فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر459

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر459
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر459

  

پاکستان اس اعتبار سے بھی خوش قسمت ہے کہ یہاں موسیقی کے شعبے میں اللہ نے ہمیں دو ’’نور‘‘ دے رکھے ہیں۔ آپ انہیں ’’انوار‘‘بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ ایک مشکل لفظ ہے اور دینی اور مذہبی حوالے سے استعمال کیا جاتا ہے اس لیے کوئی صاحب اس پر اعتراض بھی کر سکتے ہیں۔ دیکھیے۔ ایک توہمارے ہاں ’’نورجہاں‘‘ تھیں بلکہ ہیں اور اپنی آواز کی وجہ سے ہمیشہ رہیں گی۔ دوسری نیرہ نور ہیں۔ نورجہاں کامطلب ہے دنیاکو روشن کرنے والا۔ نیرہ کامطلب ہے۔۔۔ٹھہرئیے۔ پہلے یہ بتاتے چلیں کہ نیر سورج کو کہتے ہیں۔ نیر تاباں بھی شاعری میں عام مستعمل ہے۔ نیرہ ، نیرکا مونث ہے یعنی لیڈی سورج۔ اس لفظ کو مونث غیرجان دار کے لیے بھی استعمال کیاجا سکتا ہے۔ نیرہ نور ڈبل روشنی ہیں۔ اس اعتبارسے کہ ایک تو سورج کی روشنی ہیں، اس پرنوربھی ہیں۔ نور کو عموماً چاندکی روشنی کے حوالے سے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں ٹھنڈک ہوتی ہے۔ اس کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح تپتی ہوئی جلانے والی نہیں ہوتی۔ چاندکی روشنی دھیمی، خنک اور پر سکون ہوتی ہے۔ سورج تیز ہو تو انسان بے چین ہو جاتا ہے۔ چاند کی روشنی کسی کی تکلیف نہیں پہنچاتی بلکہ آسودگی۔ طمانیت اور سکون فراہم کرتی ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر458 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ تمہید دراصل گلوکارہ نیرہ نورکا تذکرہ کرنے کی غرض سے باندھی گئی ہے۔ نیرہ نورکو گلوکارہ بھی نہیں کہہ سکتے لیکن وہ گلوکارہ بھی ہیں اور ایک عدیم المثال گلوکارہ ہیں۔ وہ صاحب طرز ہیں۔ ان کی آواز میں ایک مخصوص انفرادیت ہے۔ مٹھاس کے ساتھ سوز اور عجیب سے ایکسپریشن کی آمیزش ہے۔ ان کی آواز کا موازانہ اگر ناہید اختر اور رونالیلیٰ کی آوازوں سے کیا جائے تو یہ رونالیلیٰ کی آواز سے قدرے زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود الگ بھی ہے۔ 

ناہید اختر اور رونالیلیٰ کی آوازوں میں جو کھنک ، رچاؤ، شوخی، تاثر اور زندگی ہے نیرہ نورکی آوازمیں بھی یہ تمام خصوصیات موجود ہیں۔ وہ چاہیں تو پر سوز اندازمیں گائیں۔جی چاہے تو شوخ وشنگ تاثر پیدا کریں۔ ان کی آواز میں گہرائی ہے اور ایسی پاکیزگی ہے جوکسی اور گلوکارہ کی آوازمیں نہیں ہے۔ انکا نغمہ سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک عام سی گھریلو سادہ لڑکی گا رہی ہے۔ اس میں پیشہ ورانہ رنگ کی مطلق آمیزش نہیں ہے۔

نیرہ نے نہ تو آغاز ہی سے گائیکی اور موسیقی کی تربیت حاصل کی اور نہ ہی کلاسیکی موسیقی کاریاض کیا۔ اسکے باوجود وہ بے انتہا سریلی ہیں۔ وہ کوئی بھی گانا گائیں کبھی بے سری نہیں ہوتیں۔کسی بھی سر تک ان کی رسائی ہے۔ پیشہ ور مورسیقاروں اور گلوکاروں کے نزدیک وہ ’’عطائی‘‘ ہیں۔ یعنی انہوں نے موروثی طور پریہ فن حاصل نہیں کیا ہے۔ اس اعتبار سے وہ ’’خاندان‘‘ سے باہرہیں۔ موسیقی کے کسی گھرانے سے انکا تعلق نہیں ہے۔ دراصل بنیادی طور پر وہ ایک گھریلو خاتون ہیں جسے قدرت نے ایک خوب صورت موثر آواز سے نوازا ہے۔

نیرہ نورکوہم جانتے بھی تھے اور نہیں بھی جانتے تھے۔ لاہورکے ماڈل ٹاؤن میں وہ جسے بلاک کی جس کوٹھی کے نصف حصے میں رہا کرتی تھیں اس کے بقیہ نصف حصے میں ہماری خالہ اماں کی رہائش تھی۔ یہ وہی خالہ اماں ہیں جنہوں نے ہمیں گیارہ بارہ سال کی عمرمیں گودلے لیا تھا اور ہم بھوپال میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائی کوچھوڑ کر ان کے پاس میرٹھ چلے گئے تھے۔

یہ بات ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ خالہ اماں ہماری والدہ کی بہنوں میں منجھلی تھیں۔ اس لیے ہماری اماں عموماً انہیں صرف ’’منجھلی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں اور وہ اماں کو ’’آپا‘‘ کہا کرتی تھیں۔ دونوں بہنوں میں اتناپیار تھا کہ یقین نہیں آتاتھا۔ ایسا پیارا افسانوں اور ناولوں ہی میں دیکھنے کوملتا ہے۔ حقیقی زندگی میں اس کانمونہ کم ہی نظر آتا ہے۔خالہ اماں بے اولاد تھیں اورہندوستان کے بڑے بڑے ڈاکٹروں نے تفصیلی چیک اپ کے بعد انہیں بتایا تھا کہ وہ کبھی صاحب اولاد نہ ہوں گی۔

خالہ اماں کو بچوں سے بہت زیادہ انس اور دلچسپی تھی۔ یوں بھی ان کے شوہر’’خالو ابا‘‘ انڈین پولیس سروس میں ایک بڑے افسر تھے اور ان کے تبادلے ملک کی غیر مانوس ناموں والی جگہوں پربھی ہوتے رہتے تھے۔ نوکروں کی ایک فوج انکی خدمت کے لیے موجودتھی۔ انڈین پولیس کے ایک اعلیٰ ہندوستانی افسر ہونے کے علاوہ خالو ابا صاحب جائیداد بھی تھے جو انہیں ورثے میں ملی تھی۔ وسط ہند میں ریاست بھوپال اور ریاست گوالیار کے مابین ان کی زرخیر زمینیں تھیں جن کی دیکھ بھال ان کے چھوٹے بھائی اور بھیتجے کیا کرتے تھے۔ دہلی اورمیرٹھ میں ان کی قیمتی رہائشی جائیداد بھی تھی۔ یہ سب کچھ تھا پھر بھی وہ دونوں بالکل اکیلے تھے۔

منجھلی بہن کی اداسی اور تنہائی کو دیکھ کرہماری اماں دل ہی دل میں کڑھتی رہتی تھی۔ ایک بار دونوں بہنوں میں یہ سمجھوتا ہوا کہ اب جوبھی اولادہوگی وہ پیداہوتے ہی خالہ اماں کی گودمیں ڈال دی جائے گی۔ اس طرح ہماری بہن انیسہ آپا کی پیدائش جب جنوبی ہندوستان میں ہوئی تھی اماں پہلے ہی وہاں پہنچ گئی تھیں اور خالہ اماں نے پیداہونے والے بچے کے خیر مقدم کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں۔ کوئی نہیں جانتا تھاکہ یہ لڑکا ہوگا یا لڑکی اس سے پہلے اماں چار بچوں کی ماں بن چکی تھیں جن میں دولڑکے تھے اور دولڑکیاں۔ لڑکوں اور لڑکیوں میں ہمارے خاندان میں کبھی امتیاز روا نہیں رکھا گیا بلکہ لڑکیوں کی پیدائش پر زیادہ خوشی منائی جاتی تھی اورا ن کی شان دار پذیرائی کی جاتی تھی۔ یہ رواج آج بھی ہمارے گھرانے میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بیٹیوں سے نوازا ہے۔ بڑی نادیہ اور چھوٹی سارہ یعنی پارو۔ ان دونوں کی پیدائش پر ہمیں بے انتہا خوشی ہوئی۔ ہماری دعا بھی یہی تھی کہ اللہ ہمیں بیٹی دے۔ بعدمیں دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے لبنیٰ کے دل میںیہ خواہش پیدا ہوئی کہ اگر ایک بیٹا پیدا ہو جائے تو بہن بھائی کی جوڑی بن جائے گی لیکن اللہ کو دو بہنوں کی جوڑی بنانا منظور تھا۔

ان دونوں بیٹیوں کی پیدائش گلبرگ کے یونائیٹڈ کرسچین اسپتال (یو ۔ سی ۔ ایچ) میں ہوئی تھی جو اس زمانے میں شہر کا بہترین اسپتال تھا اور یہاں اس وقت بھی امریکی معالجین موجود تھے۔ ہم شادی سے پہلے اپنی طویل بیماری کے سلسلے میں کافی عرصے تک یو سی ایچ میں مقیم رہے تھے۔ بعد میں بھی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ایڈمنسٹریٹر اور امریکی ڈاکٹروں سے لے کر اسٹاف کامعمولی رکن تک ہم سے واقف ہوچکاتھا۔

نادیہ کی پیدائش پر نچلے عملے نے نیم دلی سے مبارکباد پیش کی۔ ہم تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ لبنیٰ اور دوسرے اہل خاندان بھی بے حد خوش تھے۔ اسپتال سے رخصت ہوتے وقت کسی نے بخشش طلب نہ کی مگرجب لنبیٰ نے ان کومعقول ’’انعام‘‘ دیا تو انہیں عجیب سی ’’بے یقین خوشی‘‘ کا احساس ہوا۔

پارو کی پیدائش لگ بھگ چار سال بعد ہوئی مگر عملے کی ہم سے اور لبنیٰ سے شناسائی تھی اور سب کے سب بیٹے کے لیے دعائیں کررہے تھے۔ جب بیٹے کی جگہ بیٹی پیدا ہوئی تو ماں باپ توبے حد خوش تھے مگرعملے نے مبارک باد پیش کرنے کے بجائے اظہارہمدردی کرتے ہوئے لبنیٰ کو تسلی بھی دی کہ بیگم صاحب۔ غم نہیں کیجئے۔ اللہ نے چاہا تو اگلی باربیٹا ہوگا۔ پارو(سارہ) انتہائی خوب صورت بچی تھی۔ اس کے نقش و نگار انتہائی تیکھے اور نازک تھے۔ چہرہ گلابی تھا اور ہونٹ سرخ جیسے لپ اسٹک لگا رکھی ہو۔ بال شربتی تھے اور آنکھوں کی رنگت بھی بالکل سیاہ نہ تھی۔ اس کی خوب صورتی کی وجہ سے ہی اسے پیار سے ہم ’’پارو‘‘کہنے لگے جو بعدمیں اس کانام بن گیا۔ شباب کیرانوی اس کو دیکھ کرکہا کرتے تھے ’’یار آفاقی۔ نوٹ کر لو۔ تمہاری بیٹی تو بالکل انگریز لگتی ہے‘‘

یہ سب بیان کرنے کام مقصد یہ ہے کہ ماں باپ کے نزدیک بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے۔ ماں کے جگر کا ٹکڑا اور باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک مگر اماں نے بہن کی محبت میں اپنے جگر کا یہ ٹکڑا پیدا ہوتے ہی ’’منجھلی‘‘ کی گودمیں ڈال دیا۔ اس بچی کی پرورش اور دیکھ بھال خالہ اماں اور آپاؤں نے ہی کی۔ اماں اس خیال سے دور ہی رہیں کہ کہیں خون کی محبت جوش نہ مارے اور وہ اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں۔

بچی کانام انیسہ بیگم رکھا گیا۔ اہل خاندان کو علم تھا کہ انیسہ آپا کس کی بیٹی ہیں مگر سب نے اس رازکوہمیشہ سربستہ رازہی رکھا۔ انیسہ آپا جب ملتی تھیں تو اماں کوخالہ اماں ہی کہتی تھیں۔ اماں کی کوشش ہوتی تھی کہ ان سے کم سے کم ملاقات ہو تاکہ انسیت زیادہ نہ بڑھے۔ اس کہانی کا افسانوی پہلو یہ ہے کہ انیسہ آپا کو اس حقیقت کا علم اس وقت ہوا جب انکی شادی کے موقع پرنکاح سے پہلے قاضی اور وکیل صاحب ان کے پاس پہنچے اور ان کا ۔۔۔اور ان کے والد کا نام لے کر ان سے شادی کے لیئے رضامندی حاصل کرنی چاہئے۔ انیسہ آپا کے لیے یہ غیر متوقع خبر بہت بڑا صدمہ بن گئی اور وہ اتنا روئیں کہ دیکھنے والے پریشان ہوگئے۔ عام مہمانوں کاخیال تھا کہ رخصتی کے موقع پر لڑکیاں رویا ہی کرتی ہیں مگر و اقفان حال بخوبی جانتے تھے کہ اس کاسبب کیا ہے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر460 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -