چینی کے ذخائر وافر، پھر بھی مہنگی؟

چینی کے ذخائر وافر، پھر بھی مہنگی؟

سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر اعتراض کیا اور چینی، خوردنی تیل اور گھی جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاء پر ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کر دیا،انہوں نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ دوسری طرف وفاقی مشیر تجارت رزاق داؤد کا کہنا ہے کہ چینی کے ذخائر وافر ہیں۔ پانچ لاکھ ٹن برآمد کرنے کے باوجود کسی مرحلے پر قلت پیدا نہیں ہو گی، جبکہ صارفین چینی کے نرخوں پر بلبلا اُٹھے ہیں، جو52روپے فی کلو سے بڑھ کر72 روپے فی کلو ہو گئے ہیں اور مزید بھی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

حزبِ اختلاف تو بجٹ پر اعتراض کر کے اپنا حق استعمال کر رہی تھی،لیکن سابق وزیر خزانہ نے تو راز سے پردہ ہی اٹھا دیا اور بتایا کہ آئی ایم ایف نے گیس کے نرخوں میں 90اور بجلی کے ٹیرف میں 50فیصد اضافے کا کہا تھا۔ ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ کن طبقات کا تحفظ کر رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے ترجمان ”سٹیٹس کو“ کی مخالفت کرتے نہیں تھکتے، اور یہاں بجٹ تک کا فائدہ اسی صورتِ حال کو تقویت دے رہا ہے۔ یوں بھی چینی کی قیمت میں 20روپے فی کلو کا اضافہ بھی انہی طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہے۔ چینی فیکٹریوں کے مالک حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف سے تعلق رکھتے ہیں،جہانگیر ترین مالک ہیں تو آصف علی زرداری اور محمد شہباز شریف بھی اسی صنعت سے منسلک ہیں۔ بعض شوگر مل مالکان کی تو اجارہ داری ہے۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو بجٹ تیار کرتے ہوئے اس وقت ہٹایا گیا تھا، جب وہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کر کے واشنگٹن سے واپس آئے اور ان کی جگہ حفیظ شیخ مشیر خزانہ بن گئے تھے۔ اسد عمر کی طرف سے گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کی بات بتا کر یہ راز افشاء کر دیا گیا کہ سب مہنگائی اور سارے ٹیکس آئی ایم ایف کے ہی تجویز کردہ ہیں۔ بہتر ہو گا کہ اسد عمر اور علی محمد خان(وزیر مملکت پارلیمانی امور) کی بات سُن لی جائے اور ان کی تجاویز کے مطابق ہی ترامیم کر لی جائیں، ویسے حزبِ اختلاف کو بھی کٹوتی کی تحریکیں پیش کر کے عوامی مفاد میں بہتر تجاویز دیتا اور حکومت کو اتفاق رائے سے منظور کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ