قومی اسمبلی،وزیر اعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی،بجٹ پر حکومت کو دباؤ میں لانے کیلئے اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی،مختلف محکموں کے بجٹ میں کٹوتی کی 500سے زائد تحریکیں جمع کرا دیں 

قومی اسمبلی،وزیر اعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی،بجٹ پر حکومت کو دباؤ میں لانے ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر  قاسم سوری نے ایوان میں وزیراعظم عمران خان کے لیے ’سلیکٹڈ‘ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی۔قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر عمرایوب خان نے تحریک استحقاق پیش کی۔ عمر ایوب خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہم حکومتی بینچوں سے تحریک استحقاق پیش کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم کو سلیکٹڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے جس سے ہمارا استحقاق مجروح ہوا ہے۔اس تحریک پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری  نے ایوان میں وزیراعظم کے لیے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس ہاؤس کا ممبر ہے وہ ووٹ لے کر آیا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ کوئی بھی یہ لفظ ایوان میں استعمال نہ کرے۔ یاد رہے کہ ایوان میں وزیراعظم عمران خان کے لیے اپوزیشن کی جانب سے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی کااجلاس اتوار کو بھی جاری رہا تاہم اجلاس کے دور ان اراکین تعداد انتہائی کم دکھائی دی۔ اتوار کو قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں معمول کے مطابق اراکین اسمبلی کی عدم دلچسپی دیکھی گئی،ایک موقع پر 342 کے ایوان میں صرف 20 ارکان اسمبلی موجودتھے جن میں اپوزیشن کے 10 اور حکومت کے 10 ارکان شامل تھے۔ اتوار کے روز  بجٹ پر بحث کے دوران حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو  آڑے ہاتھوں لیا، ۔   اتوار کو  قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی صدارت شروع ہوا ۔ اس موقع پر بجٹ پر بحث جاری رکھتے ہوئے  ر کن قومی اسمبلی احسن اقبال نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ قومیں جب بجٹ پیش کرتی ہیں تو اس میں ملک کی ترقی معاشی استحکام نوکریوں کی فراوانی یا دیگر اقدامات کیے جاتے ہیں اور میں حیران ہوں کہ موجودہ بجٹ میں کوئی تقاضا پورا نہیں کیا گیا اور یہاں صرف آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کی گئی اور چھ ارب ڈالر کے حصول کیلئے قوم کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا  ریونیو میں جو کمی آئی وہ سابق نہیں موجودہ حکومت کی ناکامی ہے بھینسیں۔ نیلام کر کے شوشے چھوڑے گئے مگر اس حکومت نے کیا تیر مارا ہے اس اکنامک سروے کا مطالعہ کیا جاے تو پتہ چل جائے گا کہ قرضے کہاں کہاں خرچ ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پانچ سال میں دس ہزار ارب۔قرضہ لیا اور قوم پوچھتی ہے کہ ایک سال میں پانچ ہزار ارب کا قرضہ کہاں گیا۔احسن اقبال نے  کہا کہ گروتھ ریٹ گرتے گرتے اتنی گر گئی کہ زیرو پوائنٹ پر پھر آ گئے پاکستان مسلم لیگ کے دور حکومت میں میثاق معیشت بنایا اور اس وقت تمام صوبوں کو آن بورڈ لیا اور ایک روڈ میپ بنایا کہ 2025تک ملک کو ہمیشہ کے لیے بجلی لوڈ شیڈنگ سے نجات مل جائے گی اور ہم نے اتنی محنت کی کہ ملک جی 20 ممالک کی فہرست میں شامل ہونے والا تھا اور ہم نے ٹیکس کولیکشن کو دو ہزار ارب سے بڑھا کر چار ہزار ارب روپے تک لے گئے تھے اور سی پیک کے باعث سی پیک کے ذریعہ ڈالر کی بہت بڑی منڈی بننے والا تھا اس دوران پوری دنیا میں میسج دیا گیا کہ نواز حکومت کو آگلے الیکشن میں نہیں آنے دینا اور پھر کیا ہوا سلیکٹڈ حکومت جب آئی تو  قوم کے سارے خواب چکناچور کر دیئے۔ا حسن اقبال نے مزید کہا کہ موجودہ بجٹ میں سی پیک کو متاثر کرنے کے لے اقدامات کیے گئے مزید کہا کہ جو کمیشن بنا یہ جے آئی ٹی ہے اس کو قبول نہیں کریں گے اس دوران رکن اسمبلی امجد علی خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا  جب تک ملک کو لوٹنے والوں کی دولت واپس نہیں اے گی تو ڈالر بزھے گامودی کو فون کرنے پر اعتراض ہے تو کیا ہے ملک کی سلامتی کے لیے کیا کیا۔ رات کے اندھیرے میں جندال سے ملاقات نہیں کی دوسری جانب راجہ پرویز اشرف نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کونسی ایسی حکومت  جب اقتدار میں آئی تو کہا ہو کہ ملک بہترین حالت میں ملا ہے سب نے یہی کہا کہ لوٹ کھسوٹ کی گئی اور سابقہ حکومتوں پر تازیانے برسانے جاتے رہے اب تاریخ بدل گئی ہے کہ حکومت خود اپوزیشن بنی ہوئی ہے برداشت تو دکھائی نہیں دیتی تنقید تعمیری ہونی چاہیئے راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ جب ہم نے حکومت چھوڑی تو 2.5بلین خسارہ تھا اور اب 20بلین سے زیادہ خسارہ ہے جیسا کہ سی پیک کا کریڈٹ ہر کوئی لینے کی کوشش کرتے ہیں تو اگر گوادر کو نکال دیں تو سی پیک ہو گا کیا سابق صدر آصف علی زرداری اپنے دور حکومت میں ہر تیسرے مہینہ چائینہ جاتے تھے اور سی پیک کی ضرب تقسیم کی گئی  دوسری جانب سوات اور مالاکنڈ کے پرچم اتارنے کی بات ہوتی تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گی ادھر ہم نے اپنے دور حکومت میں پنشن تنخواہیں ڈبل کیں نوکریوں کی برسات ہوئی اس پر بھی خسارہ 2.5 چھوڑا جب کجھ نہیں کیا گیا تو خسارہ 20بلین تک کیوں گیا راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں ڈالر گرا تھا مگر ہم نے ایکسپورٹ بڑھا لی تھی اب بھی حکومت کو ایسے ہی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بحث میں حصہ لیتے  ہوئے وزیر پلاننگ کمیشن مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ جب اس حکومت نے چارج سنبھالا تو خسارہ بیس ارب ڈالر تھا4300ارب ڈالر  مالیاتی خسارہ کا سامنا تھا وزیراعظم عمران خان نے ہنگامی حالت میں دورے کر کے 9.5ارب ڈالر لیے اور اور بیس ارب سے اب 12.5کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پر لے آئے جو کہ پہلے بیس ارب ڈالر تھا پاکستان سترہ مرتبہ آئی ایم ایف تک جا چکا تھااب 18ویں بار آئی ایم ایف کے جانے کے بعد عہد کر لے تو پھر بھی کچھ گیا نہیں سنبھالا جا سکتا ہے مسلم لیگ کی جب حکومت تھی تو انکو 32ارب ڈالر کا فائدہ ہوا اور پھر 32ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا 64ارب ڈالر جب مل گئے تھے تو قوم کی تقدیر بدلی جا سکتی تھی۔خسرو بختیار نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے جب آخری بجٹ پیش کیا تو وہ سابق ادوار میں ٹارگٹس کیوں نہ دے گئے وہ اپنے آخری سال کے بجٹ میں کیوں دے گئے ہمیں وہ پالیسی ن لیگ سمجھا دے کہ قرضے  آئے  اور لگے کہاں؟منافع کدھرگیا جو بتایا جا رہا ہے عمران حکومت نے جو بڑا ٹارگٹ حاصل کیا وہ یہ ہے کہ جیسا پہلے پانامہ پر چوروں کو بے نقاب کیا اب معیشت پر عام دکانوں پر بھی بحث جاری ہے اور اس سے عوام کے ٹیکس چوروں کا چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے اب جو ٹیکس وصول ہو گا اس سے سندھ کو دو سو ارب روپے ملیں گے پھر کراچی حیدرآباد سکھر کے علاقے ترقی کریں گے۔پیپلزپارٹی پارٹی کے رمیش لال نے کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ چوتھی مرتبہ اس اسمبلی کا رکن بنا ہوں۔تمام اشیائے خوردونوش پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو ہر دور میں وزیر ہوتے ہیں لیکن گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہیں اس طرح کے لوٹوں کیلئے بھی قانون ہونا چاہیے کہ وہ پہلے غلط تھے یا اب ہیں  جو کہتے تھے کہ تین ماہ میں جنوبی پنجاب صوبہ بن جائے گا۔لیکن اب تک صوبہ نہیں بنا۔فردوس عاشق اعوان پہلے پیپلز پارٹی میں تھی اب پی ٹی آئی میں آگئی تبدیلی آگئی۔اس وقت یہ آصف علی زرداری کے قدموں میں بیٹھی ہوتی تھی ان لوگوں کیلئے بھی کوئی قانون ہونا چاہیے۔یعقوب شیخ نے کہا کہ کے پی کے میں بینکوں کا نظام فرسودہ ہے لیکن سٹیٹ بینک نے اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیا ہے۔میرے حلقے میں کوئی سکول۔کالج۔ہسپتال اور پینے کا صاف پانی نہیں ہے ہمیں ٹیوب ویل دیئے جائیں تاکہ ہمارا پانی کا مسئلہ حل ہو سکے۔طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ میں 2008 سے لیکر آج تک اس ایوان میں ہوں اس ایوان پر آج تک عوام کا عتماد ختم نہیں ہوا تھا آج عوام کا عتماد ختم ہو گیا ہے اگر یہ بجٹ ایک سیاسی آدمی بناتا تو صورت حال کچھ اور ہوتی۔9 میں کوئی قانون نہیں بنایا گیا۔صحافت آج ضیاء  الحق کے دور سے زیادہ مشکالات کا شکار ہے۔پوری قوم اس بجٹ مسترد کرتی ہے۔شیخ راشد نے کہا کہ40 سال تک عوام دو پارٹی سسٹم کی وجہ سے مجبور تھی لیکن اب عمران خان نے عوام کو جگایا اور کہا کہ ملک میں سب کیلئے ایک جیسا سسٹم ہوگا امیر غریب کا فرق ختم کردیا جائے گا۔22 کروڑ عوام کی امید صرف عمران خان ہے۔حکومت نے ہیلتھ کارڈ کی بہت بڑی سہولت فراہم کی ہے۔دوسری طرف وفاقی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر  پرحکومت کو سخت دباؤ میں لانے کے لئے  اپوزیشن نے مشترکہ لائحہ عمل پر عملدارامد شروع کردیا، اپوزیشن  ارکان نے مختلف وزارتوں کے بجٹ پر  500سے زائد کٹوٹی کی تحریکیں جمع کروادیں۔اہم وزارتوں  کی کارکردگی کو ناقص قرار دیتے  ہوئے   بجٹ میں کٹوتی کی تحریکیں منظور کروانے کی حکمت عملی طے کرلی گئی ہے۔پارلیمانی نظام میں کسی بھی وزارت کے بجٹ پرکٹوٹی کی تحریک کی منظوری کو حکومت پر عدم اعتماد تصورکیا جاتا ہے۔ذرائع  کا دعوی ہے کہ کٹوتی ن کی تحریکوں  پر حکومت کی شکست کے لیے اپوزیشن  میں اہم مشاورت مکمل  ہوگئی ہے  اور حکمت عملی طے کر لی گئی ہے۔اس معاملے پر سابق سپیکر قومی اسمبلی  سردار ایاز صادق سرگرم ہیں جنہیں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سمیت اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کا اعتماد حاصل ہے۔آئندہ ہفتے کٹوتی کی تحریکوں پر بحث کا آغاز ہو جائے گا۔ اپوزیشن ارکان کی مکمل حاضری کو یقینی بنانے کے لئے کٹوتی کی تحریکوں پر رائے شماری کے  مواقع پر شہباز شریف،آصف علی زرداری،بلاول بھٹو،مولانا اسعد محموددیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماء موجود ہونگے۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول


loading...