فلسطینی معیشت‘ 50 ارب ڈالر کی امریکی تجویز

فلسطینی معیشت‘ 50 ارب ڈالر کی امریکی تجویز

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اوران کے داماد جریڈ کوشنر نے انکشاف کیا ہے کہ صدی کی ڈیل (بقیہ نمبر46صفحہ12پر)

منصوبے کا پہلا مرحلہ رواں ہفتے بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس ہے جس کے ذریعے فلسطینی اراضی کی خراب معیشت کو سنبھالا دینے کے ساتھ ساتھ تین پڑوسی عرب ملکوں کے لیے مجموعی طور پر50 ارب ڈالرکی رقم کی تجویز پیش کی جائے گی۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق وائیٹ ہاؤس میں ایک بیان میں جارڈ کوشنر نے اقتصادی ویڑن کے بعض حقائق اور پہلوؤں سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ 25 اور 26 جون کو منامہ میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس میں ان کی پیش کردہ تجاویز کو غیرمعمولی حمایت حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی منصوبے کے تحت کل 50 ارب ڈالر جمع کیے جائیں گے۔ ان میں سے فلسطینی اراضی کے لیے 28 ارب ڈالر کی رقم رکھی جائیگی۔

جو غرب اردن اور غزہ میں معیشت کی بہتری پر صرف ہوگی جب کہ اردن کے لیے ساڑھے سات ارب، مصر کے لیے نو اور لبنان کے لیے 6 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ خلیجی ممالک اس منصوبے میں سب سے زیادہ مالی مدد فراہم کریں گے۔جارڈ کوشنر کا کہنا تھاکہ امریکا بھی اس منصوبے میں معاونت پرغور کررہا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ 15 ارب ڈالر براہ راست مدد، 25 ارب ڈالر قرض اور 11 ارض ڈالر سود کی شکل میں ادا ہوگی۔اس منصوبے کے تحت فلسطین اور دوسرے ملکوں میں 179 اقتصادی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ان میں سے 147 غرب اردن اور غزہ، 15 اردن، 12 مصر اور پانچ منصوبے اردن میں شروع کیے جائیں گے۔امریکا کے نام نہاد اقتصادی منصوبے کے تحت مصر، اردن اور لبنان کو براہ راست فلسطینی علاقوں غزہ اور غرب اردن میں سرمایہ کاری کے منصوبوں، صنعتی کارخانوں کیقیام اور دیگر منصوبوں کی اجازت ہوگی

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...