ہم نرسوں پر اپنی جان کے معاملے میں کتنا اعتبار کرتے ہیں، لیکن ایک نرس نے 60 بچوں کے ساتھ ایسی حرکت کردی کہ آپ کا اعتبار اٹھ جائے گا

ہم نرسوں پر اپنی جان کے معاملے میں کتنا اعتبار کرتے ہیں، لیکن ایک نرس نے 60 ...
ہم نرسوں پر اپنی جان کے معاملے میں کتنا اعتبار کرتے ہیں، لیکن ایک نرس نے 60 بچوں کے ساتھ ایسی حرکت کردی کہ آپ کا اعتبار اٹھ جائے گا

  

لندن (نیوز ڈیسک)ہسپتالوں میں مسیحائی کا فریضہ ادا کرنے والے سٹاف سے غیر معمولی شفقت اور حمدلانہ رویے کی توقع کی جاتی ہے، اور خصوصاً اگر ان کے ذمہ ننھے بچوں کی دیکھ بھال ہو تو ماں باپ توقع کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کا نازک پھولوں کی طرح خیال رکھا جائے گا۔ بدقسمتی سے حقیقت یوں نہیں ہے اور بعض اوقات تو مسیحا ہی قاتل بن جاتے ہیں۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک ہسپتال میں فرائض سرانجام دینے والی ایک سفاک نرس بھی ایسی ہی مثال ہے جس نے ایک، دو نہیں بلکہ پانچ درجن بچوں کو زہر کے انجکشن لگا کر قتل کر ڈالا ۔

چھیاسٹھ سالہ نرس جنینز جونز کے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ 60 سے زائد بچوں کے قتل کے الزام میں اس سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ ایک شیر خوار بچی کے قتل کا جرم اس پر پہلے ہی ثابت ہوچکا ہے۔ ABC نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹیکساس پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جرائم 1980ء کی دہائی میں کئے گئے جب نرس جنین بچوں کی دیکھ بھال کیلئے بیکسر کاؤنٹی ہسپتال میں فرائض سرانجام دیتی تھی۔

پولیس کے مطابق ان تمام بچوں کی ہلاکت ان اوقات میں ہوئی جب جنین ڈیوٹی پر ہوتی تھی۔ ان میں سے دو سالہ بچی روزمیری ویگا کی موت ستمبر 1981ء میں ہوئی۔ جنین پر اس بچی کے قتل کا الزام ثابت ہوا جس کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ بعد میں سامنے آنے والے مزید شواہد سے پولیس کو شک ہوا کہ اس نے دیگر کئی بچوں کو بھی زہر کے انجیکشن لگا کر ہلاک کیا تھا۔

نئے شواہد کی روشنی میں درندہ صفت نرس کے خلاف مزید مقدمات کا آغاز ہو چکا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے پر عزم ہیں کہ درجنوں بچوں کے قتل میں ملوث نرس کو اس کے عبرت ناک انجام تک پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -