وفاقی پولیس کے 60فیصد اہلکار موذی امراض میں مبتلاہونے کا انکشاف

وفاقی پولیس کے 60فیصد اہلکار موذی امراض میں مبتلاہونے کا انکشاف

اسلام آباد( آن لائن )وفاقی پولیس کے 60فیصد اہلکار وں کے موذی امراض میں مبتلا ہونے کے انکشاف کے باوجود وفاقی پولیس کو میڈیکل کی سہولیات فراہم نہ کی جاسکی ، پولیس سربراہ کی جانب سے خاموشی اختیار رکھنے کی وجہ سے پولیس اہلکار مایوسی کا شکار ہو گئے، اپنی ریٹائر منٹ کے قریب چند ملازمین کے ریڈ زون میں دو خفیہ اجلاس ہو گئے جنہوں نے اپنے مطالبات اور افسران کی جانب سے زیادتی اور استحصال کے خلاف وزیر اعظم عمران خان تک اپنے مطالبات بھجوانے کا فیصلہ کر لیا اس حوالے سے وزیر اعظم ہاﺅس اور وزیر اعظم کے اسکوا ڈ میں شامل پولیس اہلکاروں سے رابطہ کیا جائے گا ۔ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں ریٹائرڈ ہونے والے وفاقی پولیس کے اہلکاروں کا ریڈ زون میں ایک اجلاس ہوا ہے جس میں چھوٹے ملازمین کے استحصالاور زیادتیوں کے خلاف وزیر اعظم عمران خان نیازی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس خفیہ اجلاس میںسیکورٹی ڈویژن کے متعدد اہلکاروں نے شرکت کی جنہوں نے تمام زیادتیوں کا ذمہ دار ڈی آئی جی سیکورٹی اور ہیڈ کوارٹر کو قرار دیا ۔تاہم آئی جی اسلام آباد کی جانب سے خاموشی اختیار رکھنے کی بھی مذمت کی گئی اور متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ چھوٹے ملازمین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو رکوانے کیلئے وزیر اعظم سے ہی رجوع کیا جائے گا ذرائع نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ پولیس سربراہ کیلئے کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہو گا ۔پولیس لائن میں رہائش پذیر ایک بزرگ پولیس اہلکار نے انکشاف کیا کہ وفاقی پولےس کی کنٹینوں مےں مضر صحت کھانے اور بغےر فلٹر پانی پےنے کی وجہ سے پولےس لائن ہے©ڈ کوارٹر اور تھانوںمےں رہائش پذےر ساٹھ فےصد تک چھوٹے ملازمےن مختلف بےمارےو ں ہےپا ٹائٹس ، معدا ، گردے مےں خرابی ، بلڈ پرےشر اور اعصابی کمزوری جےسی امراض مےں مبتلا ہوچکے ہےں جبکہ پولےس اہلکار سولہ گھنٹے تک ڈےوٹےاں دےنے کی وجہ سے اٹھارہ سو سے زائد پولےس اہلکار بھی ڈپرےشن ، بلڈ پرےشر ، بواسےر اور ہےپا ٹائٹس سمےت دےگر موذی امراض مےں مبتلا ہےں۔ ذرائع نے انکشاف کےا ہے کہ سےکےورٹی ڈوےژن کے کانسٹےبل اور ہےڈ کانسٹےبل چودہ سے سولہ گھنٹے تک ڈےوٹی پر موجود رہتے ہےں اور اے اےس آئی سے انسپکٹر تک کے افسران آٹھ گھنٹے تک اور ڈی اےس پی سے ڈی آئی جی تک کے افسران صرف دفاتر کے اوقات مےں دفاتر مےں موجود رہتے ہےں جبکہ روٹ پرانکے آپرےٹر سمےت دےگر سٹاف ڈےوٹےاں دےتا ہے۔ افسران کو ہفتہ اتوار کی چھٹی ہوتی ہے جبکہ چھوٹے ملازمےن ہفتہ کے ساتوں روز ڈےوٹی پر موجود ہوتے ہےں دوسری طرف وفاقی پولےس کے ملازمےن کو مےڈےکل کی سہولےات بھی دستےاب نہےں ہےں جسکی وجہ سے پولےس ملازمےن کا باقاعدگی سے چےک اپ نہےں ہوپاتا ۔پولےس ذرائع نے انکشاف کےا ہے کہ وفاقی پولےس مےں بےماری کے باعث اےک ماہ تک چھٹی پر رہنے والے اہلکار کی تنخواہ سے الاﺅنس کاٹ لےا جاتا ہے جو بھی چھوٹے ملازمےن کا استحصال کرنے کے مترادف ہے ۔

وفاقی پولیس

مزید : علاقائی


loading...