بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی قوم پٹھان کی تاریخ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 64

Jun 24, 2017 | 14:11:PM

سلطنت مالوہ

واضح ہو کہ مالوہ ایک وسیع صوبہ ہے سرسبز ، آباد و شاداب ہمیشہ ذی شان راجاؤں کے زیر حکومت رہا ہے۔ دہلی کی سلاطین میں سب سے پہلے غیاث الدین بلبن نے اس پر قبضہ کیا۔ جب محمد شاہ بن فیروز شاہ تخت نشین ہوا تو جن امراء نے اس کا ساتھ دیا تھا ان میں سے دلاور خان غوری کو مالوہ عطا کیا اور وہ اس صوبہ میں سلطنت کابانی ہوا۔ ۷۹۶ھ کے آغاز دے سلاور خان افغانوں مالوے کی حکومت پر فائز ہوا۔ جب محمد شاہ کے مرنے پر ہندوستان میں بد نظمی پھیلی تو خود مختار بن بیٹھا اور قبائے سلطنت پہن لی۔ پچیس سال کامیاب حکومت کرکے فوت ہوا۔ پھر اس کا بیٹا ہوشنگ شاہ بادشاہ ہوا۔ وہ تیس سال حکومت کرکے فوت ہوا اور سلطان محمود خلجی جو ہوشنگ شاہ کا امیر الامراء تھا۔ ہوشنگ شاہ کی بہن اس سے بیاہی تھی کو بادشاہ بنایا گیا۔ اس نے سلطنت کو وسعت دی۔ بوندی کا علاقہ اور مارواڑ بزور شمشیر فتح کئے۔ تیس سال نہایت ہی کامیاب حکومت کرکے فوت ہوا اور اس کا بیٹا سلطان غیاث الدین بادشاہ ہوا۔ اس نے ۲۴ سال حکومت کی۔ پھر اس کا بیٹا سلطان ناصر الدین بادشاہ ہوا۔ اس نے چودہ سال چار ماہ حکومت کی اور فوت ہونے پر اس کا بیٹا سلطان محمود بادشاہ بنا اور بیس سال حکومت کرکے فوت ہوا۔ پھر سلطان بہادر شاہ مالوے پر حکمران ہوا اور چھ سال حکومت کرکے فوت ہوا۔ پھر ملو قادر شاہ جو سلاطین مالوہ کا جابر امیر تھا کو بادشاہ بنایا گیا اور چھ سال پانچ ماہ حکومت کی۔ اس کے بعد شجاعت خان عرف سجاول کان افغان نے بارہ سال حکومت کی ا ور اس کی وفات پر پھر اسکا بیٹا باز بہادر خان افغان عرف بایزید خان بن شجاعت خان بادشاہ بنا اور دس سال تین ماہ حکومت کی کہ شہنشاہ اکبر کی فوج حملہ آور ہوئی اور سخت جوابی کارروائی کے باوجود مغل فوج کامیاب ہو کر مالوہ پر قابض ہوئی ۔گویا ۷۹۶۱ھ کے آغاز سے ۹۶۷ھ تک کہ ۱۷۱ سال کی مدت ہے۔ مالوہ پر افغانوں کی حکومت قائم رہنے کے بعد اکبر کے ہاتھوں ختم ہوئی۔

بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی قوم پٹھان کی تاریخ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 63 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطنت جونپور

فیصح الدین بلخی اپنی تصنیف تاریخ مگدھ میں سلطنت جونپور کے متعلق لکھتا ہے کہ:

سلطان فیروز شاہ تغلق کے بعد ممالک شرقی پر سلاطین دہلی کا تسلط برائے نام باقی رہ گیا تھا۔ ۷۹۴ ھ میں ناصر الدین محمود بن محمد شاہ تخت نشین ہوا تو اس نے ماہ رجب ۷۹۶ ھ میں ملک سرور(افغان) المقلب بہ خواجہ جہان کو سطلان الشرق کا خطاب دے کر قنوج سے بہار تک تمام صوبوں کی حکومت تفویض کرکے بیس زنجیر فیل اور لشکر گراں کے ساتھ جونپور روانہ کیا۔ ملک الشرق نے تھوڑی ہی مدت میں ان علاقوں کے تمام زمینداروں کو مطیع کر لیا۔ بعض قلعے جو خراب ہو رہے تھے ان کو از سر نو مرمت کرکے درست کر لیا اور ایسی صولت و حشمت حاصل کی کہ اڑیسہ کا راجہ اور سلطان بنگالہ جو سابق دور میں سلطان فیروز کے اپس دہلی پیش کش اور نذریں بھیجا کرتے تھے اب ملک اشرق کے پاس جونپور بھیجنے لگے۔

ملک الشرق نے چھ برس حکومت کرکے ۸۰۲ھ میں انتقال کیا۔ اس کے مرنے پر اس کا بیٹا مبارک شاہ تخت نشین ہوا۔ مبارک شاہ کے مرن پر اس کا بھائی ابراہیم شاہ شخت نشین ہوا۔ اس نے سلطنت کو وسعت دی اور کالپی پر بھی قبضہ کر لیا۔ ابراہیم شاہ شرقی نے چالیس سال حکومت کی۔ اس کے زمانے میں دہلی کی شان و شوکت جاتی رہی تھی اور جونپور کی ایسی عظمت تھی کہ علماء و فضلاء نے جونپور ہی کو مرجع قرار دیا تھا۔ ابراہیم شرقی کے مرنے پر شہزادہ بھیکن کو محمد شاہ کا لقب دے کر تخت نشین کیا گیا اور اس کے مرنے پر اس کا بھائی حسین شاہ تخت نشین ہوا لیکن اس سے اور اس کے بھائی سے اراکین مملکت اور عوام ناخوش تھے لہٰذا سلطان بہلول لودی کے تعاون سے جونپور کی سطلنت مبارک خان لوحانی(افغان کو سپرد ہوئی۔‘‘

صوبہ بہار میں پٹھانوں کی حکومت

فصیح الدین بلخی اپنی تصنیف تاریخ مگدھ میں صوبہ بہار میں پٹھانوں کی حکومت کے عنوان سے لکھتا ہے کہ:

’’مبارک خان لوحانی کے مرنے پر اس کی خدمات کے صلے میں سکندر لودھی نے دریا خان پسر مبارک خاں لوحانی(افغان) کو صوبہ بہار کی حکومت تفویض کی۔ ۹۲۳ھ میں سکندر لودھی کے مرنے پر دہلی میں ابرہیم لودی تخت نشین ہوا۔ اس وقت امراء ذی اقتدار کی صلاح سے یہ امر طے پایا کہ سلطان ابراہم سرحد جونپور تک فرمان روار ہے۔ اس طرف ممالک شرقی میں جلال خان (برادر ابراہیم لودی) حکمرانی کرے لیکن خان جہان لوحانی نے وزراء کو سکت ملامت کی کہ حکومت کو مشترک ٹھہرانا سخت غلطی ہے لہٰذا ارکان دولت نے تلافی مافات کے لئے جلال خان کو حیلے سے دہلی بلوانا چاہا لیکن وہ نہ آیا۔ تب انہوں نے تمام امراء اور حکام کو جن میں دریا خان حاکم ولایت بہار سب سے زیادہ ذی اقتدار تھا اور تیس چالیس ہزار ملازم رکھتا تھا جلال خان کی اطاعت سے باز رکھا۔ جلال خان نے اوّل جونپور کو چھوڑ کر کالپی میں اپنے نام سے خطبہ و سکہ جاری کیا لیکن بالآخر محض جاگیردار ہو کر کالپی میں رہنے کو غنیمت سمجھا۔

سلطان ابراہیم کے وقت میں تمام امراء باغی اور خود سر ہو گئے تھے زمانے کی ہوا کو دیکھ کر بہار میں دریا خان کو بھی جوش آگیا اور خود مختار ہو کر حکومت کرنے لگا۔

دولت خان نے سلطان ابراہم سے متوہم ہو کر بابر بادشاہ کو ہندوستان فتح کرنے کی دعوت دی لیکن بابر کے آنے سے پہلے ہی دولت خان مر گیا اور اسی زمانے میں دریا خان نے بھی انتقال کیا۔ دریا خان کے مرنے پر اس کا بیٹا بہادر خان حاکم ہوا۔

اس زمانے میں اکثر افغان امراء مثلاً جہان خان لودھی، حسن خان فرملی حاکم قصبہ سارن اور نصیر خان لوحانی حاکم غازی پور باغی ہو کر بہادر خان حکمران بہار سے مل گئے۔ جس سے تقریباً ایک لاکھ کی جمعیت فراہم ہوگئی۔ بہادر خان نے علی الاعلان خودسری اختیار کی اور اپنا لقب محمد شاہ رکھ خطبہ و سکہ جاری کیا۔ بہادر خان(محمد شاہ) کے زمانے میں ہی ۹۳۵ھ میں بابر نے صوبہ بہار پر فوج کشی کی لیکن منیر تک جا کر پھرا اور آگرہ واپس ہوا۔ بہادر خاں(محمد شاہ) نے ۹۳۷ھ میں انتقال کیا اور اس کے مرنے پر اس کا بیٹا جلال خان اس کا جانشین ہوا۔

اس کی کمسنی کے سبب اس کی ماں ملکہ لاڈو فرید خان(شیر شاہ) کی مشاورت سے حکومت کا انتظام کرتی تھی۔ فرید خان محمد شاہ کے وقت سے شہزادہ جلال خان کا اتالیق تھا کچھ دنوں کے بعد ملکہ لاڈو بھی مر گئی اور فرید خان(شیر شاہ سوری) خود حکومت کرنے لگا۔ جلال خان کی حکومت حقیقتاً شیر شاہ کی بادشاہت تھی۔ اس ذی لیاقت پٹھان کی بدولت صوبہ بہار کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں کا ایک باشندہ معمولی جاگیردار کی حیثیت سے ترقی کرکے سارے ہندوستان کا بادشاہ بنا۔

شیر شاہ نے سوری ۹۴۷ھ میں حضر خان شروانی کو بنگالے کا حاکم مقرر کیا اور سلیمان کو لانی کو صوبہ بہار کا حاکم بنایا۔ شیر شاہ نے پندرہ برس حکومت کی اور اس مدت میں پانچ برس سے کچھ زیادہ سارے ہندوستان کی بادشاہت کی اور ۹۵۲ھ مطابق ۱۵۴۷ء میں قلعہ کالنجر کی تسخیر میں ایک سرنگ کے پھٹنے سے بارود سے جل کر انتقال کیا اور اس کی لاش قلعہ سہسرام لا کر آبائی قبرستان میں دفن کی گئی۔ اس کا یہ مقبرہ سلیم شاہ نے ۹۵۶ھ میں تعمیر کرایا۔(جاری ہے )

بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی قوم پٹھان کی تاریخ۔ ۔ ۔ آخری قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزیدخبریں