امریکی ڈرون کا مار گرایا جانا

امریکی ڈرون کا مار گرایا جانا
 امریکی ڈرون کا مار گرایا جانا

  


اگلے روز (جمعرات،20جون) یہ خبر تو آپ نے دیکھی اور پڑھی ہو گی کہ امریکہ کا ایک سروے لینس ڈرون ایرانی فورسز نے خلیج فارس پر پرواز کرتے ہوئے مار گرایا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جاپان اور ناروے کے دو آئل ٹینکرز خلیج عمان (بعض لوگ اسے ”اومان“ بھی لکھتے ہیں)میں محوِ سفر تھے کہ ان میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ امریکہ نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے خلیج عمان کے بین الاقوامی پانیوں میں بحری بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں اور یہ آئل ٹینکرز انہی سرنگوں سے ٹکرا کر زخمی ہوئے۔ راقم السطور نے اس موضوع پر ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا: ”امریکہ،ایران پر حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے“۔ بظاہر اس موضوع پر صدر ٹرمپ اور پینٹاگون ایک صفحے پر نہیں ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر ایران کو فی الفور ”سبق“ سکھانے کے حق میں ہیں جبکہ ٹرمپ فی الحال ”صبر“ سے کام لے رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان آئل ٹینکروں پر خود امریکہ نے میزائلوں یا مارٹروں سے حملہ کیا ہے اور نام ایران کا لگایا ہے۔ امریکہ کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے کہ وہ اس قسم کی ”حرکات“ پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ میں نے اگست 1964ء میں خلیج ٹان کن (Tonkin) میں ایک امریکی تباہ کن بحری جہاز پر حملے کی مثال دی تھی۔ آج سے 55سال پہلے امریکہ نے شمالی ویت نام پر اس جنگی جہاز پر حملے کا الزام لگایا تھا جس کے نتیجے میں وہ جنگ شروع ہو گئی تھی جو 1965ء سے 1978ء تک لڑی گئی۔ اس میں امریکہ کے 60ہزار فوجی مارے گئے تھے اور نجانے کتنے ہزار/ لاکھ زخمی اور عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے تھے۔

امریکہ میں یہ صدر جانسن کا دورِ صدارت تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کے لئے یہ ویت نام وار خونریز ترین جنگ تھی۔ اب معلوم یوں ہوتا ہے کہ موجودہ صدر امریکہ کو وہ جنگ اور اس میں ہونے والے اپنے جانی نقصانات کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہے۔ اس جنگ میں روس اور چین، شمالی ویت نام کی پشت پناہ تھے اور آج بھی یہ دونوں ممالک ایران کی پشت پناہ ہیں۔ امریکہ،شام کی جنگ میں اس کا ثبوت دیکھ چکا ہے اس لئے اس کے باوجود کہ امریکہ میں طاقتور اسرائیلی لابی، نیتن یاہو اور امریکی وزارت دفاع و خارجہ، ایران کے خلاف فوری ایکشن کے حق میں ہیں لیکن ٹرمپ دیکھ رہے ہیں کہ اس بار ویت نام وار والا سنریو اگر دہرایا گیا تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے۔ ہم صدر ٹرمپ کو جتنا بھی الل ٹپ اور عاقبت نا اندیش مزاج کا انسان سمجھیں، ان کو معلوم ہے کہ مشرق وسطیٰ کی یہ جنگ ایک بار اگر شروع ہو گئی تو امریکہ سے دنیا کی واحد سپرپاور کی ٹھیکے داری چھن جائے گی۔

اس لئے وہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ اور اگرچہ پینٹاگون اور CIA اپنے صدر کو بار بار اکسا رہے ہیں کہ ایران پر حملہ کر دیا جائے لیکن ان کو معلوم ہے کہ یہ حملہ صرف ایران کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ اس عسکری اتحاد (Alliance) پر ہو گا جو ناٹو کی طرز پر مشرقی دنیا میں اندر ہی اندر تشکیل پا رہا ہے۔اس کا تازہ ثبوت وہ بیان ہے جو ٹرمپ کی طرف سے اس حملے سے چند لمحے پہلے ٹویٹ کیا گیا جسے امریکی عقابوں (مشیر قومی سلامتی جان بولٹن، وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور ڈائریکٹر CIA جینا ہاسپڈ وغیرہ) نے لانچ کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ کہا گیا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ وہ صرف ادلے کا بدلہ چاہتے ہیں یعنی اگر کسی ایرانی میزائل نے گلوبل ہاک کو نشانہ بنایا ہے تو صدر چاہتے ہیں کہ صرف اسی میزائل اڈے اور راڈار سٹیشن کو تباہ کیا جائے جس نے میزائل داغنے میں معاونت کی تھی۔

مزید فرمایا گیا کہ ان مقامات (میزائل اڈہ اور راڈار سٹیشن) پر چونکہ 150ایرانی اہلکار تعینات تھے جو حملے میں ہلاک ہو جاتے اس لئے صدر نے کمالِ انصاف سے کام لیتے ہوئے حملہ روک دیا اور اعلان کیا کہ چونکہ گلوبل ہاک میں تو کوئی امریکی سوار نہیں تھا، لہٰذا آہن،سلولائڈ اور ربڑ کی تباہی کے بدلے 150جانیں کیوں لی جائیں!…… سبحان اللہ!!…… کیا امریکی عدل گستری ہے!!!……

دوسری طرف جب امریکی جوابی حملے کی تیاری کی جا رہی تھی تو عین اس لمحے ایران کے IRGC کے ایروسپیس ڈویژن کے کمانڈر، جنرل امیر علی حاجی زادہ، میڈیاکو گلوبل ہاک کا وہ ملبہ دکھا رہے تھے جو ایرانی بحری حدود میں سے نکال کر میڈیا والوں کے سامنے رکھا گیا تھا اور جس سے یہ فریاد وفغاں نکل کر باہر آ رہی تھی:

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو

میری سنو جو گوشِ حقیقت نیوش ہے

آئندہ کی نان نیو کلیئر وار (اگر ہوئی بھی تو)کہا جا رہا ہے کہ یورپ میں نہیں، ایشیا میں ہو گی اور امریکہ اور دوسرے یورپی اتحادیوں سے وہ آؤٹ پوسٹیں چھن جائیں گی جو اسرائیل، افریقہ اور انڈیا وغیرہ میں آج موجود ہیں۔ کانگریس بھی فی الحال ایران کے خلاف اس جنگ میں شرکت کی خواہاں نہیں۔ اگلے روز ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کا یہ بیان کہ ”امریکی قوم کو اب جنگ کی کوئی کواشتہا (Appetite) نہیں“ قابلِ صد توجہ ہے!

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے یہ گلوبل ہاک نامی جو ڈرون مار گرایا ہے وہ ایرانی فضائی علاقے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے جنوبی ساحل پر صوبہ ہرمزگان کی فضائی جاسوسی کر رہا تھا۔ یہ مقام، چاہ بہار کے مغرب میں تقریباً ایک سو کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ ٹرمپ نے اس پر یہ تبصرہ ضرور کیا ہے کہ: ”امریکی ڈرون گرانا ایران کی ایک بڑی غلطی ہے اور ہم نے جب اس کا جواب دیا تو ایران کو لگ پتہ جائے گا“۔…… تاہم اس جارحانہ بیان کے فوری بعد، AFP کے مطابق، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: ”ہو سکتا ہے ایران نے یہ امریکی ڈرون غلطی سے گرایا ہو“ لیکن ایران نے تو ببانگِ دہل کہا ہے کہ یہ ڈرون ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا تھا اس لئے سپاہِ پاسداران انقلاب (IRGC) نے اسے مار گرایا۔(یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ IRGC کو امریکہ نے ایک دہشت گرد تنظیم ڈکلیئر کر رکھا ہے)

پینٹاگون نے یہ بیان بھی ’داغا‘ ہے کہ امریکی ڈرون ایرانی سرحد سے 35کلومیٹر دور تھا۔…… بندہ پوچھے کہ اس سروے لینس ڈرون کو صرف 23،24میل ایرانی سرحد کے نزدیک لے جانے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟ کیا وہ زیادہ دور رہ کر وہ معلومات نہیں لے سکتا تھا جو اتنی نزدیک آ کر لے رہا تھا؟ یہ ڈرون کوئی معمولی ڈرون نہیں تھا۔ یہ امریکہ کا جدید ترین اور تیز ترین ڈرون تھا جس کا اصطلاحی نام ”RQ-4 گلوبل ہاک“ تھا۔ اسے ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے مار گرایا۔ اس ٹاکرے کا اثر بین الاقوامی تیل کی منڈی پر یہ ہوا کہ کروڈ آئل کی قیمتیں یک دم 6% زیادہ ہو گئیں۔ میرے خیال میں امریکہ نے یہ قدم ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اٹھایا ہے اور وہ درجِ ذیل معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے:

1۔ زمین سے فضا تک مار کرنے والے ساکن ایرانی میزائلوں کی کتنی تعداد ہے جو اس کی جنوبی ساحلی پٹی پر لگی ہوئی ہے۔(ان میں وہ ایرانی میزائل بھی شامل ہیں جو امریکہ کی سنٹرل کمانڈ اور اسرائیل کے خلاف ترازو کئے ہوئے ہیں)

2۔ اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو ایران کتنی تیزی سے خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھا کر خلیج فارس کو بند کر سکتا ہے اورکیا بارودی سرنگیں بچھانے کا جدید ترین میکانزم اور مشینری بھی ایران کے پاس ہے یا نہیں۔

3۔ زمین سے فضا تک مار کرنے والے ایرانی میزائلوں کی عمودی حد (Sealing) کیا ہے۔ یہ گلوبل ہاک ڈرون جس کو مار گرایا گیا ہے اس کی حدِ پرواز 56000 فٹ ہے۔ امریکہ کے سامنے سوال یہ بھی ہے کہ کیا اتنی بلندی تک کوئی ایرانی میزائل مار کر سکتا ہے۔ (ایران نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ڈرون جب مار گرایا گیا تو کتنی اونچائی پر اڑ رہا تھا)

4۔ گلوبل ہاک کی رینج کا اندازہ لگایئے کہ یہ امریکہ کے مغربی ساحل سے اڑ کر مشرقی ساحل (یعنی لاس اینجلز سے واشنگٹن تک) جا سکتا ہے اور وہاں واشنگٹن پر 8گھنٹے تک محوِپرواز رہنے کے بعد واپس اپنے لانچنگ مستقر تک جا سکتا ہے۔ اسے اس دوران ری فیولنگ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

دوسرے لفظوں میں یہ گلوبل ہاک 24گھنٹے تک مسلسل بغیر ری فیولنگ پرواز کر سکتا ہے۔ اس کے اندر جو سنسر، کیمرے اور دوسرے جاسوسی آلات لگے ہوئے ہیں وہ 55ہزار فٹ بلندی پر اڑتے ہوئے اپنے نیچے وسیع علاقے کی ریکی اور سروے لینس کر سکتے ہیں اور ان حاصل شدہ معلومات کو رئیل ٹائم (Real Time) پر واپس لانچنگ اسٹیشن تک ارسال کر سکتے ہیں۔(رئیل ٹائم کا مفہوم یہ ہے کہ گلوبل ہاک جو معلومات لیتا ہے وہ ساتھ ساتھ اسی وقت اپنے ہیڈکوارٹر کو ارسال کر سکتا ہے)۔ آپ کو یاد ہو گا آج سے 60برس پہلے امریکی یو۔ ٹو جاسوس طیارے پاکستان کے فضائی مستقر بڈابیر سے پرواز کیا کرتے تھے اور 58000فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے سوویت یونین کی زمینی سروے لینس کرکے صحیح سالم بڈابیر واپس پہنچ جاتے تھے۔

یہ 1960ء کے عشرے کے اوائل کی بات ہے۔ پاکستان پر صدر ایوب کی حکومت تھی اور امریکہ کا صدر، جان ایف کینیڈی تھا۔ اس وقت سوویت یونین کے پاس اتنی بلندی پر اڑنے والے کسی طیارے کو مار گرانے والا کوئی میزائل موجود نہ تھا۔ لیکن جب سوویت یونین کے صدر خروشچیف نے اچانک ایک روز پیرس میں یہ اعلان کیا کہ امریکی یو۔2مار گرایا گیا ہے اور اس کا پائلٹ فرانسس گیری پاورز گرفتار کر لیا گیا ہے تو یہ ایک نہایت سنسنی خیز خبر تھی۔

آج تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے…… فرق یہ ہے کہ یو۔ ٹو تو پائلٹ والا طیارہ تھا لیکن گلوبل ہاک بغیر پائلٹ طیارہ (ڈرون) ہے۔ اس کے حجم کا اندازہ لگانا ہوتو یہ دیکھئے کہ اس کا انجن وہی ہے جو بوئنگ 737میں لگا ہوا ہے اور اس کے پَروں (Wings) کا پھیلاؤ بھی ہوشربا ہے۔ اس کی رفتار البتہ کم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مشن زمینی اور سمندری علاقے کی سروے لینس ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو گلوبل ہاک ایک دیوہیکل ڈرون ہے…… امریکہ جنگ میں کودنے سے پہلے ایران کی جوہری، غیر جوہری اور میزائلی تنصیبات کی مزید سُن گن لگانا چاہتا ہے۔ اس نے جان بوجھ کر یہ ڈرون ایران کے جنوبی سرحدی علاقے میں بھیجا تاکہ معلوم کر سکے کہ ایران کی میزائلی قوتِ ضرب کی رینج کا کیف و کم کیا ہے۔

ماہرین یہ تجزیہ بھی کر رہے ہیں کہ ایران کا پیمانہ ء صبر لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اب حملے کی پہل امریکہ نہ کرے بلکہ ایران کرے۔ اس کی وجوہات درجِ ذیل بتائی جا رہی ہیں۔

1۔ شدید اقتصادی پابندیوں کا دباؤ

2۔امریکہ کا 2015ء والے جوہری معاہدے سے نکل کر یہ دیکھنا کہ ایران، یورینیم کی افزودگی کے سلسلے میں کیا اقدامات کر رہا ہے اور کہاں تک جا رہاہے۔

3۔ایران کے نزدیک امریکہ کی فضائی، سمندری اور زمینی فورسز کا اجتماع کس غرض سے کیا جا رہا ہے؟

ماضی میں ایران کئی بار یہ کہتا آیا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو وہ خلیج فارس کو بند کر دے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ تیل کی وہ سپلائی جو انڈیا، چین اور دوسرے ایشیائی اور مغربی ممالک کو سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے ہو رہی ہے، بند کر دی جائے گی۔

اگر کل کلاں یہ جنگ اچانک شروع ہو گئی تو اس کے اثرات پاکستان پر کیا پڑیں گے، مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی اقتصادیات پر کیا نتائج مرتب ہوں گے اور جنوبی ایشیا کا یہ سارا خطہ بھبوکا بن کر کیسے بھڑک اٹھے گا، اس کا تصور کچھ ایسا محال نہیں۔

]22جون 2019ء بروز ہفتہ بوقت شام 5بجے[

مزید : رائے /کالم