صوبائی حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا:شہرام ترکئی

صوبائی حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا:شہرام ترکئی

پشاور (سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ 2019-20 کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا یے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صوبے کے غریب عوام کو درپیش مسائل کو سامنے رکھ کر عوام دوست بجٹ پیش کیا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ضم اضلاع، صحت، تعلیم، سیاحت اور مقامی حکومتوں سمیت صوبائی دارالحکومت پشاور اور دیگر کم ترقی یافتہ اضلاع کی اپ لفٹ پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات کا صوبائی اسمبلی کے بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپوزیشن کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویے کے باوجود اپوزیشن رہنماؤں کی اچھی تجاویز کو بجٹ میں شامل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو تنقید برائے تنقید کی بجائے ہمارے اچھے اقدامات کو سراہنا چاہیے۔ شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ ہمارے گزشتہ دور حکومت میں صحت انصاف کارڈ کا اجراء ایک انقلابی قدم تھا جو کہ اب سیاسی و لسانی وابستگی سے بالاتر ہوکر صوبے کے ہر شہری کو ملے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کینسر کا علاج بھی مفت ہو گا جس کے لئے بجٹ میں 820 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ ضم اضلاع کے حوالے سے وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ ان اضلاع کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خطیر رقم رکھنا صوبائی حکومت کا احسن اقدام ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ضم اضلاع کی ترقی کے لیے 62 بلین روپے رکھے گئے ہیں جو کہ وہاں کی عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام سب سے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں اسی پیش نظر انہیں بجٹ میں زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے لیے 46 بلین روپے رکھے گئے ہیں جن میں ضم اضلاع کی مقامی حکومتیں بھی شامل ہوں گی۔ صوبے کی معیشت کے حوالے سے شہرام خان ترکئی نے کہا کہ اسے ترقی دینے کے لیے سیاحتی صنعت کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ بلدیات اور محکمہ سیاحت مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں سیاحت کی زیادہ مواقع موجود ہیں ان علاقوں کو زیادہ ترقی دی جائے گی۔ شہرام خان ترکئی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں 55 ہزار اساتذہ بھرتی کیے جبکہ اس سال 25 ہزار نئے اساتذہ بھرتی کریں گے۔ سکولوں میں بنیادی ضروریات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پرائمری و مڈل سکولوں میں 6 ہزار نئے کلاس رومز بنائے جائیں گے جبکہ طالبات کے لیے 1.8 بلین کے وظائف بھی رکھے گئے ہیں۔ پشاور کی ترقی اور صفائی کے حوالے سے وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ صوبائی دارلحکومت کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی پشاور کو 2 ارب روپے مہیا کیے جائیں گے جبکہ شہر کی ترقی اور اپ لفٹ کے لئے 4.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ رنگ روڈ، نیو بس اسٹینڈ، ریگی ماڈل ٹاؤن کی تعمیر و بحالی پر خرچ کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر کا اسمبلی اجلاس سے خطاب میں کہنا تھاکہ ٹانک میں ہمارا ایم پی اے اور ایم این اے نہ ہونے کے باوجود ضلع کو اپ لفٹ اور بیوٹیفکیشن پروجیکٹ میں شامل کیا۔ اسی طرح ضلع کرک میں گیس کی فراہمی کے لیے کام کیا جا رہا ہے جبکہ ضلع اپر دیر کی ترقی کے لیے بھی اس بجٹ میں فنڈز رکھے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...