وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔دسویں قسط

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔دسویں قسط
وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔دسویں قسط

  

ٹریفک بلاک کی وجہ سے بسیں رکی ہوئی تھیں نہ جانے وہ بے چارے کتنی دیر سے بس کا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے تو میں نے سوچا گزر جاؤں پھر میں نے بریک پر پاؤں رکھ دیا۔ گاڑی ان کے قریب جا کر رک گئی۔ شام کا دھندلکا پھیلنے لگا تھا لیکن ابھی روشنی تھی۔ برقع میں ملبوس عورت جلدی سے آگے بڑھی کھڑکی پر جھک کر بولی۔

’’آپ کی مہربانی ہوگی اگر مجھے لفٹ دے دیں۔ ہم کافی دیر سے انتظار کر رہے ہیں لیکن پتہ نہیں بسیں کیوں نہیں آرہیں؟‘‘ وہ خاصی پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ آدمی ایک طرف کھڑا رہا۔ نقاب اس نے چہرے کے گرد اس طرح لپٹا ہوا تھا کہ اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ بڑی بڑی جھیل سی آنکھوں میں عجیب سا سحر تھا۔ جیسے ہی میں نے اس کی طرف دیکھا بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔

’’کوئی بات نہیں آپ جہاں کہیں میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘ نہ جانے اس کی آنکھوں میں کیسا جادو تھا کہ میں انکار نہ کر سکا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر پچھلا دروازہ کھولنا چاہا تاکہ وہ دونوں بیٹھ سکیں کہ اس نے پیچھے مڑ کر اس آدمی سے کہا۔

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔نویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’تم جاؤ‘‘ وہ آدمی خاموشی سے واپس چلا پڑا۔ پھر وہ مڑی اور اطمینان سے اگلا دروازہ کھول کر میرے برابر بیٹھ گئی۔ اس نے کوئی بہت اعلیٰ قسم کا پرفیوم لگایا ہوا تھا گاری مسحور کن خوشبو سے مہک اٹھی۔ میں نے ایک لمبا سانس لے کر اس مہک کو اندر اتارا میرا سارا وجود معطر ہوگیا۔ مسحور کن خوشبو نے واقعی مسحور کر دیا تھا۔ لیکن اندر سے میں بری طرح پچھتا رہا تھا کہ کیوں گاڑی روکی؟ اکیلی عورت تھی اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ اکیلی میرے ساتھ سفر کرے گی تو میں کبھی گاڑی نہ روکتا۔ لیکن جو ہونا تھا وہ توہو چکا تھا میں نے گاڑی کو آگے بڑھایا۔

’’یہاں سے بیس پچیس میل دور میرا گاؤں ہے آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ نے گاڑی روک دی میں تقریباً دو گھنٹے سے کھڑی انتظار کر رہی ہوں۔ کھڑے کھڑے میری تو ٹانگیں تھک گئیں۔‘‘ کافی باتونی معلوم ہوتی تھی حالانکہ میں نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا لیکن اس نے تفصیل بتائی۔

’’کیا نام ہے آپ کے گاؤں کا؟‘‘ میں نے یوں ہی برسبیل تذکرہ پوچھ لیا۔

’’مادھو پور‘‘ اس نے جھٹ جواب دیا اور چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ غیر ارادی طور پر میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو ہٹنا بھول گئی۔ وہ بے پناہ حسین تھی۔ بڑی بڑی سیاہ جھیل سی آنکھیں ، ستواں ناک، ہونٹ جیسے گلاب کی ادھ کھلی کلی۔ اس کی گلابی رنگت اتنی پیاری تھی کہ اس کے چہرے سے نظر ہٹانا مشکل ہو گیا تھا۔ ایسا حسن صرف کتابوں میں پڑھا۔ یا قصے کہانیوں میں سنا تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر سڑک کی طرف دیکھا۔ اس نے میری کیفیت کو محسوس کر لیا تھا۔ دل آویز مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر چھا گئی۔ میں نے کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھا وہ میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ جسم کا سارا خون سمٹ کر میرے چہرے پر آگیا۔تھوڑی دیر پہلے میں سوچ رہا تھا اسے گاڑی میں بٹھا کر میں نے غلطی کی ہے اب میرے ہوش و حواس کام نہیں کر رہے تھے۔ نہ تو میں کوئی دل پھینک قسم کا انسان ہوں اور نہ آوارہ کہ کسی لڑکی کو دیکھ کر میری نیت خراب ہو جائے لیکن وہ اتنی حسین تھی کہ اگرمیں مکمل طور پر اس کی تعریف بیان کروں تو شاید الفاظ میرا ساتھ نہ دیں اور پڑھنے والوں کو مبالغہ آمیزی لگے۔

’’آپ کہاں جارہے ہیں؟‘‘اس کی مدھر آواز گاڑی میں گونجی۔ میں نے اپنے شہر کا نام بتایا۔

’’وہاں تو میرے چچارہتے ہیں آپ کا گھر کہاں ہے؟ میں نے کافی عرصہ اس شہر میں گزارا ہے۔ وہاں کی ایک ایک گلی محلے کو اچھی طرح جانتی ہوں‘‘ اس نے پلکوں کی جھالر اٹھا کر میرے دل پر بجلی گرائی۔

’’لیکن میں نہیں جانتا‘‘ بمشکل میں اس کے حسین چہرے سے نظریں ہٹا پایا۔

’’کیا مطلب؟‘‘ بڑی بڑی حسین آنکھوں میں حیرت در آئی۔ ایک تو اس کا حسن مجھے بے قرار کر رہا تھا اس پر اس کے جسم سے اٹھتی خوشبو اور آواز بھی اس کی بہت مدھر تھی۔ اس میں کسی کو بھی دیوانہ بنانے کی پوری صلاحیت موجود تھی۔

’’دراصل میں حال ہی میں لاہور سے اس علاقے میں شفٹ ہوا ہوں۔ ابھی شہر سے میری کوئی خاص واقفیت نہیں ہوئی۔ ہاں اتنا جانتاہوں کہ میرے گھر سے ذرا آگے ایک بہت خوبصورت پارک واقع ہے جسے ’’لیڈی باغ‘‘کہتے ہیں۔ میں بہانے ہانے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اب مجھے اس سے باتیں کرنے میں مزا آرہا تھا۔ کبھی بات کرنے کے بہانے اور کبھی اس سے کوئی بات پوچھنے کے بہانے میں اس کے حسین چہرے پر ایک نظر ڈال لیتا تھا۔

’’اچھا تو آپ’’سعود آباد‘‘ میں رہتے ہیں کسی زمانے میں یہاں ایک شمشان گھاٹ ہوا کرتا تھا‘‘ اسنے میرے علم میں اضافہ کیا۔’’یہ ساری آبادی ہندوؤں کی تھی میرا مطلب ہے یہاں ہندو آباد تھے۔ تقسیم کے بعد کافی لوگ تو ہندوستان چلے گئے جو رہ گئے ان کو بھی وہاں سے آنے والے مسلمانوں نے یہاں سے نکال دیا۔ ان کے گھر چھین لیے۔ بہت سوں کوقتل کر دیا ان میں سے وہی لوگ بچ پائے جو یہاں سے فرارہوگئے تھے۔‘‘ اس کی آواز میں عجیب سا درد امڈ آیا۔ حسن سوگوار ہوگیا تھا۔

’’تمہیں یہ سب باتیں کس نے بتائیں؟ میرا مطلب ہے تم تو تقسیم کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئی ہوگی‘‘ میں نے کہا۔

’’میں اتنی بھی کم عمر نہیں ہوں‘‘ وہ کھکھلا کر ہنسی۔

’’اچھا تو تم تقسیم کے وقت موجود تھیں۔‘‘ میں نے بھی ہنس کرکہا۔

’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘اس نے ایک ادا سے چہرے پرآئی بالوں کی لٹک وجھٹکا دیا۔

’’فاروق خان۔۔۔ تمہارا؟‘‘ میں نے اپنانام بتاکر اس سے پوچھا۔

’’چمپا۔۔۔کیا یہ نام مجھ پر جچتا ہے؟‘‘ اسنے عجیب ساسوال کیا۔

’’بالکل تم تو اسم با مسمیٰ ہو۔ بلکہ پھول بھی تمہیں دیکھ لے تو شرما جائے۔‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ۔ میں نے چورنظروں سے اپنی بات کا ردعمل دیکھنے کے لیے اس کی طرف دیکھا تو وہ بڑی والہانہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

’’یونہی مجھے بنا رہے ہیں۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔

’’تم تو قدرت کی صناعی کا کامل شاہکار ہو تمہیں مالک کائنات نے اتنا خوبصورت بنایا ہے کہ جواب نہیں۔‘‘ الفاظ خود میری زبان سے ادا ہو رہے تھے۔ میری بات سن کر اسکی آنکھوں میں وارفتگی بڑھ گئی۔

’’آپ بھی کچھ کم خوبصورت نہیں‘‘ حیا سے اس کاچہرہ گلنار ہوگیا۔

اب ہم برسوں پرانے دوستوں کی طرح بے تکلفی سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کر دی تھی۔ مقصد زیادہ سے زیادہ وقت اس کی معیت میں گزارناتھا۔ میرے ان جذبوں میں ارادے کا کوئی دخل نہ تھا۔ نہ جانے میں اسے دیکھ کر کیوں بے خود ہوا جا رہا تھا۔ اسے خود ستائشی نہ سمجھا جائے تو میں کہوں گاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دل کھول کر وجاہت عطا فرمائی ہے۔ میں جہاں بھی جاتا کواتین کی نظریں میرا طواف کرتیں۔ صائمہ تو اکثر میری نظر اتارا کرتی۔

’’گاڑی دائیں طرف موڑ لیجئے۔‘‘ اس کی آواز مجھے خیالوں سے باہر کھینچ لائی۔ میں نے دیکھا سڑک کے دائیں طرف ایک کچا راستہ جا رہا تھا۔ گاری کی رفتار آہستہ کرکے میں نے اسکے بتائے ہوئے راستے پر موڑ دیا۔ کہاں تو مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی اور اب مجھے کسی بات کا ہوش نہ تھا۔

اوائل سردیوں کا موسم تھا ہوا میں ہلکی ہلکی سی خنکی شروع ہو چکی تھی۔ میں نے گاڑی کے شیشے بند کر دیئے۔ اس نے اپنا پرس کھول کر اس میں سے ایک کیسٹ نکالی اور گاڑی میں لگے سٹیریوں میں لگا دی۔ یہ سب کچھ اس نے اتنی اپنائیت سے کیا کہ میں اسے ٹوک بھی نہ سکا۔ لتا کی مدھر آوازگاڑی میں گونجنے لگی۔ گانا تو مجھے یاد نہیں کچھ عشقیہ قسم کا تھا۔ اسکا کافر اداحسن اس پر لتا کی رسیلی آواز مجھ پر اس ماحول کا جادو چھا گیا۔ اچانک اس نے سٹیرنگ پر رکھے میرے ہاتھ پر اپنانرم نازک ہاتھ رکھ دیا۔ اس کی انگلی میں ہیرے کی قیمتی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا سحر کارآنکھوں کی کشش نے مجھے جکڑ لیا۔ میراپاؤں بے اختیار بریک پرچلا گیا۔ اسکے گداز اور گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹوں پر بڑی دل آویز مسکراہٹ تھی۔ میں جیسے اسکی جھیل سی آنکھوں میں ڈوب گیا۔ ہم دنیا ومافیا سے بے خبر ایک دوسرے میں کھو سے گئے۔ پھر اس کی خمار آلود مدھر آواز آئی۔

’’بابو! تو نے تو پل بھرمیں موہے دیوانہ بنادیا۔۔۔نہ میں تو ہے جانوں نہ تو موہے، پرنتویوں لاگے ہے جیسے ہم جنم جنم سے ایک دوجے کو جانت ہیں۔‘‘

میں اسکی آواز کے سحرمیں کھو گیا۔ تھوری دیر پہلے وہ بڑی شستہ اردو بول رہی تھی اب عجیب سے لہجے اور زبان میں بات کرنے لگی۔ لیکن میں اسے بھی اسکی کوئی ادا سمجھا اور اس وقت کس کمبخت کو ان باتوں کا ہوش تھا۔ بڑی بڑی حسین آنکھوں میں پیار کا ساغر ہلکورے لے رہا تھا۔ آنکھیں کیا تھیں مے سے بھرے دوپیالے تھے۔ مجھ پر نشہ سا چھانے لگا۔ حسین چہرہ میرے چہرے کے قریب ہوگیا۔ اس کی گرم سانسں اور قرب نے مجھ سے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں چھین لیں۔ قریب تھا گلاب کی ان پنکھڑیوں سے میرے لب چھو جاتے۔

’’اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر‘‘

اچانک قریبی مسجد سے آذان کی آواز آئی۔ وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ میں بھی جیسے سحر سے آزاد ہوگیا۔ چونک کر اردگرد دیکھا ۔ رات کی تاریکی پوری طرح پر پھیلا چکی تھی۔ چمپا چہرہ دوسری طرف کیے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ میں جیسے نیند سے جاگ گیا۔ خود سے شرمسار تھا۔

اللہ کی بڑائی بیان کی جا رہی تھی’’اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔‘‘

’’حی الصلاح ۔۔۔حی افلاح‘‘ لوگوں کو نماز اور فلاح کی طرف بلایا جا رہا تھا۔’’آؤ نماز کی طرف ۔۔۔آؤ بھلائی کی طرف‘‘

میں نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور کچے راستے پر چل پڑا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ چمپا بالکل خاموش بیٹھی تھی اور میرے پا س بھی کہنے کو کچھ نہ تھا۔ گاڑی میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ راستہ کچا اور اونچا نیچا تھا۔ سڑک کی دونوں اطراف کھیت تھے جن میں فصل لہلہا رہی تھی۔ جی تو چاہ رہا تھا اسے یہیں اتار کر اپنی راہ لوں لیکن ضمیر نے گوارہ نہ کیا رات کی تاریکی اور تنہائی میں اسے کس کے سہارے چھوڑتا۔۔۔؟ بادل نخواستہ گاڑی اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلاتا رہا ۔ آگے سے کچا راستہ بائیں جانب طرف مڑ رہا تھا۔ اچانک موڑ پر تیز روشنی دکھائی دی۔ شاید سامنے سے کوئی گاڑی آرہی تھی۔ راستے کی چوڑائی اتنی نہ تھی کہ بیک وقت دو گاڑیاں اس پر گزر سکتیں۔ موڑ سے ذرا پہلے میں نے گاڑی روک دی اور انتظار کرنے لگا کہ سامنے سے آنے والی گاڑی گزر جائے۔ گاری اب موڑ مڑ کر سامنے آگئی تھی۔ اچانک اس کی چھت پر لگی سرچ لائٹ جلنے بجھنے لگی۔ ساتھ ہی گاڑی سے سائرن کی آواز سے چند سپاہی باہر نکلے جن کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا۔ انہوں نے اترکر میری گاڑی کو گھیر لیا۔ پولیس وین کی اگلی سیٹ سے ایک باوردی پولیس والا اترا اور کرخت آواز میں مجھے گاڑی سے نیچے اترنے کے لئے کہا۔ میرا دل تیز تیز دکھڑکنے لگا۔ میں نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا اور سر باہر نکال کر اس سے پوچھا۔

’’کیا بات ہے انسپکٹر صاحب؟‘‘

’’بات کے بچے ! تو نے سنا نہیں صاحب نے کیا کہا ہے؟‘‘ سپاہی جس نے مجھ پر گن تان رکھی تھی گرج کر بولا۔ غصہ تو مجھے بہت آیا لیکن میں ضبط کیے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آگیا۔ جیسے ہی میں نیچے اترا دوسری طرف کا دروازہ کھول کر چمپا بھی گاڑی سے نکل آئی۔ کندھے پر لگے اسٹارز سے انسپکٹر نظر آنے والے آفیسر نے اپنی گاڑی کی طرف دیکھ کر کسی کو پکارا۔

’’رام داس باہر آؤ۔‘‘ ڈبل کیبن پولیس موبائل کا پچھلا دروازہ کھلا اور دھوتی کرتے میں ملبوس ایک شخص نیچے اتر آیا۔ میں حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جیسے ہی وہ شخص باہر آیا چمپا تیر کی طرح اس کی طرف لپکی اور ’’باپو‘‘ کہہ کر اس کے گلے لگ گئی۔

’’باپو ! یہ دھشٹ (ظالم) موہے پھریب(فریب) سے اپنی موٹر میں بٹھا کر لایا ہے کہے تھا منے تہار باپو نے بھیجا ہے تو کے لانے واسطے‘‘(ابو یہ ظالم دھوکے سے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر لایا ہے کہہ رہا تھا کہ مجھے تمہارے والد نے بھیجا ہے تمہیں لانے کے لیے) وہ سسکیاں لینے لگی۔ میں بری طرح چونک گیا۔

’’یہ کیا کہہ رہی ہو چمپا! تم نے خو دہی تو مجھے کہا تھا کہ شام ہونے کو ہے اور کوئی بس وغیرہ نہیں آرہی۔ برائے مہربانی مجھے میرے گھر پہنچا دو‘‘ حیرت سے میری عقل گم تھی۔ ’’انسپکٹر! صاحب میں سچ کہہ رہا ہوں۔ میں ملتان سے آرہا تھا کہ اس لڑکی کو ایک آدمی کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے دیکھا۔ انہوں نے مجھے ہاتھ دے کر روکا اور لفٹ کے لیے کہا۔ دراصل آج ملتان میں کسی مذہبی تنظیم نے جلوس نکالا تھا اس لئے ٹریفک بلاک ہوگیا۔ بسیں نہیں آرہی تھیں میں نے تو انسانی ہمددی کے ناطے گاڑی ان کے لئے روک دی تھی۔ اس لڑکی نے اس آدمی کو جانے کے لیے کہا اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں اسے اس کے گاؤں پہنچا دوں جو یہاں سے بیس پچیس میل دور ہے۔ میں نے اس بات کے پیش نظر کہ اکیلی لڑکی ہے اور شام کا وقت ہے نہ جانے اور کتنی دیر بس نہ آئے گاڑی میں بٹھا لیا۔ میں ایک معزز اور پڑھا لکھا انسان اور مقامی بینک میں بطور منیجر تعینات ہوں‘‘ میں نے جلدی جلدی سارے واقعات انپسکٹر کو بتا دیئے۔ لڑکی بدستور اس آدمی سے چپکی کھڑی تھی جسے اس نے باپو کہا تھا۔

’’تیری تقریر ختم ہوگئی یا ابھی باقی ہے۔‘‘ انسپکڑ کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔’’بچو! یہ تو تھانے چل کر معلوم ہوگا کہ تو کون ہے؟ ہمیں تو کوئی دن سے تیری تلاش تھی۔ بروقت پہنچنے سے تیسری لڑکی قتل ہونے سے بچ گئی ورنہ تو نے اسے بھی عزت لوٹ کر ٹھکانے لگا دیا ہوتا۔‘‘ اس نے طنزیہ انداز سے کہا۔

’’یی۔۔۔یہ۔۔۔آ۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں انسپکڑ صاحب! آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کا قتل کیا ہے‘‘ حیرت اور صدمے سے میں بری طرح بوکھلا گیا۔

’’تیری تو۔۔۔‘‘اس نے ایک نہایت فحش گالی دی ’’چل گاڑی میں بیٹھ، تھانے چل کر تیری ساری کہانی نویسی نکالتا ہوں۔ آج رات تھانے میں گزرے گی تو تُو سب کچھ قبول کر لے گا‘‘ اس نے ایک سپاہی کو اشارہ کیا جس نے مجھے دھکا دے کر گاڑی کی طرف دھکیلا۔ دھکا کھا کر میں گرتے گرتے بچا۔

’’ہے بھگوان تیری بڑی کرپا(مہربانی) تو نے میری پتری کو اس پاپی(گناہ گار) سے بچا لیا۔ نہ جانے یہ دھشٹ میری کومل پتری سنگ کیا کرتا؟ اری مورکھ! تنجھے کونو کہے تھا اس پاپی سنگ موٹر مابیٹھ‘‘ اس نے شکر ادا کرنے کے بعد اپنی بیٹی کو جھڑکا۔ انسپکٹر نے لڑکی اور آدمی کی طرف دیکھا۔

’’تم لوگ بھی صبح تھانے آجانا تمہارا بیان ہوگا۔ اسے تو میں اب ایسی جگہ پہنچاؤں گا کہ یہ ساری زندگی یاد رکھے گا۔ بچو! اب تجھے پھانسی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔‘‘ انسپکٹر نے آخری فقرہ میری طرف دیکھ کر کہا۔

’’چمپا میں نے تمہارے اوپر مہربانی کی ہے اور تم مجھے اس کا یہ صلہ دے رہی ہو۔‘‘ کوئی چارہ نہ پا کر میں نے اس لڑکی کی طرف دیکھا جس نے اپنا نام چمپا بتایا تھا۔ اس نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ایک سپاہی نے میرا کالر پکڑ کر مجھے زوردارجھٹکا دیا۔

’’چل اوئے چمپا کے بچے! تو تو مجھے کوئی عادی مجرم لگتا ہے۔۔۔تیری زبان تو قینچی سے بھی زیادہ تیز چلتی ہے۔۔۔چل ذرا تھانے، تجھے پتا چلے گا۔ کیسے معصوم لڑکیوں کی عزت لوٹ کر انہیں قتل کیا جاتا ہے؟‘‘ اس نے مجھے زور سے گاری کی طرف دھکا دیا۔

’’دیکھیں! آپ لوگ میری بات سنیں میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔‘‘ ابھی میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ میرے سر کے پچھلے حصے پر شدید ضرب لگی اور میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید :

رادھا -