ سترہ سے اٹھارہ ملین ڈالر پاکستان بھجواتے ہیں جو کل ترسیلات کا دو فیصد ہیں مگر موجود بحران سے ترسیلات میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر قانونی ذرائع سے ترسیلات بھجوانے کے عمل کو سہل بنایا جائے تو ملک کی مالی مشکلات میں زبردست کمی آ سکتی ہے۔ امن و امان، توانائی بحران اور معاشی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے مگر اب بھی کئی غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں مگر اگر اوورسیز اثاثوں کا استعمال کیا جائے تو معیشت کا ہر شعبہ ترقی کرے گا جس سے بے روزگاری اور بیرونی امداد پر انحصار کم ہو گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -