بدعنوانی۔۔۔ معاشرے کا ناسور

بدعنوانی۔۔۔ معاشرے کا ناسور
بدعنوانی۔۔۔ معاشرے کا ناسور

  

دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جو مکمل طور پر بدعنوانی اور جرائم سے پاک ہونے کا دعوی دار ہو۔ اگر ایسا کوئی دعوی کرے بھی تو اس سے اگلا سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ پھر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جیلوں کی ضرورت کیوں ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ 2017ء تک کے مطابق پاکستان 180 ممالک کی صف میں ٹرانسپیرنسی میں 117نمبر پر ہے اور 2016ء سے کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا تمام ممالک میں بدعنوانی ناپنے کا جو پیمانہ ہے وہ اس طرح ہے کہ زیرو سے ایک سو تک نمبر دیئے جاتے ہیں اور سو نمبر کا مطلب ہے کہ ملک بدعنوانی سے سو فیصد پاک اور زیرو کا مطلب سو فیصد بدعنوان ہے۔

اس پیمانے کی بنیاد پر دنیا کے ممالک کی جو درجہ بندی کی گئی ہے اس کے مطابق صرف نو نمبر کے ساتھ آخری نمبر پر مسلم ملک صومالیہ ہے، بارہ نمبر کے ساتھ جنوبی سوڈان اور چودہ نمبر کے ساتھ شام آخری تین ممالک ہیں جو سب کے سب مسلم اکثریتی معاشرے ہیں۔

اسی طرح دوسری طرف نیوزی لینڈ 89 نمبر کے ساتھ پہلے اور ڈنمارک 88 نمبر کے ساتھ دوسرے نمبر پر بدعنوانی سے پاک ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔

اگر پوری دنیا کی اوسط نکالی جائے تو یہ اوسط پچاس سے کم، یعنی 43نمبر فی ملک بنتی ہے جس میں سب سے بُرا حال براعظم افریقہ کا ہے جہاں اوسط 32 نمبر ہیں اور سب سے اچھی پوزیشن مغربی یورپ کی ہے جن کو اوسطاً 66 نمبر کا درجہ حاصل ہے ۔

اب آتے ہیں اپنے پیارے وطن کی اور اپنے خطے کی طرف تو اپنے خطے میں پاکستان کی حالت سب سے پتلی ہے اور پاکستان کا سکور صرف 32 ہے جو دنیا کی اوسط 43 سے اور علاقائی اوسط 44 سے بہت کم ہے بھارت 43 نمبر اور چین 44 نمبر کے ساتھ پاکستان سے بہت آگے ہیں۔ بھارت دیانتداری میں دنیا کے 180 ممالک کی صف میں نمبر 81 پر، چین 77 پر اور پاکستان 117 پر ہے اور حکومتی دعووں کے برعکس پچھلے سال سے کوئی بہتری نہیں آئی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بہت سارے ممالک میں جن میں سنیگال اور برطانیہ بھی شامل ہیں بتدریج بہتری آرہی ہے تاہم کچھ ممالک میں اس کا الٹ بھی ہے۔

بدعنوانی یوں تو انسان کے دنیا میں آنے کے ساتھ ہی در آئی تھی۔لالچ تو جیسے انسان کی گھٹی میں شامل ہے۔ پرانے وقتوں میں جب ریاستوں کی کوئی حدود نہیں ہوا کرتی تھیں تب بھی کئی طاقتور جتھے مختلف قوموں پر حملے کرتے اور ان کے وسائل پر قبضے کر لیتے تھے۔

پھر جب ریاست کا تصور سامنے آیا تو ہر ملک کو اپنی حدود سے وسائل تلاش کرنے اور ان سے مستفید ہونے کا حق مل گیا لیکن اس کے بعد بھی طاقتور ممالک اور قوموں نے دوسری ریاستوں پر قبضے کر کے ان کو اپنی کالونیاں بنائے رکھا۔

جن معاشروں میں حکمران بیشتر وسائل پر خود قابض ہو جاتے ہیں اور ملک میں انصاف قائم نہیں کرتے وہاں بے یقینی پھیلتی ہے اور ہر کوئی مقدور بھر بدعنوانی میں حصے دار بن جاتا ہے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھی یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہا بلکہ اس میں وقت کے ساتھ اضافہ بھی ہوتا رہا۔

موجودہ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک نے اپنے نظام کو ایسے درست کیا ہے کہ بدعنوانیوں کے مواقع بہت مسدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فورم سے بھی مشترکہ طور پر یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ دنیا میں بدعنوانی کی شرح کو کم سے کم کیا جائے۔

ایسے میں پاکستان کو بھی ان کوششوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اور اپنے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن ذرائع استعمال کرنے چاہئیں۔ ذاتی مشاہدے اور معلومات کی بنیاد پر میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پچھلے دس سال میں پاکستان میں عمومی طور پر اور کچھ اضلاع میں خصوصی طور پر بدمعاشی اور ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جو بہت خوش آئند بات ہے۔

میرے ذاتی خیال میں اس مثبت پیش رفت کی کئی وجوہات ہیں جن میں پولیس کی نفری میں اضافہ اور مختلف مقامات پر پولیس ناکے، موبائل فون کا استعمال، آبادی کا پھیلاو اور دہشت گردی کے خلاف جنگ۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اقدامات اٹھا کر کسی بھی برائی کی روک تھام ممکن ہے، لیکن پاکستان میں ایسے اقدامات بہت محدود ہیں۔ہر سطح پر لوگ مایوس ہیں۔

بدعنوانی صرف حکومتی اداروں تک محدود نہیں،ہر سطح پر اکثریت اس لت میں شامل ہے۔ وہی عوام جو بدعنوانی کا رونا بھی روتے ہیں، سیاست دانوں اور بیورو کریسی کو کوسنے دیتے ہیں وہ خود ہر سطح پر دانستہ یا نادانستہ بدعنوانی میں ملوث ہیں، جو کوئی نیک بندہ بدعنوانی میں ملوث نہیں وہ بھی صرف اپنی ذات تک ہی محدود ہے اس بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے نہ اس کو روکنے کا کوئی بندوبست کرتا ہے۔ خاموشی بھی جرم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتی ہے۔

اس بدعنوانی کو روکنے کے لیے ایک پوری تحریک کی ضرورت ہے۔ حکومت، میڈیا اور عوام کو مل کر بدعنوانی کے خلاف جہاد شروع کرنا ہوگا۔ عوام کا فرض ہے کہ وہ ناجائز کام کروانے سے باز رہیں اور اپنے جائز کام کے لیے کسی مختصر راستے کا انتخاب کرنے کی بجائے قطار میں کھڑے ہو کر اپنا کام کروانا چاہیے۔

اور اس کے لیے مناسب وقت تک صبر سے انتظار کرنا چاہیے اور اگر پھر بھی کام نہ ہو تو متعلقہ ادارے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔

عصر حاضر میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا بھی بہت بڑی طاقت بن چکا ہے جس کے ذریعے آپ کی آواز اور شکایات حکام بالا تک پہنچ سکتی ہیں۔

حکومت کو بھی چاہیے کہ تمام اداروں سے بدعنوانی ختم کرنے کے لیے پالیسی وضع کی جائے اور قوانین میں مناسب ترامیم کے ذریعے اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے بدعنوانی کے راستے مسدود کیے جائیں۔

تمام اداروں سے سیاسی مداخلت اور سفارشی کلچر کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب اضافہ کرنا چاہیے۔

اداروں کے سربراہان کو میرٹ اور ایمانداری کی بنیاد پر تعینات کیا جائے۔ بدعنوانی کے خلاف جنگ ہمہ گیر اور متحد ہو کر لڑی جانی چاہیے۔ جس میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

بقول جناب وجاہت مسعود صاحب " جب اپنی روشنی تلاش کرنے کا حوصلہ نہ ہو، تخلیق کی صلاحیت نہ ہو، جھوٹ سے انکار کی جرات نہ ہو، تو فرد ہو یا گروہ، مصنوعی تقدس، جعلی شرافت اور دہرے اخلاقیات کا بہروپ دھار لیتا ہے۔

مزید : رائے /کالم