زکوٰۃ اور خیرات حق دار تک پہنچنی چاہئے

زکوٰۃ اور خیرات حق دار تک پہنچنی چاہئے
 زکوٰۃ اور خیرات حق دار تک پہنچنی چاہئے

  


مخیر ادارے جو خود کو زکوٰۃ کا اصل حقدار بنائے ہوئے ہیں، بڑے زور و شور سے اس کی تشہیر کرتے ہیں کہ ہمارا یہ ہسپتال ہے۔ ٹھیک ہے، اگریہ ادارے عوام کی خدمت کر رہے ہیں تو کرتے رہیں، چندہ دینے والے کے پاس اپنا مال ہے جو وہ کسی کو بھی دینے کا اختیار رکھتا ہے، لیکن زکوٰۃ بالکل ہی الگ چیزہے یہ خیرات ہے نہ صدقہ ہے، یہ ایک شرعی حق ہے۔ حقدار کو پہنچانا مشکل نہیں۔ ہر صاحب نصاب جانتا ہے کہ اس کے اردگرد حلقہ عمل میں کون زکوٰۃ کا مستحق ہے اور خود بھی اپنے حقدار کا یہ حق کسی اور جگہ جاکر دیتاہے تو غلط ہے۔

زکوٰۃ کے مصارف کا طریقہ کار وضع شدہ ہے، اس کا فرض صرف دینا نہیں، بلکہ اصل حقدار کودینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جب بھی آپ کسی کو زکوٰۃ دیں تو سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دیں۔ اسی طرح عیدالاضحی کے موقع پر بھی ہمارے ملک میں بہت زیادہ خیرات کی جاتی ہے اور وہ خیرات بکرا، گائے کی کھال کی صورت میں کی جاتی ہے تو اس بات کا بھی ہمیں خیال رکھنا چاہئے کہ اس کا اصل حقدار کون ہے۔ یہ نہ ہوکہ ہم انجانے میں ان لوگوں کی مدد کر رہے ہوں جو اس کا غلط استعمال کرتے ہوں۔جو اِن ڈائریکٹ ہمیں ہی نقصان پہنچا رہے ہوں۔

ہمارے معاشرے میں روز بروز بڑھتی ہوئی غربت کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب ہم اپنی زکوٰۃ اور خیرات دیتے ہیں تو اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ ہمارے صدقات، خیرات کس شخص کو جارہے ہیں، کیا وہ اس کا مستحق بھی ہے کہ نہیں؟ ہماری دی ہوئی زکوٰۃ، صدقات، خیرات ہمارے ملک کے خلاف بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ تحقیق کر لینی چاہئے، کہ یہ بندہ اس کا حقدار بھی ہے۔

جب ہم اس بات کی تحقیق کرلیں کہ ہمارا دیا ہوا پیسہ صحیح معنوں میں استعمال ہو رہا ہے تو ایک طرف بڑھتی ہوئی غربت کا خاتمہ ہوگا اور دوسرا اکثر ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کے حقدار تو ہوتے ہیں،لیکن کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرتے۔ پاکستان میں سالانہ تقریباً پانچ سو ملین روپے کی خیرات ہوتی ہے، چاہئے کہ جو اس کے اصل حقدار ہیں یہ انہی تک پہنچے۔ جب بھی ہمارے ملک میں کوئی دہشت گردی کا کوئی افسوسناک واقعہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ان لوگوں کو ان کے مذموم عزائم کے حصول کے لئے رقم کہاں سے آتی ہے؟

افسوس کہ آج کل بہت سے سماج دشمن جرائم پیشہ اور دہشت گردعناصر دینی یا سماجی بہبود کے کارکن کا لبادہ اوڑھ کر عوام سے ان کی حق حلال کی کمائی کا ایک بڑا حصہ لے اڑتے ہیں، مگر کیا ہم اس ڈر سے صدقات، خیرات دینا چھوڑ دیں؟ ہرگز نہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ خیرات کرتے وقت اس کاروبار میں ملوث کالی بھیڑوں سے بچنے کی کوشش کریں، دیکھ بھال کر دلی اطمینان کرنے کے بعد ہی فلاح و بہبود کرنے والے اداروں کو دیں جو صحیح معنوں میں آپ کی دی ہوئی رقوم کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ تنظیمیں جو حکومت پاکستان سے منظور شدہ ہوں، اُنہیں خیرات دینی چاہئے۔

آج کے زمانے میں بہت سے ایسے طریقے موجود ہیں جن کی مدد سے امداد کا تقاضا کرنے والی تنظیموں کی کارکردگی ان اداروں کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ایسے اداروں کے ساتھ تعاون کریں جن کا فلاحی کاموں کا مربوط اور قابل یقین ریکارڈ موجود ہو۔ اس کے علاوہ ہمیں قربانی کی کھالوں کا بھی صحیح استعمال کرنا چاہئے، کیونکہ کافی سارے عناصر ان کا غلط استعمال کرتے ہیں،اللہ تعالی کو کبھی پسند نہیں ہوگا کہ ہماری دی ہوئی رقم غلط مقصد کے لئے استعمال ہو۔

مزید : رائے /کالم