فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 129

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 129
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 129

  

گڈو کیلئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ اس پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ زینب اس کو بتاتی ہے کہ ایک دولت مند عورت تمہیں میرے پاس لے کر آئی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ تم لاوارث ہو۔ اسے تم سے لگاؤ تھا اس لیے کچھ عرصہ تمہارے اخراجات ادا کرتی رہی۔ مگر جب اس کی شادی ہوگئی تو وہ پردیس چلی گئی اور اس کے بعد اس کے بھائی نے تمہارا خرچہ دینے سے انکار کردیا۔ اس کے باوجود میں نے تمہیں اپنے ہی بچے کی طرح پالا ہے۔ تمہارے اور اپنے بیٹے کے درمیان کبھی کوئی فرق نہیں سمجھا۔ اب تم بھی اسے اپنا بھائی ہی سمجھنا۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 128 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

زینب یہ راز بتا کر مرجاتی ہے۔ مگر گڈو (جمیل) کیلئے ذہنی عذاب کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ یہ احساس کہ وہ خدا جانے کس کا بیٹا ہے؟ اس کے ماں باپ کون ہیں اور کہاں ہیں؟ انہوں نے اس کی پرورش کیوں نہیں کی، دوسروں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا؟ ان ذہنی الجھنوں کی وجہ سے وہ بے حد حساس اور زود رنج ہوجاتا ہے۔ دنیا اور دنیا والوں کے بارے میں اس کے پاس تلخیوں اور شکایتوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وہ کم گو، سنجیدہ اور اپنی ذات میں سمٹا ہوا بچہ ہے جو پالنے والی ماں کے مرنے کے بعد زندہ رہنے کیلئے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم حاصل کرنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ دونوں بھائی مختلف کام کاج کرکے روٹی کماتے ہیں اور گلیوں میں ہی پرورش پاتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ گڈو غلط اور اخلاق سے گرے ہوئے طریقوں کو ناپسند کرتا ہے جب کہ اس کے بھائی کے نزدیک سب جائز ہے۔ گڈو کو تصویریں بنانے کا شوق ہے۔ وہ ایک فلمی پوسٹر بنانے والے پینٹر کا شاگرد ہوجاتا ہے۔ جہاں اسے برائے نام تنخواہ ملتی ہے۔ اس کے برعکس علمو بھیک مانگ کر بہت شاندار زندگی گزارتا ہے۔ یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ کردار ہے۔ وہ گڈو کو برا بھلا کہتا رہتا ہے اور سمجھاتا ہے کہ سارے مہینے محنت کرکے تم جتنا کماتے ہو اتنا تو میں ایک دن میں بھیک مانگ کر کما لیتا ہوں۔ لیکن حد درجہ باہمی پیار اور اخلاص کے باوجود ان دونوں کے مزاجوں کا فرق دور نہ ہوسکا۔

ادھر چند سال کے بعد جب خالدہ اپنے شوہر راشد کے ساتھ وطن واپس آئی تو بے تابی سے بھائی کے پاس پہنچی اور اپنے بچے کے بارے میں دریافت کیا۔ وہ اپنے جگر گوشے سے مل کر اسے آغوش مادر میں لینے کیلئے ترس رہی تھی۔ مگر بھائی کے پاس بنا بنایا بہانہ تیار تھا۔ اس نے سارا الزام زینب پر ڈال دیا اور کہا کہ اچانک ہم سے پیسے لے کر کہیں غائب ہوگئی۔ بہت تلاش کیا مگر کوئی پتا نہیں چل سکا۔ خالدہ نے بہت آہ و زاری کی۔ بھائی کو الزام دیے مگر بے بس تھی۔ صبر کرکے بیٹھ رہی مگر اس کی مامتا کو چین نہ مل سکا۔

وقت گزرتا گیا۔ گڈو اکیس سال کا نوجوان پینٹر بن گیا۔ اس کا بھائی اور دوست قوی اوّل درجے کا بھکاری بن چکا تھا۔ جو سارے دن مختلف بہروپ بدل بدل کر بھیک مانگتا تھا اور شام کو شاندار سوٹ پہن کر بہترین ہوٹلوں میں کھانا کھاتا تھا۔ اس کی انتہائی کوشش کے باوجود گڈو اس کی کمائی میں سے ایک پیسہ بھی لینے کا روادار نہ تھا۔

خالدہ کا شوہر درپن، اس اثنا میں جج بن چکا تھا۔ ان دونوں کی ایک بیٹی (نینی) بھی تھی جو اپنے بھائی کے وجود سے بے خبر تھی۔ جج ایک نیک دل اور شریف النفس آدمی تھا۔ اس نے خالدہ کی ہر طرح دل داری اور ناز برداری کی۔ اور دنیا کی ہر خوشی اس کے قدموں میں ڈھیر کردی مگر خالدہ کے دل سے اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کا داغ نہ مٹ سکا۔ وہ ہر وقت اس کی تلاش اور انتظار ہی میں رہتی تھی۔

اتفاقات نے گڈو کو اپنی سوتیلی بہن کے آمنے سامنے کردیا۔ اس نے ایک روز اسے غنڈوں سے نجات دلا کر اس کے گھر پہنچا دیا۔ باتوں باتوں میں خالدہ کو معلوم ہوگیا کہ گڈو اسی کا گمشدہ بیٹا ہے۔ اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس کابس نہ چلتا تھا کہ نور نظر کو گلے لگالے مگر مجبور تھی۔ اسی رات وہ تصویر خریدنے کے بہانے گڈو کے گھر پہنچ گئی اور اسے بتادیا کہ وہی اس کی ماں ہے۔ لیکن گڈو کو زمانے نے تلخیوں کے سوا کچھ نہیں دیا تھا۔ اس نے ماں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ کیسی بھی مجبوری ہو مگر کوئی ماں اپنے بیٹے کو دنیا کی ٹھوکریں کھانے کیلئے بے رحم زمانے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔ اس نے صاف طور پر خالدہ کو بتا دیا کہ دنیا میں اس کی کوئی ماں نہیں ہے۔ نہ ہی کسی نے اسے جنم دیا ہے۔ وہ ایک خود رو پودا ہے۔

خالدہ نے بہتیری منت سماجت کی۔ پیار سے سمجھایا کہ میں گزرے وقت کی تلافی کردوں گی مگر گڈو کے پاس ایک ہی جواب تھا۔ اس نے کہا ’’کیا آپ میرا کھویا ہوا بچپن واپس دے سکتی ہیں۔ وہ آنسو واپس دے سکتی ہیں جو میں نے ماں کی یاد میں بہائے ہیں۔ وہ دکھ واپس لے سکتی ہیں جو میں آج تک سہتا رہا ہوں‘‘۔

ابھی یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ اسی محلے میں رہنے والی گڈو کی پڑوسن لڑکی تاجی (روزینہ) آگئی۔ وہ گھر کے سامنے ایک شاندار کار دیکھ کر بوکھلا گئی تھی۔ وہ گڈو سے پیار کرتی تھی مگر کبھی اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اکثر اوقات وہ دونوں لڑتے جھگڑتے ہی رہتے تھے۔

تاجی نے گڈو سے پوچھا ’’یہ بیگم صاحبہ یہاں تم سے کیا لینے آئی ہیں؟‘‘

’’یہ مجھ سے مامتا کی تصویر بنوانے آئی ہیں‘‘ گڈو نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔

روزینہ نے کہا ’’تو پھر بنا کر کیوں نہیں دیتے تصویر؟‘‘

گڈو نے جواب دیا ’’جو چیز میں نے کبھی دیکھی ہی نہیں اس کی تصویر کیسے بناسکتا ہوں‘‘۔

پھر اس نے خالدہ سے مخاطب ہوکر کہا ’’بیگم صاحبہ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی خواہش پوری نہیں کرسکتا‘‘۔

خالدہ غمزدہ، مایوس اور اداس ہوگئی۔ اس کے اندر ایک عظیم تبدیلی آگئی تھی۔ وہ خاموش اور کھوئی ہوئی رہنے لگی۔ اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا رہتا تھا۔ وہ گڈو کی محرومیوں اور دکھوں کیلئے خود کو الزام دیتی تھی۔ شوہر نے یہ تبدیلی محسوس کرلی تھی۔ اس نے اس کا سبب جاننے کی کوشش کی مگر خالدہ ٹال گئی۔

اس اثناء میں شیخ صاحب شہر کے ممتاز لیڈر بن چکے تھے اور بڑے عجیب حالات میں ان کی اپنے بھانجے سے ملاقات بھی ہوچکی تھی۔ خالدہ نے گڈو سے ملنے کے بعد ان سے مل کر انہیں برا بھلا کہا تو انہوں نے بڑی سادگی اور خلوص سے جواب دیا کہ دیکھو خالدہ یہ سب کچھ ہم نے تمہاری ہی بھلائی کیلئے کیا ہے اور حالات آج پہلے سے کہیں زیادہ مخدوش ہیں۔یہ راز اپنے سینے میں ہی دفن کردو۔ اگر دنیا کو یہ معلوم ہوگیا تو ذرا سوچو کہ تمہارے شوہر کی کیا عزت باقی رہ جائے گی اور وہ خود تمہارے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا؟ مت بھولو کہ تم ایک جوان بیٹی کی ماں ہو۔ دنیا اس پر انگلیاں اٹھائے گی اور وہ کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے گی۔ یاد رکھو۔ اس راز کو فاش کرنے کا نتیجہ ہم سب کی تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا اور گڈو کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

شیخ صاحب گڈو سے بھی جاکر ملے اور اس کو مشورہ دیا کہ اپنی ماں، بہن اور خاندان کی بھلائی کی خاطر نہ صرف اپنی زبان بند رکھے بلکہ بہتر ہو گاکہ یہ شہر ہی چھوڑ کر چلا جائے۔ انہوں نے اسے کچھ روپیہ بھی پیش کیا جو گڈو نے شکریئے سے واپس کردیا اور ان سے وعدہ کرلیا کہ وہ یہ شہر چھوڑ کر چلا جائے گا۔

گڈو آخری بار اپنی بہن اور ماں سے ملنا چاہتا تھا۔ تلخیوں، غموں اور آلام نے اسے زمانے سے باغی ضرور بنادیا تھا مگر وہ ایک حسّاس اور جذباتی نوجوان تھا۔ اچانک یوں بہن اور ماں کی ملاقات نے اسے انجانی کسک اور جذبوں سے آشنا کردیا تھا۔ اب جو بہن اور ماں سے بچھڑنے کا سوال درمیان میں آیا تو وہ اپنے دل پر قابو نہ پاسکا۔

(جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -