کھوتیاں دا فائنل

کھوتیاں دا فائنل
کھوتیاں دا فائنل

  

مجھے یقین نہیں تھا کہ سراج الحق بھی جھوٹ بولیں گے۔ مَیں تو انہیں اپنی طرح فاقہ حال سمجھتا تھا، ان کے پاس تو پورے تینتیس لاکھ اور ساڑھے چار تولے سونا نکلا۔ ثابت ہوا کہ وہ لیڈرشپ کے تقاضے پورے نہیں کرتے، بھلا ہے کوئی بات۔

بھائی آپ کے پی کے کے وزیر خزانہ رہے، مارتے دو چار لمبے لمبے ہاتھ اور کر لیتے اکٹھا سیاست کے لئے زادراہ، رہے آپ تو نرے جماعتیے کے جماعتیے اور کچھ نہیں تو برادرم لیاقت بلوچ سے مشورہ کر لیتے۔

یہ پاکستان ہے یہاں جو جتنا بڑا لٹیرا، اتنا بڑا لیڈر۔ ہے کوئی کرنے والی بات، جب آپ کی آف شور کمپنی نہیں، پاکستان سے باہر دو چار جھونپڑیاں نہیں، پاکستان درجن دو درجن ملیں فیکٹریاں نہیں تو آپ کاہے کے سیاست دان ہیں۔ اسی لئے تو آپ پر قوم اعتماد نہیں کرتی۔

لڑکی بولی جانو میں شادی کے بعد تمہارے سارے دکھ درد بانٹ لوں گی۔

لڑکا بولا پر مجھے تو کوئی دکھ درد نہیں۔ لڑکی بولی بے وقوف مَیں شادی کے بعد کی بات کر رہی ہوں۔ مَیں الیکشن کے بعد کی بات کر رہا ہوں۔ دکھ درد تو عوام اور سیاستدان کے اگنی کے پھیرے لینے کے بعد شروع ہوتے ہیں۔ موڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 94 ارب ڈالر کے قرض کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔

بابا رحمتے کے مطابق ہر پاکستانی پیدائشی لکھ پتی ہے یعنی ایک لاکھ سترہ ہزار کا مقروض ہے لیکن ہمیں کیا اگر آپ قوم کے دکھ درد کے ساتھی ہیں۔ اس کی بھوک سے کرلاتی اولادوں کی چیخوں پر رمبا سمبا ناچ سکتے ہیں، خودکشیاں کرنے والے مجبوروں کے چیخوں پر راک اینڈ رول کر سکتے ہیں تو پھر آپ قوم کے حقیقی لیڈر ہیں۔

یہ آپ پر فرض ہے جب قوم غربت کے ہاتھوں ایڑیاں رگڑ رہی ہو آپ اس کی خون پسینے کی کمائی لوٹ کر آف شور کمپنیاں بنائیں۔ اپنے بچوں کو ملک کے باہر سیٹ کریں، رقم کو دبئی، سعودی عرب، برطانیہ کے اتنے چکر لگائیں وہ خود چکرا جائے کہ میں آئی کہاں سے۔

ذرا قائدین کے اثاثے چیک کریں، پاٹے کھیسوں والی قوم کے رہنما جھوٹ فنانشل ایکسپرٹس کی مدد سے ڈکلیئر کئے گئے اثاثوں میں بھی کم از کم کروڑ پتی ہیں۔

اسے کہتے ہیں قوم کے حقیقی ترجمان۔ ان نیلسن منڈیلاؤں، ماؤزے تنگوں، سوئیکارنوؤں کو ہمارا سلام۔ سنتا سنگھ نے ڈاکٹر کو کہا میرا سارا جسم درد کر رہا ہے۔

ڈاکٹر نے کہا مثلاً اس نے گھٹنے پر انگلی رکھ کر بولا، ایتھے درد پھر کان پر انگلی رکھ کر بولا ایتھے درد پھر ناک پر انگلی رکھی اور بولا ایتھے وی درد۔ ڈاکٹر بولا پاگل دے پترا تیری انگلی فریکچر ہے۔

ہم کسی سنتا سے کم نہیں، معیشت ہماری تباہ، پانی کے بحران کا ہم شکار، بجلی ہمارے پاس نہیں، بے روزگاری کے ہم مارے لیکن قائدین کی جس انگلی کو ہم تھامے ہوئے ہیں اسے کبھی نہیں دیکھیں گے کہ وہی فریکچر ہے۔

آخر کب تک ہم یہ چند گھرانوں کی طرف اپنے دکھوں کے مداوے تلاش کریں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ الیکشن شفاف اور آزادانہ ہوں گے لیکن جناب اگر 2700 امیدواروں کے خلاف قتل، زنا، اغواء، منی لانڈرنگ، انسانی سمگلنگ جیسے بھیانک جرائم کے مقدمے ہوں اور وہ الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچ جائیں تو انتخابات کہاں سے شفاف ہوں گے۔ کون ہے جو ان ہسٹری شیٹروں کے خلاف کھڑا ہوگا۔ کیا معاشرے کے سفید پوش شرفا ان کے مقابلے میں کھڑے ہو کر اپنی عزت اور زندگی داؤ پر لگا سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ انتخابات شفاف کیسے ہو گئے۔

لڑکی سنتا سنگھ سے بولی: میری امی تمہیں پسند کرتی ہیں۔ سنتا بولا: لیکن کچھ بھی ہو جائے میں شادی تم سے کروں گا، خالہ جی نوں میرا سوری بول دیو۔ قوم جیسی خالہ جی اگر سنتا کو پسند بھی کرلے تو اس نے شادی بلو سے ہی کرنی ہے اور اگر بلو ملکی خزانوں کی طرح مال و مال ہو تو لیڈر خالہ کو کیوں دیکھیں۔ بھیا میرے شناختی کارڈ ہولڈر انسان نما مخلوق تمہارا کردار اتنا ہے کہ تم ان ہسٹری شیٹروں، عادی مجرموں کو اپنے کاندھے پر بٹھا کر ایوان اقتدار تک پہنچا دو پھر تمہارا رول ختم اوران کے قیمے والا رول شروع۔

یہ کارکن نما مخلوق دیگ کے نیچے جلتی لکڑیوں کی طرح ہوتے ہیں، دیگ پک جائے تو ان لکڑیوں کو پراں رکھ دیا جاتا ہے۔ تھوڑی بہت آگ کو پانی ڈال کر ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے۔ بس اتنا ہی کردار ہے ہمارا۔ ہمیں اپنی اوقات سے اگاں پچھاں نہیں ہونا چاہئے۔ زعیم قادری سے لے کر تمام کارکنوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے۔

اطلاعات یہ ہیں کہ عمران خان ان دنوں شدید اعصابی دباؤ کا شکار ہیں، کارکنوں کے بنی گالا دھرنے ان کے گھر کی حفاظت کے لئے رینجرز کی طلبی اور کہتے ہیں کہ ایک تو میری روتی اوپر سے آ گئے نہار عرف اونج وی راہواں اوکھاں سن تے سانوں مرن دا شوق وی سی۔

ہور چوپو کپتان جی کرو اکٹھے الیکٹیبل۔ آپ نے اپنا ڈرائنگ روم تو لوٹوں سے سجا لیا، اب یہ وٹوانی کیلئے کارکن نما گیٹوں کو کہاں لے جائیں گے۔ یہ راستے کے پتھر تو آپ کو ہمیں چھبتے رہیں گے۔ دوست نے حج سے واپس آنے والے سے پوچھا شیطان کو پتھر مارے تھے۔

شیدا بولا یار رش بہت تھا پر میں اونہوں گالاں بڑیاں کڈیاں۔ شیطان کو پتھر مارنا ضروری ہے۔

خالی گالیوں سے کام نہیں چلتا اور ہماری قوم شیدے سے بھی آگے ہے وہ کارخانوں، ٹھیلوں، دکانوں، دفتروں، گلی، محلوں تھڑوں پر بیٹھ کر شیطانوں کو گالیاں تو کڈدتی ہے لیکن پتھر نہیں مارتی۔ الیکشن میں گالیاں دینے والے اگر ان شیطانوں کو ووٹ کا پتھر ہی مار دیں، بات بن بھی سکتی ہے۔

اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ شاہ محمود قریشی اس درویش لڑکی کی طرح پیش گوئی کر چکے ہیں جس نے بھاگنے سے ایک رات پہلے کہا تھا کل گھر وچوں اک بندہ گھٹ جائے گا۔ وہ تو درویشن بھاگ گئی تھی لیکن ہمیں نہیں لگتا شاہ محمود جہانگیر ترین سے اتنا زچ ہوں گے کہ پارٹی چھوڑ دیں۔ بڈھا ڈرائے مرنے سے لڑکا ڈرائے بھاگنے سے۔ وہ بس ڈرا کر، کپتان کے اعصاب کو مزید پھیتی پھیتی کرنا چاہتے ہیں۔

اتنی مشکل سے تو انہوں نے پیپلزپارٹی (پی ٹی آئی ونگ) بنایا ہے۔ وہ روز ’’خواب میں کپتان کو نااہل اور خود کو وزیراعظم بنتا دیکھتے ہیں اور اب تو معاملات آخری یا لاسٹ اینڈ فائنل مرحلے میں ہے۔

سنتا سنگھ بولا: ڈاکٹر صاحب میرے خواب میں کھوتے فٹ بال کھیلتے ہیں۔ ڈاکٹر بولا: دوا لو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سنتا بولا : ڈاکٹر کل یہ دوا کھاؤں گا۔ اج تے کھوتیاں دا فائنل اے۔

مزید : رائے /کالم