مریم نواز کی پریس کانفرنس (1)

مریم نواز کی پریس کانفرنس (1)
 مریم نواز کی پریس کانفرنس (1)

  


مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس کے بعد سے حکومتی ایوانوں میں بے چینی اور گھبراہٹ نظر آتی ہے کہ اس کا جواب دینے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بہت سے ترجمانوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔حکومتی ترجمانوں کی تعداد کا کسی کو اندازہ نہیں غالباً کئی درجن لوگ حکومت کی (کسی کو نظر نہ آنے والی) کارکردگی کا دفاع کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں،جو حکومت ڈلیور کر رہی ہوتی ہے اس کی ترجمانی کے لئے ایک دو لوگ ہی کافی ہوتے ہیں۔ ترجمانوں کا جمعہ بازار تو تب سجتا ہے، جب کارکردگی صفر بٹا صفر ہو اور اس پر پردہ ڈالنے کے لئے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرتے رہنا مقصود ہو۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیمیں الگ ”حالت ِ جنگ“ میں رہتی ہیں اور ایک ہی ٹویٹ کی کاپی پیسٹ سینکڑوں آئی ڈیز سے ٹویٹ ہونے کی روائت بھی برقرار ہے،جھوٹ گھڑ گھڑ کر پھیلانا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا ہے، یہی نفسیاتی کیفیت رمضان میں اس وقت بھی دیکھنے میں آئی تھی، جب مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری ایک دن افطار پر اکٹھے ہوئے تھے۔ افطار کیا ہوئی جیسے حکومتی ایوانوں کو بجلی کے ہائی وولٹیج جھٹکے لگنے شروع ہو گئے۔ اسی طرح کچھ دن پہلے جب جاتی عمرہ میں ایک ظہرانہ کا اہتمام کیا گیاتو حکومت اور اس کے خیر خواہ تڑپتے رہے۔

یہ کیسے جمہوری لوگ ہیں، جن سے دو سیاست دانوں کی ملاقات، افطار یا ظہرانہ برداشت نہیں ہوتا۔ نوابزادہ نصراللہ خان زندہ ہوتے تو آج جیسی حکومت کے وزیر مشیر تو ہر وقت صدمہ کی حالت میں ہی رہتے۔ ان کا ری ایکشن دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ حادثاتی طور پر سیاست اور حکومت میں گھسیٹ لئے گئے ہیں، جن کا نہ تو سیاسی ذہن ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی تربیت ہوئی ہے، بس وفاداری بشرطِ استواری ہی ان کا اصل ایمان ہے اور ایمانی حالت نے ہی انہیں انعام و اکرام سے نوازا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ 26جون کو مولانا فضل الرحمان کی آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر پر حکومتی وزیروں اور سوشل میڈیائی مجاہدین کا ہیجان اور ہذیان کون کون سی حدود تجاوز کر جائے گا۔

مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس انتہائی اہم تھی، کیونکہ انہوں نے میاں شہباز شریف کی طرف سے حکومت کو دی گئی میثاقِ معیشت کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ ویسے میاں شہباز شریف کو یہ پیشکش کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ جب چاروں طرف انتقامی کارروائیاں عروج پر ہوں، اپوزیشن رہنماؤں کو پابند ِ سلاسل کیا جا رہا ہو، ان پر جھوٹے مقدمے بنائے جا رہے ہوں اور احتساب کے نام پر سیاسی انتقام لیا جا رہا ہو تو اس ماحول میں کسی بھی میثاق کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ میاں شہباز شریف کی پیشکش پارٹی کارکنان کے جذبات کی درست ترجمانی نہیں کرتی اور یہی وجہ ہے کہ مریم نواز شریف نے اس کو ابتدا ہی میں مسترد کر دیا ہے۔

اگر سیاست سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو ایک ایسی حکومت جو ملک کی معیشت کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہو اور جس نے اپنی معاشی ٹیم فارغ کرکے آئی ایم ایف سے ٹیم امپورٹ کی ہو تاکہ پاکستان کو مصر کے ماڈل پر چلایا جا سکے، معاشی طور پر اس ناکام حکومت سے کون میثاقِ معیشت کرے گا۔ حکومت کو اگر کوئی میثاق کرنا ہے تو پہلے اپنی معاشی پالیسیاں تو بنائے، پاکستان کو مصر بنانے کے میثاق میں کوئی اور کیوں شامل ہو۔ اس حکومت کے اپنے فارغ کردہ وزیر خزانہ اسد عمر نے بجٹ تقریر میں جس طرح حکومت کی کلاس لی ہے،اس سے کم از کم ان لوگوں کی آنکھیں ضرور کھل جانی چاہئیں،جنہیں ابھی تک کچھ امید باقی ہے۔

اسد عمر نے اپنی تقریر میں صاف صاف کہا کہ اگر ہونے والا احتساب سیاسی ہے تو یہ اچھا نہیں ہے اور اس کے نقصانات ہوں گے۔سابق صدر آصف علی زرداری بھی آج کل نیب کی قید میں ہیں۔انہوں نے بھی حکومت کو کہا ہے کہ پکڑ دھکڑ بند کرکے آگے چلیں تو ملک کا بھلا ہو گا۔ سابق صدر کی اس بات کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر سیاسی قوتیں آگے نہیں آئیں گی تو کوئی اور آئے گا۔اِسی لئے انہوں نے مشورہ دیا کہ جو قوتیں حکومت کو لائی ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ ایسا ماحول نہ بنائیں جسے بعد میں کوئی نہ سنبھال سکے۔ آصف علی زرداری نے جو باتیں تحمل سے کہی ہیں وہی باتیں بلاول بھٹو زرداری نے گرجنے والے انداز میں کہی ہیں، ظاہر ہے جوان خون جوان اور جذباتی ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو تنبیہ کی کہ وہ اتنا ہی ظلم کریں جتنا بعد میں خود سہہ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کا احتساب کہتا ہے کہ پی ٹی آئی میں آ جاؤ۔ ویسے بلاول غلط تو نہیں کہتے، جو جو مہا کرپٹ پی ٹی آئی میں شامل ہوا وہ ڈرائی کلین ہو کر صاف ستھرا بھی تو ہو گیا ہے۔

اپنی پریس کانفرنس میں مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ پارٹی قائد میاں نواز شریف کسی بھی قسم کے میثاق کے حق میں نہیں ہیں، چاہے وہ معیشت کے نام پر ہو یا جمہوریت کے نام پر۔ میثاقِ جمہوریت تو ویسے بھی جمہوریت پر یقین رکھنے والی پارٹیوں کے درمیان ہی ممکن ہے۔پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دس ماہ کی حکومت میں نہ صرف معیشت تباہ کر دی ہے، بلکہ جمہوری اقدار کی دھجیاں بھی اڑا دی ہیں۔ احتساب کے نام پر انتقامی کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔ میاں نواز شریف کو جیل میں طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کی میڈیکل رپورٹ اور ای سی جی میں دل کے مرض کی واضح نشاندہی موجود ہے، لیکن ان کا مناسب علاج نہیں کیا جا رہا۔ (جاری ہے)

مریم نواز شریف نے میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے والی میڈیکل زیادتیوں کی تفصیل بھی بتائی کہ انہیں اڈیالہ جیل کی قید کے دوران میں پچھلے سال جولائی میں دِل کا دورہ پڑا تھا جسے حکومت نے چھپایا، لیکن اب میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف کے دِل میں پڑے ہوئے کئی سٹنٹ ناکارہ ہو چکے ہیں اور یہ طبی لحاظ سے تشویش ناک صورتِ حال ہے۔ پاکستان میں صرف معیشت کے شعبہ ہی میں مصر کا ماڈل نہیں تھوپا جا رہا، بلکہ کچھ لوگوں کی یہ خواہش بھی ہو سکتی ہے کہ مصرکے پہلے جمہوری منتخب صدر محمد مرسی کی طرح میاں نواز شریف کو بھی حالت قید میں مرنے دیا جائے۔مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نہ تو مصر ہے اور نہ ہی میاں نواز شریف کو محمد مرسی بننے دیں گے، لیکن جو ہو رہا ہے وہ تو سب کو نظر آرہا ہے۔

پچھلے دس سال میں لئے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن تو تشکیل دے دیا گیا ہے،لیکن یہ سوال سب کی زبانوں پر ہے کہ صرف دو حکومتوں ہی کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے اور جنرل پرویز مشرف کا انتہائی کرپٹ دور اس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا ہے،ویسے بھی اس دور میں افغانستان کے خلاف فرنٹ لائین سٹیٹ بن کر مشرف حکومت نے اربوں ڈالر حاصل کئے تھے۔ ان اربوں ڈالروں کا حساب کون کرے گا۔اسی طرح موجودہ حکومت نے بھی اپنے دس ماہ کے دوران قرضے لینے کے جو نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں ان کی تحقیقات کون کرے گا۔ اس کمیشن پر ایک اور جائز اعتراض مختلف حلقوں کی طرف سے یہ بھی آ رہا ہے کہ معاشی تحقیقات پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران(جنہیں معیشت کی الف ب سے بھی واقفیت نہیں ہے) کی بجائے معاشی ماہرین کیوں نہیں کر رہے ہیں۔

ضرور پڑھیں: لباسِ جسم و جاں

مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اس دور کی تحقیقات کیسے کریں گے، جس میں وہ خود وزیر خزانہ تھے، اس لئے دیکھا جائے تو یہ کمیشن بھی ایک ڈرامہ ہے، جس کے ذریعے لوگوں کی توجہ اصل مسائل اور حکومت کی معاشی کارکردگی سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مریم نواز شریف نے بالکل درست کہا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی حکومت کی نااہلی، معیشت کو تباہ کرنے اور سیاسی انتقامی کارروائیوں میں حکومت کی شراکت دار کیوں بنے گی۔

کوئی مانے یا نہ مانے، لیکن پاکستانی سیاست میں مستقبل کی قیادت عمر رسیدہ عمران خان نہیں، بلکہ نوجوان مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھوں میں ہو گی۔ عمران خان اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ وہ ہمیشہ سے سلیکٹروں کو پسند رہے ہیں۔ انہوں نے قومی ٹیم کے لئے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 1971ء میں کھیلا تھا، چونکہ ان کی سلیکشن میرٹ کی بجائے سلیکٹروں کی ذاتی پسند پر ہوئی تھی اِس لئے چھ سال تک کرکٹ کے میدان میں وہ ڈلیور نہ کر سکے۔ البتہ 1977ء میں سڈنی ٹیسٹ کے بعد ان کے کیرئیر میں کامیابیاں شروع ہوئیں، جو بالآخر 1992ء میں ورلڈ کپ کی فتح تک جاری رہیں۔ اب وہ پاکستان کے وزیراعظم تو ضرور ہیں، لیکن عمر کے اس حصہ میں ہیں، جس میں یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ کب تک وہ عملی سیاست میں رہیں گے۔اِسی لئے بلاول بھٹو نے عمران خان کو للکار کر کہا ہے کہ آپ 70 سال کے بوڑھے اور میں 30سال کا نوجوان ہوں۔

اِس کا مطلب ہے کہ اگر وہ سیاست یا حکومت میں رہتے ہیں تو بھی وہ چند سال سے زیادہ عملی طور پر زیادہ متحرک نہیں رہ پائیں گے اور کوئی نہ کوئی ان کے بعد ان کے خلا کو پُر کرے گا کہ یہی قدرت کا نظام ہے۔ ویسے آج کل ان کی زیادہ توجہ سیاسی مخالفین کو دھمکیاں دیتے رہنے کے علاوہ موقع بے موقع آئے دن قوم سے خطاب پر ہے۔ان کے خطاب کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا، کبھی صبح صبح اور کبھی آدھی رات کو ان کا خطاب نشر ہوتا ہے، جن میں اپوزیشن کو خوب دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ عمران خان کی حکومت کا ایک سال پورا ہونے میں صرف چند ہفتے ہی رہ گئے ہیں اور اِس دوران انہوں نے کیا ڈلیور کیا ہے اور پاکستانی عوام کو کتنا ریلیف ملا ہے اس طرف تو وہ غالباً سوچتے بھی نہیں ہیں ورنہ کبھی تو مخالفوں کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ اپنی کارکردگی کا ذکر بھی کرتے۔

مریم نواز شریف 45 سال اور بلاول بھٹو زرداری 30 سال کے ہیں۔ ان دونوں کو سب سے بڑا ایڈوانٹیج یہ ہے کہ دونوں کے پاس بہت وقت موجود ہے اور دونوں کی سیاسی اٹھان ان کی واپسی کا پتہ دیتی ہے۔ مریم نواز شریف نے پریس کانفرنس میں میاں شہباز شریف کی مصالحت پسندی کو مسترد کرکے عندیہ دے دیا ہے کہ اگلے چند ماہ میں حالات کیا رُخ اختیار کریں گے۔

مزید : رائے /کالم