اے این پی روز اول سے بلا امتیاز احتساب کے حق میں ہے :سردار حسین بابک

اے این پی روز اول سے بلا امتیاز احتساب کے حق میں ہے :سردار حسین بابک

  

پشاور(سٹاف رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی روز اول سے بلا امتیاز و بلا تفریق احتساب کے حق میں ہے اور چاہتی ہے کہ شفاف انداز میں احتساب ہونا چاہئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی سینیٹر ستارہ آیاز کے خلاف احتساب کمیشن کے حوالے سے چھپنے والی خبروں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ متذکرہ صوبائی احتسابی ادارہ خود گزشتہ دو سال سے قانونی و آئینی بے ضابطگیوں کا شکار ہے اور ذاتیات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے جبکہ گزشتہ چار سال سے صوبائی حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود اے این پی کے کسی وزیر، رکن اسمبلی یا سینیٹر کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت سامنے نہیں لاسکی۔ انہوں نے کہا کہ عید الفطر کے بعد باضابطہ طور پر انتخابی مہم شروع ہونے جارہی ہے اور صوبائی حکومت یہ بات جان چکی ہے کہ اے این پی اس صوبے کی منظم اور مضبوط قوت ہے لہٰذا سینیٹر ستارہ آیاز کے خلاف سیاسی انتقامی کاروائی اے این پی کی ساکھ کو مجروح کرنے کی ناکام کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی منتخب شخصیت یا کسی بھی فرد کے خلاف اگر کسی احتسابی ادارے کو کوئی شکایت موصول ہوئی ہو یا اس کے خلاف ثبوت ہو تو کردار کشی اور میڈیا ٹرائیل کے بغیر بھی شفاف احتساب ہو سکتا ہے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت کے خلاف کرپشن، بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کئی کیسز احتساب کمیشن میں موجود ہیں جن پر آج تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے خلاف یہ پروپیگنڈا اپنی کرپشن کی فائلیں چھپانے کے لیے کیاجارہا ہے البتہ اے این پی اس بات کا حق محفوظ رکھتی ہے کہ پارٹی اور اس کی ذمہ دار شخصیت کی ساکھ کو ارادتاً نقصان پہنچانے پر عدالت سے رجوع کر سکے۔ انہوں نے کہاکہ متنازع اور بے ضابطگیوں کا شکار احتساب کمیشن کو باز آنا چاہئے۔ بنی گالہ سرکار گزشتہ چار سال میں اے این پی کے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہ ہونے پر سیخ پا ہے لہٰذا احتساب کمیشن کے ایک ذمہ دارکو رمضان المبارک میں بنی گالہ کی یاترا کے دوران اے این پی کے خلاف میڈیا ٹرائل کا دوبارہ حکم دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری اور عوامی لوگ ہیں اور اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں بلکہ ہم سوالوں کے جواب دینا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذاتیات پر اترنے کی بجائے تمام ادارے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر احتساب کمیشن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ مذکورہ کمیشن میں بھرتی ہونے والے افراد اور اس کے قوانین میں جو سقم موجود ہے بذات خود ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کمزور نہ سمجھا جائے اور الزامات و پگڑیاں اچھالنے کا یہ عمل اب ختم ہونا چاہئیے۔ صوبائی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت تمام محکموں میں بڑے پیمانے پر اپنی کرپشن کی فائلیں حکومتی اختیارات کی بنیاد پر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ احتساب کمیشن کا یہ ڈرامہ اسی چار سالہ کرپشن کو چھپانے کے لیے رچھایا گیا ہے تاہم نیا ڈرامہ بھی گزشتہ سال والے ڈرامے کی طرح بدترین طریقے سے فلاپ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 2018الیکشن کا سال ہے اور اس طرح کے ڈراموں سے عوام کو مزید ورغلایا نہیں جا سکتا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -