محمدمرسی، پانامہ، سویز،باسفورس، سی پیک

محمدمرسی، پانامہ، سویز،باسفورس، سی پیک
 محمدمرسی، پانامہ، سویز،باسفورس، سی پیک

  


اس ہفتے کی اندوہناک خبر محمد مرسی کی شہادت کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے۔ اس خبر نے تو پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ میں خود کو محرم راز خالقِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی عالم گیر امت مسلمہ کا معمولی سا وجود سمجھنے کے علاوہ اس ضمن میں او ر کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ مرسی بھائی کو پنجرے میں بند کرنے کا پڑھتے ہی میرا ذاتی خیال ہے، اس عالم گیر اُمت کا ہر شخص یعنی سوچنے سمجھنے والا ہر شخص اگر سڑکوں پر نہیں نکل سکا تو اس کی روح آزاد منش، آزاد رو او ر آزاد طبع پرندے کی طرح تڑپی ضرور ہو گی۔ لیکن…… لیکن……میرا یقین کامل ہے کہ نہیں تڑپا تو میرا بھائی، میرے وجود کا حصہ محمد مرسی نہیں تڑپا ہو گا۔

کیوں؟ ہم سب کا اصل شجرۂ نسب ایک زاویے سے حضرت ایوب علیہ السلام سے بھی تو ملتا ہے۔ میرے بھائی، میری شناخت، میرے فخر نے تو صبر ایوب کو الفاظ کے قالب سے نکال کر صدیوں بعد اسے دوبارہ عمل کا رُوپ دے دیا ہے۔ قارئین کرام! اس میں بھی بڑی خیر ہے۔مرسی کی اس شہادت نے مسلمان معاشروں کو اپنی اپنی ریاستی ہیئتِ حاکمہ کا اصل او ر مکروہ چہرہ دکھا دیا ہے۔ نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر! ایک ہی اسکرپٹ، وہی ہدایت کار اور وہی صدیوں پرانے رومن اکھاڑے کا منظر۔ کہیں قیدوبند، کہیں پھندا، کہیں پنجرہ، کہیں سید اکبر کی 16 اکتوبر 1951ء کی گولی اور کہیں 28 جولائی 2017ء کا عدالتی فیصلہ۔ یہ سب کچھ ایک عالم گیر امریکی اسکرپٹ کی ایک ہلکی سی جھلک ہے جسے ذہین قارئین کبھی کبھی دیکھ لیتے ہیں۔ تو پھر مسئلے کی نوعیت کیا ہے؟آئیے دیکھتے ہیں۔

ہمارے ذرائع ابلاغ مدتوں سے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت پر اپنے اپنے انداز میں کہہ بول رہے ہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ مبالغہ اس وقت ہوتا ہے جب یہ لوگ بس پاکستان ہی کی جغرافیائی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ اہمیت صرف پاکستان کو حاصل ہے۔ یہاں سے لکیر کا فقیر ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ کوئی ایک لکھتا ہے تو اس کے بعد انہی خطوط پر لکھنے والوں کی ایک قطار لگ جاتی ہے۔ میرے خیال میں اپنے دانشوروں سے یہ گزارش کی جا سکتی ہے کہ جو بھی لکھو بولو، پڑھ سن کر اور مسلہ زیرِبحث کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر کے بولا کریں، لکھا کریں۔ مثال کے طور پر جغرافیائی اہمیت کے خطوں ہی کو لے لیں۔امت مسلمہ کی اسلامی شناخت، جہاد اور اس طرح کے بہت سے موضوعات و عنوانات کی اہمیت مسلّمہ ہے۔ یہ سب اس امت کی ضرورت ہیں۔

لیکن مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام انہیں موقع کی مناسبت سے گوارا کرنے میں کبھی تامل کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ برطانیہ اور آسٹریلیا کا تو مجھے بخوبی علم ہے کہ یہ دونوں ملک برصغیر کے جن مدارس کے پیچھے ہر وقت ہاتھ دھو کر پڑے رہتے ہیں، اپنے ہاں انہوں نے نہ صرف مدارس کے قیام کی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ حکومتی سطح پر ان مدارس کو امداد بھی دی جاتی ہے۔ یہ سارے کام موقع کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے نام میں ”اسلامی“ کے ہونے نہ ہونے پر گزشتہ ستر سال سے مغربی دنیانے ہمارے مقامی دانشوروں کو ایک نامعقول بحث میں لگا رکھا ہے۔ تاثر ہمیشہ یہ دیا گیا ہے کہ مغربی دنیا کو پاکستان کی اسلامی شناخت پر اعتراض رہتا ہے۔

ایک حد تک، ایک معمولی یعنی بحث برائے بحث کی حد تک یہ بات درست ہے۔ لیکن اس بارے میں کیا کہیں گے کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کی نگرانی میں 2004ء میں جب اس اُدھڑے ہوئے ملک کا چھٹا دستور بنا تو تاریخ میں پہلی دفعہ اس کا نام ”اسلامی جمہوریہ افغانستان“ قرار پایا۔ اور پھر یاد دلا دوں یہ بابرکت کام امریکی فوجوں کی نگرانی میں ہوا۔ قارئین کرام! مغربی دنیا مقامی دانشوروں کو اس قسم کی لایعنی بحثوں میں لگا کراپنے مقامی کارندوں سے بڑی خاموشی سے دیگر کام کراتی رہتی ہے اور ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔

قارئین کرام! دنیا کی چار اہم ترین تجارتی اور تزویراتی (Stratigic) بحری گزرگاہوں میں سے تین گزرگاہوں کے ٹینٹوے پر کسی نہ کسی مضبوط اسلامی ملک کا انگوٹھا ہے۔ یہ چار راستے یہ ہیں: نہر پانامہ جو بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کو باہم ملا کر دنیا کی بحری تجارت کے بڑے حصے کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس نہر پر 1902ء کے سو سالہ معاہدے کے تحت امریکہ کا گہرا عمل دخل ہے۔ اس معاہدے کی مدت تو ختم ہو چکی ہے لیکن اس نہر پر امریکی عمل دخل اب بھی نہایت گہرا ہے۔ اس نہر کی اہمیت کا اس سے اندازہ کر لیں کہ کوئی دس سال قبل پانامہ کے پڑوسی ملک ایکواڈور نے 250 کلو میٹر طویل ایسی ہی ایک نئی نہر تعمیر کرنے کے لیے ہانگ کانگ میں قائم ایک چینی کمپنی سے معاہدہ کیا تو چند سالوں میں اس کمپنی کا وجود ہی دنیا سے ناپید ہو گیا۔ہانگ کانگ میں قائم اس چینی کمپنی نے بھی پاکستان کی طرح سی پیک کی عیاشی کرنے کی کوشش کی تھی۔ نہر پانامہ کے اس راستے کی امریکہ کو کوئی فکر نہیں ہے۔

باقی تین اہم ترین خطے اسلامی ممالک کی شناخت ہیں۔ آبنائے باسفورس، بحرِ اسود اور بحیر ۂ روم کو ملاتا ہے۔یہ گزرگاہ ترکی کے قبضے میں ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی کے ہارنے پر ترکی اور اتحادی ممالک میں 1920ء میں معاہدہ سِیورَس (Sevres Treaty) ہوا جس کے تحت بحرِ اسود اور بحرۂ روم کو ملانے والی اس گزرگاہ کو بین الاقوامی اہمیت کی حامل قرار دے کر ترکی کو کسی بھی طرح کی راہداری فیس عائد کرنے سے روک دیا گیا۔ اس معاہدے کی نئی شکل 1923ء کا معاہدہ لوزان تھا۔ ترکوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اس معاہدے کی مدت 2023ء میں ختم ہو جائے گی۔

اس کے بعد نہرسویز اور نہر پانامہ کی طرح راہداری فیس عائد کرکے اس گزرگاہ سے ترکی بھی اربوں ڈالر سالانہ صرف بحری تجارت سے کمایا کرے گا۔ طیب اردوان اس بابت بڑے یکسو ہیں۔ اب شاید ہمارے قارئین کو جولائی 2016ء کی ناکام ترک فوجی بغاوت کا پس منظر بخوبی سمجھ آ چکا ہو گا۔ وہی اسکرپٹ، وہی ہدایت کار اور وہی صدیوں پرانے رومن اکھاڑے کا منظر۔ کہیں فوجی بغاوت، کہیں پھندا، کہیں پنجرہ۔اسی گزرگاہ کے توسط سے یوکرین اور بلغاریہ میں امریکہ اپنا عمل دخل بڑھا کر روس کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہے۔ 2023ء میں ترکی اس گزرگاہ سے نئے انداز میں نمٹے گا۔ ادھر امریکہ اب بھی ترکی میں باقی عالم اسلام کے ممالک کی طرح کسی ممکنہ فوجی حکومت اور فوجی بغاوت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔

تیسرا اہم ترین خطہ نہر سویز ہے۔ مصری جرنیلوں کے ہاتھوں محمد مرسی کی معزولی کا سبب اگر کوئی مرسی کی اسلامی شناخت سمجھے تو مجھے اس بے چارے پر ترس آئے گا۔ محمد مرسی نے اقتدار سنبھالتے ہی روس سے تجدید تعلقات کو مزید رواں کیا اور آندھی بگولے کی طرح اس زمانے میں روسی لابی ہی کے ملک ہندوستان میں جا دھمکا۔ وہاں اس نے نہر سویز کے توسیعی منصوبے میں ہندوستان کو شمولیت کی پیشکش کی جو امریکی دُم پر پاؤں تھا۔ اس کا واضح سا مطلب ہندوستان کے توسط سے خطے میں روس کا عمل دخل بڑھانا تھا۔ پھر صرف ایک سال بعدیہاں کی طرح وہاں مصرمیں بھی سڑکوں پر خادم حسین رضوی کی قسم کے لوگ دھمال ڈال رہے تھے۔

یہاں 2014ء کا دھرنا اور وہاں مرسی کے جرنیل اپنے وہاں کے لبیک یا رسول اللہ کو خان خلیلی کے بازاروں میں سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہے تھے: ”ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟ ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟“

امریکی نقطہئ نظر سے تیسرا اہم ترین خطہ تیل کی دولت سے مالامال خلیج کے دہانے پر واقع اور ایٹمی قوت سے لیس ملک پاکستان ہے۔ پاکستان کی اہمیت ایک اعتبار سے دو چند ہے۔ اولاً یہ ملک خلیجی گزرگاہ کو مسدود کر کے تیل کی سپلائی بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ملک کوئی نیپال یا ملائشیا تو ہے نہیں، ایٹمی طاقت ہے۔ دوسری طرف یہ ملک روس اور ہندوستان کو بذریعہ موٹروے ملانے سے ذرا دوری پر ہے۔ ذرا سوچیئے! یہ 1990ء میں موٹروے لاہور سے پشاورلے جانے کا کیا جواز تھا؟ہماری تجارت تو شمال جنوب کو کراچی پشاور کے راستوں پر ہے؟ 1993ء میں پھر اقتدار سنبھالتے ہی پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ وہی موٹروے ہی کیوں؟ تیسری دفعہ کی حکومت میں منفی 200 ڈگری سینٹی گریڈ درجہئ حرارت کے مزاج اور فولادی اعصاب کے مالک اس پرچی بردار وزیراعظم نے چین کو زمینی راستہ دے کر گویا ہائیڈروجن بم کا دھماکہ کر دیا۔

اس اہم ترین خطے میں امریکہ نے ایران کے بالمقابل چھوٹی چھوٹی خلیجی ریاستوں میں بڑی حد تک پیش بندی کر رکھی ہے۔ کیا کسی کو یاد ہے کسی زمانے میں یورپ اور ایشیا کو فضائی راستوں سے ملانے والا شہر کراچی تھا جہاں زندگی کی ہر سہولت موجود تھی۔ اس شہر کراچی اور اس ملک پاکستان سے نمٹنے کے لیے ایک ایسی خلیجی ریاست کا انتخاب کیا گیا جہاں پانی تو کیا گھاس کی پتی تک نہیں تھی۔ تیل کی سپلائی لائن کے راستوں میں یہ خلیجی ریاست پاکستان اور بالخصوص گوادر کے لیے امریکی پولیس مین ہے۔ وہی اسکرپٹ، وہی ہدایت کار، کہیں پولیس مین، کبھی فضائی حادثہ، کہیں پھندا، کہیں پنجرہ۔

مرسی کی شہادت نے کس دردمند شخص کو بلاتخصیص مذہب سوگوار نہیں کیا۔ میں کوڑے کے ڈھیر سے پھول اُگانے کا عادی ہوں لیکن آج ایک ہفتے بعد بھی دل کے زخم مندمل ہونے کو نہیں آ رہے۔ پر اس شخص نے مر کر، پنجرے میں مر کر اپنے ملک کے جرنیلوں کے ابلیسی چہرے مصری عوام ہی پر واضح نہیں کیے، پورے عالم اسلام کو اس نے بتا دیا کہ بارہ شیروں والا یہ لکی ایرانی سرکس ایک شہر میں تماشا دکھا کر اگلے کسی شہر میں پڑاؤ کرتا ہے۔ جکارتہ، استنبول، قاہرہ، اسلام آباد، ایک ہی رِنگ ماسٹر، ایک ہی اسکرپٹ، ایک ہی طرح کا ڈراپ سین۔اور اس اسکرپٹ کے شکار؟

کبھی لیاقت علی خان، کبھی ملک فیروز خان نون! کہیں بنگ سوئیکارنو تو کبھی عدنان مندریس، کبھی جنرل محمد ضیاء الحق شہیداور محمدمرسی تو کہیں جنرل اختر عبدالرحمن شہید، کبھی ذوالفقار علی بھٹو تو کبھی نواز شریف،اس لکی ایرانی سرکس کے مہرے اور ان کے شکار سب کے سب مقامی! اور شاطر؟ بحرِاوقیانوس کے دو طرفہ پانیوں کے دو شناور، دو نہنگ، دو مگر مچھ! و فیکم سمعونلہم ”(اے ایمان والو) تمہار ے اندر ان کے سننے والے (جاسوس) موجود ہیں۔“کون ہیں وہ لوگ؟ مجھے امید ہے کہ ہماری نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی ان لوگوں پر نظر رکھے گی۔ اسی طرح جس طرح کوئی دو ہفتے قبل ہماری فوج نے اپنے ایک سہہ ستارہ جنرل او رایک بریگیڈیئر کو امریکی جاسوس ہونے کے الزام میں پھڑکا کر رکھ دیا۔

کبھی سیداکبر کی گولی، کبھی تارہ مسیح، کبھی واٹس ایپ، کبھی جیل، کبھی فضائی حادثہ اور کبھی پنجرہ۔ قارئین کرام! کیا ایک ہی طرح کا کھیل دیکھ دیکھ کر لوگ اس سرکس پر آج کل کچھ تبرہ بازی نہیں کر رہے؟ توسرکس کے بارہ شیر جیتیں گے یا بائیس کروڑ حشرات الارض؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ شیر، ہاتھی، بھیڑیے کتنے ہی طاقتو ر کیوں نہ ہوں، مچھروں سے نہیں لڑ سکتے۔

مزید : رائے /کالم