حریت کانفرنس بھارت سے مذاکرات پر آمادہ،گورنر مقبوضہ کشمیر کا دعویٰ 

حریت کانفرنس بھارت سے مذاکرات پر آمادہ،گورنر مقبوضہ کشمیر کا دعویٰ 

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ حریت کانفرنس بھارت سے مذاکرات کے لیے آمادہ ہو گئی ہے  انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حوصلہ افزا بات ہے کہ حریت لیڈر مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ ایس کے آئی سی سی میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک برس سے حالات میں کافی بہتری آئی ہے،اور حریت کانفرنس، حکومت  کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کیلئے آمادہ ہے۔ انہوں نے کہا حریت رہنماوں نے ماضی میں رام ولاس پاسوان کیلئے اپنے دروازے بند کر دیے تھے، جب انہوں نے بات چیت کیلئے ان سے رابطہ قائم کیا تھا،اب وہ بات چیت کیلئے(بقیہ نمبر24صفحہ12پر)

 تیار ہیں،اور مذاکراتی عمل چاہتے ہیں،ہر سو بدلاؤ نظر آرہاہے۔کے پی آئی کے مطابق گورنر نے میر واعظ عمر فاروق کی اس بات کو سراہا کہ انہوں نے منشیات پر بات کی ہے۔انکا کہنا تھا کہ حریت کا سماجی معاملات کو سلجھانے کا رول قابل تحسین ہے۔گورنر نے کہاکہ  بھارت میں کسی دوسری جگہ بیٹھ کر وادی میں حالات کا احاطہ کرنا آسان نہیں ہے،اگر چہ کسی نے وادی میں کچھ وقت کیلئے کام کیا ہو،یا یہاں پر رہائش پذیر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بیانیہ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے،تاہم شرط یہ ہے کہ آپ کی منشا  دونوں اطراف سے اچھی اور ایماندارنا ہو۔گورنر نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کے سامنے دو جنتیں ہیں ایک توخود کشمیر جسے جہانگیر بادشاہ نے گھوڑے سے اتر کر خطاب دیا تھا اور دوسرے مرنے کے بعد والی جنت اور اگر یہاں کے نوجوان ایک مسلمان کے طور پر اپنی زندگی کو گزاریں گے تب دوسری جنت بھی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کا الگ سے اپنا آئین ہے،میری سرکاری گاڑی پر بھی ریاست کا الگ سے جھنڈا لہراتا نظر آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے 22ہزار طلبا بیرون ریاست کے مختلف کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں اور ان کی سہولیات کیلئے مرکزی سرکار نے ہر ایک ریاست میں الگ الگ لیزان آفیسر تعینات کردئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے موقعے یہ ہمارے بچوں کی ہر ممکن مدد فراہم کی جاسکے۔

گورنرمقبوضہ کشمیر

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...