اسلام آباد ہائی کورٹ کا دوسری شادی سے متعلق بڑافیصلہ،بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ کا دوسری شادی سے متعلق بڑافیصلہ،بیوی سے اجازت کے باوجود ...
اسلام آباد ہائی کورٹ کا دوسری شادی سے متعلق بڑافیصلہ،بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری قرار

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوسری شادی سے متعلق بڑافیصلہ سنادیا،عدالت نے دوسری شادی کیلئے مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری قرار دے دی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کی اجازت پر مصالحتی کونسل انکار کردے تو دوسری شادی پر سزا ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوسری شادی سے متعلق بڑافیصلہ سنادیا،عدالت نے دوسری شادی کیلئے مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری قرار دے دی،فیصلے میں کہا گیاہے کہ دوسری شادی کےلئے بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری ہے،آزاد کشمیر کے رہائشی لیاقت علی میر کو ایک ماہ قید اور 5ہزار جرمانے کی سزا سنائی گئی،ایڈیشنل سیشن جج نے کشمیر کا باشندہ ہونے کی وجہ سے لیاقت علی کو بری کیا،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اس پر تمام قوانین کا اطلاق ہو گا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلی بیوی کی اپیل پر لیاقت علی میر کی بریت کو کالعدم قرار دے دیا۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج میرٹ پر لیاقت علی میر کی دوسری شادی کیس کا فیصلہ کریں،نکاح اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہے، عدالت کا مکمل دائرہ اختیار ہے، دلشادبی بی اورلیاقت علی میرنے2011 میں پسند کی شادی کی،لیاقت علی میرنے2013میں بیوی اورمصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیردوسری شادی کی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...