قطر سے تجدید تعلقات

قطر سے تجدید تعلقات
 قطر سے تجدید تعلقات

  


تقریباً پانچ سال پہلے مَیں ادبی تقریبات میں شرکت کے لئے امجد اسلام امجد کے ہمراہ قطر گیا تھا۔ چارروزہ قیام کے دوران مَیں نے ایک بات خاص طور پر نوٹ کی کہ قطر میں بھارت،بنگلہ دیش، تھائی لینڈ اور ملائشیا کے ورکرز ہر جگہ اور ہر شعبے میں نظر آتے ہیں،پاکستانیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ یہ حقیقت بھی میرے لئے حیران کن تھی کہ قطر کی رائل فیملی کی تمام تر سیکیورٹی پر پاکستانی مامور ہیں۔ ایک طرف اتنی اہمیت اور دوسری طرف قطر جیسے مضبوط معیشت کے حامل اور تیزی سے اُبھرتے ہوئے ملک میں پاکستانیوں کی اتنی کم تعداد؟ ماجرا کچھ سمجھ سے باہر تھا۔وہاں میرے دوستوں میں امین موتی والا، عبدالباسط، حفیظ اللہ، فرقان پراچہ اور دیگر پاکستانی کمیونٹی کو فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اُن سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے پاکستان کی کمزور سفارت کاری کا شاخسانہ قرار دیا۔

یہ بھی کہا کہ قطری حکومت سے پاکستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں،جس کا فائدہ بھارت اٹھا رہا ہے۔ قطر کو ہر شعبے میں مین پاور کی اشد ضرورت ہے اور اس سے بھارتی حکومت مکمل طور پر آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت سب سے زیادہ قطر کا ورک ویزا حاصل کرنے والا ملک ہے۔مجھے یہ سن کر افسوس ہوا کہ ایک برادر اسلامی ملک ہمیں ترجیح دینے کی بجائے بھارت کو ترجیح دے رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں قطر کا بہت اہم کردار ہے۔ یہ تلخ حقیقت بھی موجود ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ قطر کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور اب بھی ہیں، پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں توازن نہیں رکھ سکا، جس کے باعث قطری قیادت پاکستان سے نالاں ہوئی۔گزشتہ دورِ حکومت میں پاکستان نے قطر سے این ایل جی کا تاریخی معاہدہ بھی کیا،مگر اس کے باوجود پاکستانیوں کے لئے قطر میں روزگار کے دروازے پوری طرح نہ کھل سکے۔

وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آئے تو انہوں نے جہاں قطر سے تعلقات بڑھانے پر توجہ دی، وہیں پاکستانیوں کے لئے روزگار کے دروازے کھولنے کی فرمائش بھی کر دی،جس پر یہ نوید سنائی گی کہ قطری حکومت نے ایک لاکھ پاکستانیوں کو ورک ویزے دینے کی حامی بھر لی ہے۔ایک ایسا ملک جو تیل اور گیس میں دُنیا کا امیر ترین ملک کہلاتا ہے، ہماری دسترس سے دور تھا اور ہمارے حکمرانوں کو اس کی پروا ہی نہیں تھی۔قطر میں رہنے والے پاکستانی بھی حیران تھے کہ قطری حکومت اور عوام ان کی محنت اور دیانتداری سے بے حد خوش ہیں،لیکن حکومتی سطح پر تعلقات کمزوری کا شکار ہیں،جس کے باعث پاکستان کو اس عظیم ملک میں وہ حصہ نہیں مل رہا،جس کا وہ حق دار ہے……

جس طرح ایک زمانے میں متحدہ عرب امارات قدامت سے جدت کی طرف سفر کر رہا تھا اور اسے لاکھوں افراد کی ضرورت تھی،اُسی طرح آج کل مشرقِ وسطیٰ میں سب سے مضبوط اور اُبھرتی ہوئی جدید معیشت قطر کی ہے۔2022ء میں وہاں فٹ بال ورلڈ کپ ہونے جا رہا ہے،اُس کے لئے متعدد سٹیڈیم اور شہر بنائے جا رہے ہیں۔دبئی کی طرح قطر بھی پاکستان کے قریب ترین موجود ہے، مگر ایک عرصے تک وہاں پاکستانیوں کو سیاحتی ویزا حاصل کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا، ورک ویزا تو بہت دور کی بات ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے تعلقات خراب ہوئے تو پاکستانیوں کو وزٹ ویزا ایر پورٹ پر ہی دیا جانے لگا جو اب تک جاری ہے۔

اپنے دورہئ قطر میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستانیوں کے لئے ایک لاکھ ورک ویزوں کی بات کی،جس پر قطر کی طرف سے آمادگی کا اظہار کیا گیا، اب قطر کے نوجوان امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی دو روزہ دورے پر اپنے وزراء سمیت پاکستان آئے۔ وزیراعظم عمران خان اور امیر قطر کے درمیان جو بے تکلفانہ ہم آہنگی نظر آئی،وہ اِس امر کا اظہار ہے کہ تعلقات میں گرم جوشی اپنی نقطہ ئ عروج تک پہنچ گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی کامیاب ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے کہ خلیج کی تین طاقتور اور مضبوط معیشتوں کے حامل ممالک یکے بعد دیگرے پاکستان سے تجدید تعلقات کے لئے اسلام آباد آئے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور اب قطر…… تینوں کے امراء کو وزیراعظم عمران خان نے گاڑی میں اپنے ساتھ بٹھا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔یہ اس امرکا بھی اشارہ ہے کہ ڈرائیونگ سیٹ اب پاکستان کے پاس ہے۔یہ تاثر بہت پہلے سے موجود ہے کہ سعودی عرب یا قطر میں سے کسی ایک کو آپ اپنے قریب کر سکتے ہیں، کیونکہ دونوں میں ایک واضح کشیدہ صورتِ حال موجود ہے۔ ماضی میں ایسا ہوا بھی اور ہم نے سعودی عرب سے تعلقات سیدھے رکھنے کے لئے قطر کو نظر انداز کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قطر پاکستانیوں کے لئے شجر ممنوعہ بنتا چلا گیا، اب صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان مسلم اُمہ کے لیڈر بن کر اُبھرے ہیں۔اسلامی سربراہی کانفرنس میں اُن کی تقریر نے پورے عالم اسلام کی نمائندگی کی۔انہیں سعودی عرب اور ایران دونوں ممالک میں یکساں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا کردار ایک ایسے بڑے بھائی کا بن گیا ہے، جو چھوٹے بھائیوں کی رہنمائی کرتا ہے۔سعودی عرب نے پاکستان کی کڑے حالات میں اقتصادی مدد کی اور اب یکم جولائی سے موخر ادائیگیوں پر پٹرول بھی فراہم کرے گا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو مایوس نہیں کیا اور بھرپور یکجہتی دکھائی……اب قطر کی باری ہے۔ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی ایک روشن ذہن رکھنے والے نوجوان ہیں۔ وہ قطر کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں۔

اُن کے والد حمد الثانی نے انہیں اقتدار سونپتے ہوئے اُن سے جو توقعات وابستہ کی تھیں،وہ اُن پر پورا اُتر رہے ہیں۔

اب تو قطر میں دُنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم ہو چکے ہیں،نئے شہر آباد ہو رہے ہیں، فٹ بال ورلڈکپ کے لئے ایسے سٹیڈیم بنائے جا رہے ہیں جن کی دُنیا میں مثال نہیں ملتی۔ انڈسٹری کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔ غرض قطر ایک تیزی سے اُبھرتا ہوا ملک ہے،جس کی جلد ہی دُنیا مثالیں دے گی۔ امیر قطر نے پاکستان کا دورہ کر کے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ قطر خطے میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کرتا ہے اور دو برادر اسلامی ممالک میں تعلقات کی یہ مضبوطی روشن مستقبل کی نوید ثابت ہو گی۔امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے دورہئ پاکستان کے دوران جو معاہدے ہوئے، وہ بھی اس امر کے عکاس ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اب سرد مہری کا کوئی عنصر موجود نہیں۔تین بڑے معاہدے منی لانڈرنگ روکنے اور تجارت بڑھانے کے حوالے سے ہوئے،جبکہ دفاعی تعاون میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان ساختہ جے ایف17 تھنڈر طیاروں نے امیر قطر کو آمد پر فلائی پاسٹ کر کے سلامی دی۔ قطر پہلے ہی ان طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کر چکا ہے۔ قطر نے سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں شراکت اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ پیداوار، ایوی ایشن، بحری امور، دفاعی پیداوار، ہائر ایجوکیشن، این ایل جی اور ایل پی جی کے شعبوں میں تعاون کی یاد داشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ قطر میں پاکستانی ورکرز بڑھانے پر بھی اصولی طور پر اتفاق ہو گیا۔امید ہے کہ اسی سال پاکستانیوں کی قطر ورک ویزوں پر بڑی تعداد میں روانگی ممکن ہو گی،جس طرح ستر کی دہائی میں دبئی کے ویزوں نے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اُسی طرح قطر میں پاکستانیوں کو بڑی تعداد میں کام کرنے کی اجازت ملی تو معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی۔

ہمیں توقع رکھنی چاہئے کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی آمد سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کی نئی راہیں کھلیں گی اور باہمی مفادات یکساں طور پر پروان چڑھیں گے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

مزید : رائے /کالم