پولیس کا ناروا رویہ نوبیاہتا جوڑے کی جان لے گیا

پولیس کا ناروا رویہ نوبیاہتا جوڑے کی جان لے گیا
پولیس کا ناروا رویہ نوبیاہتا جوڑے کی جان لے گیا

  


بینظیر آباد (آئی این پی) روہڑی کینال میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے والے جوڑے کی لاشیں 24 گھنٹے بعد مل گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ باندھ کر نہر میں چھلانگ لگائی۔ 28 سالہ معین الدین عرف ارسلان خانزادہ اور اس کی بیوی 25 سالہ زینب شیخ نے روہڑی کینال میں کود کر خود کشی کرلی تھی جن کی لاشیں 24 گھنٹے بعد اڈیرو لعل کے قریب کھنڈو موری سے ملیں۔ ڈاکٹروں نے لاشیں مسخ ہونے کے باعث پوسٹ مارٹم سے منع کر دیا۔

ارشاد خانزادہ نے بتایا کہ اس کے بھائی نے 4 ماہ قبل ایسر پورہ کی زینب شیخ سے پسند کی شادی کی تھی۔ بھائی کا مورو میں گیسٹ ہائوس تھا جس کی وجہ سے وہ اپنی بیوی کے ہمراہ وہاں عارضی طور رہائش پذیر تھے۔ چند روز قبل مورو پولیس نے بھائی کے گھر چھاپہ مار کر اس کی غیر موجودگی میں زینب کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا تھا۔

زینب نے معین کو فون پرروتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے بہت بے عزتی کی اور اب وہ زندہ نہیں رہے گی جس کے بعد اس کے بھائی نے بیوی کو پولیس سے رہا کروایا اور جمعہ کے روز دونوں میاں بیوی اپنی کار میں نواب شاہ آ رہے تھے کہ انہوں نے بحریہ ٹائون کے قریب روہڑی کینال کے کنارے پر کار روک کر نہر میں چھلانگ لگا دی۔انہوں نے بتایا کہ دونوں کے ہاتھ آپس میں بندھے ہوئے تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں میاں بیوی نے ایک ساتھ مرنے کو ترجیح دی۔

مزید : علاقائی /سندھ /بنظرآباد