میچ جیتنے کی بنیاد کس نے ڈالی اور پھر کن کھلاڑیوں نے اپنا کردار ادا کیا؟ قومی ٹیم کی شاندار کارکردگی پر رمیز راجہ کا شاندار تجزیہ

میچ جیتنے کی بنیاد کس نے ڈالی اور پھر کن کھلاڑیوں نے اپنا کردار ادا کیا؟ قومی ...
میچ جیتنے کی بنیاد کس نے ڈالی اور پھر کن کھلاڑیوں نے اپنا کردار ادا کیا؟ قومی ٹیم کی شاندار کارکردگی پر رمیز راجہ کا شاندار تجزیہ

  


لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے مایہ ناز سابق کھلاڑی اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کیخلاف اہم میچ میں ناصرف بلے بازوں بلکہ باﺅلرز نے بھی بہترین کارکردگی پیش کی جس کے باعث اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ سٹیڈیم میں موجود مداح بھی ان کی بھرپور حمایت کرتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق رمیز راجہ نے جنوبی افریقہ کیخلاف جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پاکستان کرکٹ ٹیم کے اور مداحوں کے کیا کہنے جو صرف ایک جیت ملنے پر ٹیم کے پیچھے کھڑے ہو گئے ہیں اور پورا ملک امید کر بیٹھا ہے کہ یہ ٹیم ہمیں مایوس نہیں کرے گی۔ اس ٹیم نے بھی عجیب سا مزاج بنا لیا ہے، کہ جب تک مارو مر جاﺅ والی صورتحال نہیں بنے گی یہ اپنی بہترین کرکٹ کھیلنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیم سلیکشن شاندار رہی، حارث سہیل کو ویسٹ انڈیز کیخلاف ایک میچ کھلایا گیا اور پھر انہیں دروازہ دکھا دیا گیا، کیوں؟ آپ کا کام ٹیلنٹ ڈھونڈنا اور پھر اسے سپورٹ کرنا ہے، اور حارث میں ٹیلنٹ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اگر حارث وہ اننگز نہیں کھیلتے تو 300 رنز بھی نہیں بنتے اور پاکستان یہ میچ بھی نہ جیتتا۔ پاکستان کی اوپننگ پارٹنرشپ بھی شاندار رہی، ایک دفعہ 81 رنز کا پلیٹ فارم سج جائے تو پاکستانی بیٹنگ فری ہو جاتی ہے اور بلے باز شاٹس بھی کھیلتے ہیں اور پراعتماد بیٹنگ دیکھنے کو ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر قومی ٹیم کی باﺅلنگ کی بات کی جائے تو محمد عامر کو ان سوئنگنگ اینگل مل گیا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو ری ڈسکور کر لیا ہے، اس وجہ سے کہ ان کی کلائی کی پوزیشن بہت بہتر ہو گئی ہے اور ان کا سر کسی طرف جھکتا نہیں بلکہ سیدھا رہتا ہے جس کے باعث یہ ایک جگہ پر مستقل مزاجی سے باﺅلنگ کرواتے ہیں۔

وہاب ریاض کے پاس رفتار ہے اور جب رفتار کیساتھ اچھا یارکر اور باﺅنسر بھی ہو تو آپ کو کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جب بھی جارچ ہوتا ہے تو انہیں صرف ان دو لینتھ پر کام کرنا ہے، مگر جنوبی افریقہ کیخلاف شو محمد عامر نے سیٹ اپ کیا جس کے بعد اننگز کے مڈل فیز میں شاداب خان نے اپنا حصہ ڈالا کیونکہ ہدف کا تعاقب چل رہا تھا اور جنوبی افریقی بلے باز جب پراعتماد ہو کر کھیل رہے تھے تو شاداب خان نے وکٹیں لیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر شاداب خان اور عماد وسیم کا کردار بہت اہم تھا اور شاداب خان نے اپنا کردار ادا کیا جس کے بعد وہاب ریاض نے بھی اپنا کردار ادا کیا لیکن اب پاکستان کو فیلڈنگ بہت بہتر کرنی ہے کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ باﺅلر بلے بازوں کو دو دو مرتبہ آﺅٹ کرے، آپ سیدھے سیدھے کیچ چھوڑ رہے ہیں، اچھی فیلڈنگ ٹیم بنے بغیر آپ ورلڈکپ نہیں جیت سکتے، یہ ایک ایسی فتح ہے جس سے ٹیم میں جان پڑ گئی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر مداحوں کی بھی خوب تعریف کی اور کہا کہ لارڈز کا کرکٹ گراﺅنڈ پاکستانیوں سے بھرا پڑا تھا اور پورے میچ میں نعرے بازی کے ذریعے ٹیم کی حمایت کی جا رہی تھی۔ مداح آخری گیند تک نعرے بازی کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں میں بھی پھڑک دکھائی دی جس کے باعث ایک بہت بڑی فتح ملی ہے جس سے پاکستان کی سیمی فائنل میں رسائی کی امیدیں بھی زندہ ہو گئی ہیں۔

مزید : کھیل


loading...