میری ٹائم میوزیم کراچی

میری ٹائم میوزیم کراچی
میری ٹائم میوزیم کراچی

  

میری ٹائم میوزیم کراچی کا شمار پاکستان کے بہترین میوزیم میں ہوتا ہے ۔ ہماری ملاقات پاکستان بحریہ کے 19 ویں سابق سربراہ چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل(ر) جناب آصف سندھیلہ صاحب کے ساتھ ہوئی تو انہوں نے میری ٹائم میوزیم کا دورہ کرنے کی دعوت دی لہذا ہم نے اس دعوت پت لبیک کہا اور میری ٹائم میوزیم کراچی کا رخ کیا ۔میوزم کے لئے ہم نے ٹکٹ لیا اور گیٹ سے اندر داخل ہونے لگے تو گیٹ پر ہماری مکمل جامہ تلاشی لی گئی۔

پاکستان میری ٹائم میوزیم کراچی ’’ تقریباً 22ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ اسکا کا افتتاح 27مارچ 1997ء کو کیا گیا تھا۔ میوزیم کے داخلی گیٹ کے بالکل سامنے ایک آہنی مچھلی کا ماڈل بھی بنایا گیا ہے۔ اس کے احاطے میں ایک بڑی جھیل بنا کر یہاں سمندری ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بارش کا پانی جھیل میں جانے سے روکنے کے لیے جھیل کے کنارے پتھروں کی دیوار بنائی گئی ہے اس جھیل میں ایک مائن سوئیپر اور ایک مچڈ ( چھوٹی آبدوز) رکھی ہوئی ہے۔

میوزیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے احاطے میں انتظامیہ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ مختلف گیلریاں بنائی گئی ہیں۔ گیلریوں کے فرش ، دیواروں اور ستونوں پر شیشم کی لکڑی سے کام کیا گیا ہے۔’’ میرین ہسٹری گیلری‘‘ میں محمد بن قاسم کا مجسمہ بنا کر اس پر لوہے کی زنجیروں سے بنی ہوئی زرہ بکتر پہنائی گئی ہے۔ قریبی بنے ہوئے شیشے کے شیلف میں ڈھال رکھی ہوئی ہے، یہ دونوں قیمتی تاریخی اشیاء اور ماڑی کی بندرگاہ کی کھدائی کے دوران ملی تھیں۔ ان کی ساخت کو دیکھتے ہوئے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں قیمتی اشیاء محمد بن قاسم کے دور کی ہیں۔

میوزیم میں چھ مختلف گیلری بنائی گئی ہے جن میں مختلف سامان ہے پہلی گیلری پاک بحریہ کی ہے جس میں برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کے اہم کرداروں کی عکاسی کی گئی ہے۔پاک بحریہ کے تاریخی نوادراتی ورثہ کو محفوظ کیا گیا۔

کراچی بندر گاہ گیلری طائرانہ مناظر دیکھائے گئے اور منوڑہ کے جزیرہ کے خد و خال کی منظر کشی کی گئی۔نیول چیف گیلری میں بحریہ کے تمام ریٹائر ہونے والے سربراہوں کے پورٹریٹ ، یونیفام اور زیر استعمال اشیاء محفوظ کئے گئے ہیں۔

ایکوریم گیلیری میں مچھلی کے دو بڑے ایکوریم ہیں جن کے پس منظر میں سمندری حیات دیکھائی گئی ہے۔ چھٹی سائنس گیلری ہے جس میں بچوں کو بنیادی سائنس سے آگاہ کرنے کیلئے مختلف ایجادات کے چلنے والے ماڈل رکھے گئے۔ ایک ہوائی جہاز بھی اس میوزیم کا حصہ ہے ۔ ٹکٹ لے کر اس پرسوار ہونا پڑتاہے۔ گویا ہم پہلی بار ہم نے ہوائی جہاز پہ بیٹھ گئے۔ اس میوزیم کے بیچ میں سمندر جیسا ماحول بنایا گیا اور ساتھ خوب صورت سبزہ زار بھی بنایا گیا اور ایک خوبصورت کینٹین بھی بنائی گئی ہے۔ جس پہ چائے کا کپ آپکو مارکیٹ سے ڈبل قیمت میں ملے گا۔

ہم جب پاک بحریہ کی ڈیفنی کلاس آبدوز ہنگور پہ سوار ہوئے تو ہمیں پاک بھارت کی جنگ یاد آگئی جس میں 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ایک بہادرانہ کارروائی میں بلیک وڈ کلاس ہندوستانی بحریہ کی جہاز ککری کو 9 دسمبر 1971ء کی شب ڈبودیا تھا اور بعد میں اس کو پاکستان میری ٹائم میوزیم کے ورثے میں عوام کے لئے شامل کرلیا گیا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -