شہبازشریف اور مریم نواز آمنے سامنے لیکن ن لیگ میں 2 نہیں بلکہ 3 گروپ سرگرم ہیں ، تیسرے گروپ میں کون لوگ ہیں؟ تہلکہ خیز دعویٰ

شہبازشریف اور مریم نواز آمنے سامنے لیکن ن لیگ میں 2 نہیں بلکہ 3 گروپ سرگرم ...
شہبازشریف اور مریم نواز آمنے سامنے لیکن ن لیگ میں 2 نہیں بلکہ 3 گروپ سرگرم ہیں ، تیسرے گروپ میں کون لوگ ہیں؟ تہلکہ خیز دعویٰ

  


لاہور (ویب ڈیسک)مریم نواز اور شہباز شریف کے اختلافات کھل کر سامنے آ نے پرلیگی اراکین اسمبلی بھی کشمکش میں مبتلا ہو گئے ، ن لیگ کے اندر دو کی بجائے تین گروپ بن گئے ہیں، تیسرا گروپ ان دونوں گروپوں کو آپس میں ملانے کے لیے کوشاں ہے۔

اخبار 92 میں رانا عظیم کی ایک رپورٹ کے مطابق شہباز شریف مریم نواز کی پریس کانفرنس سے سخت نالاں اور اسے اپنے خلاف عدم اعتماد سمجھ رہے ہیں۔ دوسری طرف شریف خاندان کی ہی ایک بزرگ شخصیت اختلافات ختم کرانے کیلئے نہ صرف متحرک ہو گئی ہے بلکہ اس نے دونوں کو اپنے پاس بلوا بھی لیا ہے ۔با وثوق ذرائع کے مطابق اسی شخصیت نے مریم نواز اورشہباز شریف کو ایک دوسرے کیخلاف بیانات جاری کرنے اور اختلا فات شو کرنے سے روک دیا ہے ۔مریم نواز کی سعد رفیق کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے بھی شہباز شریف نالاں تھے ا ور گزشتہ روز کی پریس کانفر نس پر بھی اپوزیشن کے حوالے سے مریم نواز کے الفاظ پر شہباز شریف سمیت کئی اپوزیشن رہنما ؤں اور خود ن لیگ کے اندر اس پر کئی اہم رہنماوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔

ن لیگ کے اندر اب تین گروپ کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ایک گروپ جس کو مریم لیڈ کر رہی ہے میں پرویز رشید، دانیال عزیز، مشاہد اﷲ خان، احسن اقبال ، خواجہ آ صف ، طلال چوہدری، امیر مقام،مریم اورنگ زیب اور شاہد خاقان عباسی شامل ہیں۔ یہ گروپ ہر صورت میں محاذ آ رائی اور نوازشریف کے بیانئے پر چلنے کی نہ صرف تلقین کر رہا بلکہ پارٹی کے اندر اس پر لابنگ بھی کر رہے ہیں ۔

شہباز شریف کو 33ایم این ایز نے ان کے موقف کے تائید کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ رانا تنویر ، خرم دستگیر، سعد رفیق ، روحیل اصغر، مہتاب عباسی سمیت کئی اہم رہنما اداروں سے ٹکراؤ کے خلاف اورشہباز شریف کو یہی کہہ رہے ہیں کہ آ ئندہ کے حالات کیلئے راستہ نکال کر مسلم لیگ کو بچانا چاہئے ۔ رانا ثنا اﷲ ،ایاز صادق سمیت دیگر اراکین اسمبلی پارٹی کے اندر گروپنگ روکنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں اور تیسرے گروپ کے طور پر دونوں گروپوں کو سمجھانے کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس ضمن میں ن لیگ کے ایک غیر رسمی اجلاس میں بھی بر ملا یہ کہا گیا کہ اگر ن لیگ کے اندر یہی حالات اور گروپ بندی رہی تو بہت سے اراکین اسمبلی ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گے جس پر اکثریت کی رائے تھی کہ ایسے حالات سے بچنے کیلئے شہباز شریف کی پالیسی پر عمل کرنا چاہئے ۔کئی اہم ترین لیگی رہنماؤں نے نوازشریف کے قریب ترین افراد کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ اگر واقعی جماعت کو بچانا ہے تو پھر جو بھی پالیسی ہے وہ کسی ایک کے حوالے ہونی چاہئے اور سینئرز کا بھی احترام ضرور ہونا چاہئے ۔ذرائع نے بتایا کئی پرانے لیگی پارلیمنٹرینز اور رہنماؤں نے چودھری نثا ر سے بھی رابطے شروع کر دیئے ہیں اور ان کو پارٹی میں کردار ادا کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں۔کچھ اہم رہنما تو شہباز شریف اور چوہدری نثار کی ملاقات کیلئے بھی تیاری کرا رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس کے حوالے سے شہباز شریف کو بتایا گیا کہ اس کے بہت سے پوائنٹس اسی شخصیت نے لکھے جس نے جی ٹی روڈ مارچ کے دوران بھی تقریر لکھ کر دی تھی اور وہی شخصیت چوہدری نثار کے بعد اب پارٹی سے مزید کئی افراد کو نکلوانے اور اختلافات پیدا کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے ۔

مزید : سیاست


loading...