وزیر اعظم عمران خان اور ایمنسٹی اسکیم!

وزیر اعظم عمران خان اور ایمنسٹی اسکیم!

وزیر اعظم عمران خان اور ایمنسٹی سکیم! شاید آپ کو یہ دونوں لفظ عام فہم لگیں لیکن اگر آپ اس سکیم اور عمران خان کے ویژن کی جانب نظر دوڑائیں تو یہ عام فہم الفاظ اس قوم کا سرمایہ حیات ہیں۔ یہ مضمون عمران خان پر نہیں ہے لیکن ان کے ویژن کی عکاسی ضرور کرتا ہے۔اس میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے عوام کیلئے دی جانی والی ایمنسٹی اسکیم کے موثر محرکات بیان کیے گئے ہیں جو یہ واضح کرے گاکہ یہ سکیم اس قوم کیلئے کتنی ضروری ہے۔بات کر تے ہیں اس ایمنسٹی سکیم کی اگر ہم ایف بی آر کی حوالے سے اس سکیم پر نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ اسکیم گزشتہ حکومتوں میں دی جانے والی اسکیموں سے کتنی مختلف اور عوام دوست ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اس سکیم کے تحت وزیر اعظم عمران خان کا ساتھ دیں کیونکہ یہ عمران خان کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ دنیا میں اس قوم کی بقاء کی جنگ ہے۔

موجودہ سکیم میں ایف بی آر کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی تھی کہ نیا متعارف کروائے جانے والا فنانس بل نان فائلر کو منقولہ جائیداد یا گاڑیاں خریدنے کی اجازت دیتا ہے۔ اصل میں اس کی حقیقت یہ تھی کہ یہ سارا سسٹم جو نئے فنانس بل میں متعارف کروایا گیا اس کے تحت نان فائلر اپنے اثاثہ جات ظاہر کر کے پاکستان کے ایک عام شہری کی طرح زندگی گزار سکتا ہے۔ ایف بی آر یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ پاکستان میں ہر فرد اور وہ لوگ جو پاکستان میں کاروباری طبقے سے وابستہ ہیں اور جنہوں نے ابھی تک کسی بھی وجوہات کی بناہ پر اپنی ٹیکس انکم ریٹرن واضح نہیں کی وہ لوگ اب assets declaration ordinance 2019کے تحت اپنے اثاثہ جات ظاہر کر سکتے ہیں۔اس سکیم کو متعارف کروانے کا ایک اور بنیادی مقصد ٹیکس دہندگان اور ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کے درمیان ایک اعتماد کا رشتہ بحال کرنا ہے۔ جس کیلئے پہلے سے ہی چند اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کو خوب عوامی پذیرائی ملی تاہم یکم جولائی سے ان لوگوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی جو اپنے اثاثے واضح نہیں کرتے۔حکومت کی جانب سے مذکورہ متعارف کروانے کا مقصد عام شہریوں کو یہ سہولت فراہم کرنا تھا کہ وہ ملکی یا غیر ملکی اثاثہ جات کو فوری قانونی دائرہ کار میں لاتے ہوئے ان کو باضابطہ رجسٹرڈ کروائیں۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے موجودہ سکیم کا مقصد عوام کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ معیشت میں قانونی طور پر حصہ لینے کے لئے کاروباری برادری کا استقبال کرنا ہے۔

اگر آپ اس پر مزید نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ ایمنسٹی سکیم کا ایک اور پہلو آمدنی پیدا کرنے کے علاوہ معیشت کو دستاویزی شکل میں ڈھالنا اور غیر رجسٹرڈ اثاثوں کی اندراج فہرست میں لانا ہے۔اس کے علاوہ کاروباری افراد کیلئے اپنی بیلنس شیٹ پر نظر ثانی کرنے کے لئے ایمنسٹی سکیم ایک سنہری موقع ہے۔دوسری طرف دماغ میں سوال بھی جنم لیتا ہے کہ موجودہ ایمنسٹی سکیم پچھلی حکومتی اسکیموں سے کیسے بہتر ہے توا س حوالے سے بھی اگر ہم چند بنیادی پہلوں پر غور کریں تو یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ یہ گزشتہ ادواروں میں متعارف کروائی جانے والی سکیم سے زیادہ بہتر اور مختلف ہے۔ گزشتہ سکیم میں بہت سے نان فائلر شامل نہیں ہوسکتے تھے اور اس سے یہ زیادہ تر فائلر کی جانب سے فائدہ اٹھایا گیا تھا. اس منصوبہ نے بیرون ملک رہائش پذیر افراد میں صرف 25 فیصد کو اپنی طرف متوجہ کیاجس کے سبب بنیادی طور پر متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور کینیڈا میں، اور زیادہ تر لوگوں نے اپنا پیسہ پاکستان سے باہر رکھنے پر ہی ترجیح دی تھی.اس اسکیم کے ابتدائی مسودے میں ذکر کیا گیاتھا کہ غیر ملکی ایمنسٹی سکیم کا منصوبہ زیادہ سے زیادہ کالا دھن سفید کرنے کیلئے استعمال کیا گیا اور یہ نہ صرف مجموعی طور پر اعلی سطح پر ٹیکس کی واپسی کیلئے اور نہ ہی 2018 میں اس سکیم کو اتنا مو ثر بنایا گیا تھا۔

سابقہ حکومت کی جانب سے جو ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی گئی اس کا مقصد ایسی سکیم متعارف کروانا تھا جس سے لوگ اپنے پوشیدہ اثاثہ ظاہر کر دیں، لیکن غیر واضح شدہ اثاثے اور بینک اکاؤنٹس بڑے پیمانے پر غیر پو شیدہ رہے جس سے اس سکیم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ غیر منقولہ جائیداد کے علاوہ دیگر تمام اثاثوں پر ٹیکس کی شرح کے 4فیصد، گھریلو غیر منقولہ اثاثوں پر 1.5فیصد شرح، غیر ملکی عام اثاثہ جات جسے آپ بیرون ملک رکھنے کے لئے6فیصد، 4÷ غیرواضح معمولی اخراجات پر 4فیصداور نامعلوم فروخت پر 2فیصد تھا۔اس میں نادہندہ کو اضافی چارج کیا گیا جسے ہم ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ رقم کا انتظار کیا جائے جو مکمل ٹیکس کی رقم کا40فیصد تک بڑھ گیاہے اور جس سے آپ کا 6فیصد، 8.4 فیصد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔عمران خان نے بھی قوم سے اپنے خطاب میں یہ واضح کیا کہ یہ منصوبہ عوام کے لئے گھرمیں چھپائے ڈالر، زیورات، بینامی اکاؤنٹس اور غیر ملکی اثاثوں پر رکھی رقم کا اعلان کرنے کیلئے ایک سنہری موقع ہے۔

وزیر اعظم نے پاکستان کے سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مدد فراہم کرنے اور شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈریسرچ سینٹر جیسے اداروں کو خیراتی عطیہ دینے کے لئے آنے والے پاکستان کی سخاوت کی بھی تعریف کی۔انہوں نے قوم کو بتایا کہ اگلے سال، ہمیں 5.5 ٹریلین آمدنی جمع کرنے کی ضرورت ہے. میرے خیال میں، اگر عام لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے تو، ہم ہر سال 8.5 کروڑ سے زائد جمع کر سکتے ہیں. ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے. ہم آزاد ہو سکتے ہیں، ہم ایک قوم کی شکل میں دنیا کے سامنے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں، ہمارے لوگ غربت سے باہر نکلیں گے. ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن کر سکتے ہیں. لیکن اس کے لئے، مجھے پاکستانی عوام کی مدد کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس تمام اعداد و شمار موجود ہیں۔ اگر آپ ایف بی آر کی ویب سائٹ پر جاتے ہیں، تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہم کون سا ڈیٹا رکھتے ہیں. میں آپ کے لئے مستقبل میں کسی قسم کی مشکل نہیں چاہتا لہذا پوری قوم سے اپیل ہے کہ وہ اس سکیم سے فائدہ اٹھا ئیں اور پاکستان کو اس مشکل وقت سے نکالیں۔

عمران خان کے اس اقدام اور خطاب نے قوم پر یہ واضح کردیا کہ اگر دنیا میں اپنی لوہا منوانا ہے تو ایک قوم کی شکل میں اکٹھے کھرا ہونا ہو گا صرف ایک ایماندار لیڈر اکیلا کچھ نہیں کر سکتا۔ قوموں کا وجود اور ان کا وقار اس قوم میں بسنے والے باسیوں سے بھی بنتا ہے۔

اگر ہم یہ کہیں کہ گزشتہ ستر سالوں میں پاکستان کیلئے اگر کوئی ایماندار اور لیڈر قوم کیلئے آیا تو وہ عمران خان ہے آپ نے اس قوم میں بہت سے ویژنری لیڈر دیکھے ہوں گے جن میں سے عمران خان ایک ہیں۔ آپ بے شک عمران خان سے لاکھ سیاسی یا شخصی اختلاف کر لیں لیکن قوم کیلئے ان کی خدمات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا اور مجھے یقین ہے کہ وہ بطور وزیر اعظم پاکستان بھی اس ملک کیلئے ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس سے اس ملک میں امن و استحکام اور خوشحالی آئے گی۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملک میں تبدیلی لانا محض کسی ایک لیڈر کا کام نہیں اس کے لئے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے ایک لمبا سفر ہے جسے ہر شہری نے انفرادی طور پر گزارنا ہے یہ صرف عمران خان کا سفر نہیں یہ اس قوم کا سفر ہے جسے اپنے سبز ہلالی پرچم کے استقلال کی جنگ لڑنی ہے اور دنیا کے سامنے اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر دیکھنا ہے اس لئے ہمیں عمران خان کی جانب سے اس قوم کی بہتری کیلئے اٹھا ئے ہر اقدام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے تا کہ یہ پرچم پوری دنیا میں ایسے ہی اپنی سبز چھاپ چھوڑتا رہے۔

مزید : رائے /کالم