اشتہاروں میں خواتین کا غیر اخلاقی استعمال اور نسوانی خواہشات کا ناجائز فائدہ، کیا یہ واقعی کام کرتا ہے؟ سائنس نے ایسی بات بتادی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

اشتہاروں میں خواتین کا غیر اخلاقی استعمال اور نسوانی خواہشات کا ناجائز ...
اشتہاروں میں خواتین کا غیر اخلاقی استعمال اور نسوانی خواہشات کا ناجائز فائدہ، کیا یہ واقعی کام کرتا ہے؟ سائنس نے ایسی بات بتادی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

  

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت کیلئے ان کی تشہیر کو لازمی سمجھتی ہیں او ربدقسمتی سے آج کل یہ تصور عام ہوگیا ہے کہ اشتہارات میں جنسی نوعیت کے مناظر موجود ہوں تو یہ زیادہ پرکشش اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں، لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہی ہے؟ یہ جاننے کیلئے یونیورسٹی آف آیووا کے پروفیسر جان ورٹز نے ایک تحقیق کی اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اس تحقیق کے مطابق جنسی نوعیت کے اشتہارات مصنوعات کی فروخت میں بالکل مددگار ثابت نہیں ہوتے، بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

ویب سائٹ الینائے نیوز کی رپورٹ کے مطابق پروفیسر ورٹز نے یہ نتائج مارکیٹنگ سے متعلق کی جانے والی 80 سے زائد تحقیقات کا جامع جائزہ لینے کے بعد پیش کئے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا ’’ہم نے معلوم کیا ہے کہ جن اشتہارات میں جنسی نوعیت کا مواد ہوتا ہے لوگ انہیں زیادہ دیر تک یاد تو رکھتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے مصنوعات کی خریداری کی جانب مائل نہیں ہوتے۔ عام طور پر ایسے اشتہاروں کے متعلق لوگوں کے ذہن میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اور وہ ان کے ساتھ منسلک مصنوعات سے لاشعوری طور پر دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جنسی دلکشی کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے اشتہارات کی وجہ سے نہ صرف صارفین مصنوعات کی طرف مائل نہیں ہوتے بلکہ الٹا ان کے ذہن میں ایسی مصنوعات کے بارے میں منفی رائے پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘

اس تحقیق کے شریک مصنفین میں بال سٹریٹ یونیورسٹی کے پروفیسر آف جرنلزم جونی سپارکس اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے تھیس زمبرز شامل ہیں۔ یہ تحقیق جریدے ’انٹرنیشنل جرنل آف مارکیٹنگ‘ میں شائع کی گئی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -