بھارت میں مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت جاری:امریکہ، رپورٹ مسترد کرتے ہیں:نریندر مودی

بھارت میں مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت جاری:امریکہ، رپورٹ مسترد کرتے ...

واشنگٹن (این این آئی)مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں 2018ء میں بھی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پرگائے کی تجارت یا اس کو ذبح کرنے پرہجوم کی طرف سے حملوں کاسلسلہ جاری رہا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں کہاگیا کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق صرف نومبر2018 میں اس طرح کے 18حملے کئے گئے جن میں آٹھ افراد کو ہلاک کیاگیا۔ 22جون2018ء کوبھارتی ریاست اترپردیش میں مویشیوں کا ایک مسلمان تاجر پولیس کی حراست میں شدیدزخمی ہونے کی بعدزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا اور قتل کا الزام پولیس پر لگا۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارت میں مسلمانوں سے منسوب شہروں کے نام تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور الہ آباد کا نام تبدیل کرکے پراگراج رکھا گیا۔نام تبدیل کرنے کا مقصدبھارت کی تاریخ سے مسلمانوں کے کردار کو مٹاناہے اور اس سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں مذہب کی بنیادپر قتل، حملوں، فسادات، امتیازی سلوک، لوٹ مار اورلوگوں کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کے حق سے روکنے کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی رپورٹ 

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ پر اپنے ردعمل میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے اعتراض اٹھایا کہ کسی بھی ملک کو ہمارے معاملات پر تنقید کرنے کا حق نہیں۔بھارتی وزیر خارجہ نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو ہمارے شہریوں کے بارے میں رائے قائم کرنے کا حق نہیں جہاں انہیں آئینی تحفظ حاصل ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ’بھارت کو سیکولر ملک ہونے پر فخر ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے‘۔انہوں نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ ’بھارت اقلیتوں کو مکمل آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے‘۔

بھارتی ردعمل

مزید : صفحہ اول


loading...