قومی اسمبلی،وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی،پارلیمانی جماعتیں میثاق معیشت پر دستخط کریں،خسرو بختیار،اجلاس کورم کے بغیر چلتا رہا

قومی اسمبلی،وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی،پارلیمانی جماعتیں میثاق ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ایوان میں وزیراعظم عمران خان کیلئے ”سلیکٹڈ‘ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی۔قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر عمرایوب خان نے تحریک استحقاق پیش کی۔ عمر ایوب خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہم حکومتی بنچوں سے تحریک استحقاق پیش کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم کو سلیکٹڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے جس سے ہمارا استحقاق مجروح ہوا ہے۔اس تحریک پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ایوان میں وزیراعظم کیلئے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس ہاؤس کا ممبر ہے وہ ووٹ لیکر آیا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ کوئی بھی یہ لفظ ایوان میں استعمال نہ کرے دریں اثناقومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اتوار کی چھٹی کے باوجود جاری رہا،حکومتی و اپوزیشن ارکان کی عدم دلچسپی کے باعث  سارادن اجلاس بغیر کورم کے چلتا رہا تاہم کسی رکن نے کورم کی  نشاندہی نہیں کی،  7 گھنٹے تک  جاری رہنے کے بعد اجلاس(آج) پیر دن گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا،اپوزیشن ارکان نے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ    بجٹ   آئی ایم ایف کی خوشنودی   حاصل کرنے کیلئے بنایا گیا،ٹیکس ا ہداف میں ناکامی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے،بھینسیں اور گاڑیاں بیچ کر سادگی کا ڈرامہ رچایا گیا،حکومت نے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو خوفزدہ کردیا،کوئی ملک میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں،  وزیراعظم نے دنیا بھر میں یہ پیغام دیا کہ پاکستان بینک کرپٹ، منی لانڈرنگ  والا ملک ہے،حکومت احتساب ضرورکرے مگر اپنے کاروباری لوگوں، انڈسٹری کااعتماد بحال کریں،حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ بجٹ ملکی معیشت کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا،خسارے کم کرنے کیلئے عالمی اداروں کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف کے 18ویں پروگرام کے بعد یہ پارلیمان فیصلہ کرے کہ یہ آخری پروگرام ہوگا،،بجٹ میں کم ترقی یافتہ علاقوں  کو زیادہ ریلیف دیا گیا،جنوبی پنجاب سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں مالی اور انتظامی خودمختاری دیں گے۔اتوار کوقومی اسمبلی میں ان خیالات کا اظہار احسن اقبال،راجہ پروز اشرف،امجد علی خان،شاہدہ اخترعلی،خسروبختیار و دیگر نے بجٹ پر عام بحث کے دوران کیا۔مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے کہا کہ بجٹ کسی بھی ملک کے معاشی روڈ میپ کا تعین کرتا ہے،   بجٹ میں حکومت نے عوام کیلئے روزگار پیدا کرنا ہوتا ہے، اکنامک گروتھ کسی بھی بجٹ کا بنیادی ہدف ہوتا ہے۔ مجوزہ بجٹ میں کوئی ایک تقاضا بھی پورا ہوتا نظر نہیں آرہا، بجٹ کو صرف آئی ایم ایف کا پروگرام حاصل کرنے کیلئے بنایا گیا،  صرف ایک چیز دیکھی گئی ہے کہ آئی ایم ایف کی خوشنودی کیسے حاصل کرنی ہے۔ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرز لینے کیلئے بجٹ منظور کرایا جائے گا۔ بدقسمتی سے حکومت ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت ماضی کی حکومتوں کو الزام ٹھہرا رہی ہے، حکومت ایک سال بعد بھی ہر چیز کا الزام کرپشن اور قرضوں پر ڈال رہی ہے۔ حکومت نئی نویلی دلہن نہیں، اسے حساب دینا پڑے گا، آج کا پاکستان کو ریکارڈ خسارے کا سامنا ہے، قرضے قرضے سن سن کر کان پک گئے ہیں، ہم اپنے حاصل کئے گئے قرضوں کا حساب دیں گے  مگر آپ بتائیں ایک سال میں پانچ ہزار ارب قرضے  لئے ملک میں ایک اینٹ نہیں لگائی، ٹیکس ہدف کے حصول میں ناکامی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے۔ بھینسیں اور گاڑیاں بیچ کر سادگی کا ڈرامہ رچایا گیا، حکومت بتائے انہوں نے ایک سال میں 5 ہزار ارب کا قرض لے کر کہاں لگایا؟ ، ہمارے وزیراعظم نے دنیا بھر میں یہ پیغام دیا کہ پاکستان بینک کرپٹ، منی لانڈرنگ  والا ملک ہے، وزیراعظم نے دنیا میں جو پیغام دیا آج وہ سچ ثابت ہورہا ہے، ایک سال پہلے کراچی سٹاک ایکسچینج  ایشیاء کی  بہترین سٹاک ایکسچیز میں شامل تھی آج کراچی سٹاک ایکس چینج کا شمار ایشیاء کی بدترین سٹاک ایکس چینج میں ہورہا ہے ، ہم نے میثاق معیشت بنایا تھا اور تمام صوبوں کی مشاورت سے  ویژن2025بنایا تھا، ہم نے 2025تک دنیا کی 25بہترین  معاشی ممالک میں شامل ہونا تھا،جو روڈ میپ ہم نے بنایا تھا اس پر عمل درآمد ہوتا رہا تو پاکستان 2030تک جی 20ممالک میں شامل ہوگا، وہ طاقتیں جو پاکستان کی ترقی کو نہیں دیکھ سکتی انہوں نے سازش کی، آج پاکستان کہاں کھڑا ہے ہم سب کے سامنے ہے،حکومت کہتی ہے کہ انکوائری کمیشن ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لے گا مگر بدقسمتی سے   انکوائری کمیشن میں سیکرٹری پلاننگ نہیں  ہیں،حکومت نے کیشن نہیں ایک اور جے آئی ٹی بنائی۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت کے کسی وزیر یا رکن نے بجٹ کے خدوخال پر بات نہیں کی ان کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ اپوزیشن پر تنقید کی جائے، حکومت کہتی ہے کہ ہمیں تمام چیزیں الٹی ملیں، کیا ذوالفقار علی بھٹو سے بھی مشکل حالات کسی حکومت کو ملے؟بھٹو صاحب کی ایک تقریر بتا دیں کہ  انہوں نے کہا  ہوکہ ہمیں مشکل حالات ملے، یہ ہوتی ہے لیڈرشپ،بار بار پچھلی حکومتوں پر تنقید کا سہارہ لے کر کچھ نہ کرنے کا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومت تنقید ضرور کرے لیکن تضحیک نہ کرے، پارلیمان کو بے توقیر مت کیا جائے۔یہ ہماری آنے والی نسلوں کا پارلیمان ہے، ہمیں اسی پارلیمان کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے،  2013میں جب ہماری حکومت ختم ہوئی تو جاری خسارہ 2.5ارب ڈالر تھا جو آج 22ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، سی پیک کا کریڈٹ سب لیتے ہیں،سی پیک سے گوادر کو نکال دیں تو کچھ نہیں رہتا، مشرف نے اگر سی پیک بنایا ہوتا  توگوادر سنگاپور  کو نہ دیتا، ہم نے سنگاپور سے لیکر گوادر چین کو دیدیا، ہمیں طعنہ دیا جاتاتھا کہ آصف علی زرداری ہر دو ماہ بعد چین کیوں جاتے ہیں، لیڈر  گلہ نہیں کرتا بلکہ مستقبل پر نظر رکھتا ہے۔۔وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بنادی خسرو بختیار نے کہا کہ ہماری حکومت کو تاریخ کا بلند ترین خسارہ ملا، تاریخ میں کسی حکومت کو یہ چیلنج نہیں ملا تھا، ہم نے ایک سال میں جاری خسارہ 20ارب سے 12.5ارب ڈالر پر لایا، خسارے کم کرنے کیلئے عالمی اداروں کے پاس جانا پڑتا ہے، آئی ایم ایف کے 18ویں پروگرام کے بعد یہ پارلیمان فیصلہ کرے  کہ یہ آخری پروگرام ہوگا، (ن) لیگ کی حکومت جی ڈی پی کا 84فیصد قرضے چھوڑ کر گئے، مشکل حالات کے باوجود غریب کیلئے بجلی کے سیکٹر میں 216ارب کی سبسڈی دی، (ن) لیگ کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم  تھیں،جس سے انہیں 32ارب ڈالر کا فائدہ  ہوا، ان کے پاس موقع تھا کہ وہ ملکی معیشت کو درست سمت میں ڈال سکتے تھے، (ن) لیگ کی پانچ سال حکومت  میں 12کھرب معیشت کا حجم بڑھا مگر اس میں 13.6ارب قرضے تھے، میرا سوال ہے کہ 1.6کھرب کے قرضے کہاں گئے، 1600ارب کے قرضے معیشت میں نظر نہیں آرہے،  گزشتہ حکومت نے روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے مستحکم رکھا۔ موجودہ حکومت نے احسن طریقے سے آئی ایم ایف سے بات چیت کی۔  ملک کو اس وقت میثاق معیشت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک اہم پالیسی ساز ادارہ ہے اور پارلیمنٹ میں میثاق معیشت تیار ہونی چاہیے تمام جماعتیں میثاق معیشت پر دستخط کریں، پاکستان کا جی ڈی پی ٹیکسریشو 11فیصد ہے جو خطے میں سب سے کم ہے،ان حالات میں کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر

مزید : صفحہ اول


loading...