میڈیا اور سیاسی سنسر شپ قبول نہیں ،حکومت عوام دشمن بجٹ واپس لےوگرنہ گھر جاناہوگا : بلاول بھٹو زرداری

میڈیا اور سیاسی سنسر شپ قبول نہیں ،حکومت عوام دشمن بجٹ واپس لےوگرنہ گھر ...
میڈیا اور سیاسی سنسر شپ قبول نہیں ،حکومت عوام دشمن بجٹ واپس لےوگرنہ گھر جاناہوگا : بلاول بھٹو زرداری

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت دوغلی پالیسی ختم کرکے عوام دشمن بجٹ واپس لے ، چھوٹے کاروبار تباہ کئے جارہے ہیں، نیا پاکستان سنسر شپ پاکستان ہے ، میڈیا سنسر شپ اور سیاسی سنسر شپ قبول نہیں ہے ، حکومت کو عوام دشمن بجٹ واپس لینا ہوگا ، وگرنہ گھر جاناہوگا ۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائد اعظم نے ہم کو ایک آزاد ملک دیا تھا کہ ہم کسی کے غلام نہ بنیں ، قائد عوام نے جمہوریت اس لئے دی کہ عوام حکمرانی کریں، انتہاپسندوں اور آمر کا غلام بننے سے بچانے کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے قربانی دی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی طرح ایک کٹھ پتلی کے غلام رہ سکتے ہیں، نیا پاکستان سنسر شپ پاکستان ہے ، یہ ہم کو قبول نہیں ہے ، سلیکٹڈ کا لفظ حذف کردیا گیا ہے لیکن حکومت کا تو کوئی لفظ بھی حذف نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ جو فیصلے کئے جارہے ہیں ، وہ آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں، یہ کیسی آزاد ی ہے کہ ارکان بول نہیں سکتے ، اگر اپوزیشن عوام کے مسائل کاحل نہیں کرے گی تو کون کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ بڑی عجیب بات ہے کہ میر ی تقریر پر وزیر اعظم نے ڈیسک بجائے اورپھر اسی تقریر کے لفظ پر ایک سال بعد پابندی لگادی ، یہ پابندی وزیر اعظم کی انا کی وجہ سے لگائی گئی ہے ، ہمیں سنسرڈ پاکستان کوحل نہیں آزاد پاکستان حل ہے، اگر وزیر اعظم سلیکٹڈ نہیں تو پھر دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کیوں بنائی تھی ؟ ہمیں میڈیا سنسر شپ اور سیاسی سنسر شپ قبول نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جب سے عمران خان آئے ہیں پاکستان بد سے بدتر ہورہاہے ، کہا گیا تھا کہ ایک پاکستان ہوگا لیکن یہاں ایک نہیں بلکہ دو پاکستان ہیں، چوروں ، لٹیروں اور ڈاکوﺅ ں کیلئے جن کیلئے خان شور مچاتے تھے ، ایمنسٹی سکیم ہے اور غریبوں کے لئے مہنگائی ، بے روزگاری اور ٹیکسز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کس کو بیوقوف بنا رہی ہے ، وزیر اعظم ہاﺅ س کی بھینسیں بیچ کر وزیر اعظم ہاﺅ س اورایوان صدر کا بجٹ بڑھا دیا تو یہ منافقت نہیں تواور کیاہے ؟ انہوں نے کہا کہ کہتے تھے کہ جب وزیر اعظم سچا اور خوبصورت ہوگا تو ٹیکسز خودبخو بڑھ جائیں گے لیکن اس کے باوجود ٹیکسز میں کمی ہوئی ہے ، تو اس کا مطلب کیاہے ؟ کہ پچھلے حکومتوں پر عوام کوزیادہ اعتماد تھا، وہ زیادہ سچے اور ایماندار تھے ، مفت میں صوبوں کے حقوق سلب کرناچاہتے ہیں اور این ایف سی ایوارڈ بھی نہیں دے رہے ۔ انہوں نے کہا اس حکومت کو غریب عوام کا کوئی احساس نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھاکہ جب آپ کوگروتھ چاہئے تو پھر کیسے ٹیکسٹائل انڈسٹر ی پر ٹیکس لگایا جارہاہے ؟ حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا لیکن اس بجٹ میں ایک بھی نوکری نہیں دی بلکہ آپ نوکریاں چھین رہے ہیں ،بجٹ میں جو پچاس لاکھ گھر بنانے تھے ، ان میں سے ایک گھر کیلئے بھی بجٹ نہیں رکھا گیا، انکروچمنٹ کی آڑ میں لوگوں کا کاروبار تباہ کیا جارہاہے ، پورے ملک میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ یہ ہورہاہے ، اس سے ملک کی معیشت کوبھی بہت نقصان ہوتاہے ، یہ دوہری پالیسی ہے ، غریب کی جھونپڑی حرام اوربنی گالا کاانکروچمنٹ حرام ہوتاہے ، تحریک انصاف کی حکومت نیب گردی سے ہماری حکومت ملک کونقصان پہنچا رہی ہے ، سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں نہ کوئی بزنس مین اور نہ کوئی بیورو کریٹ کام کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی دوگنی پالیسی بند کرکے عوام دشمن بجٹ واپس لے ، حکومت کس طرح قرضے کاروناروتی ہے جبکہ ایک سال میں پانچ ہزار ارب کاقرضہ لیا گیاہے ، یہ حکومت ہم سب سے آگے ہے، یہ پہلے اس پیسے کاحساب دے جو اس حکومت نے لیا ہے ، اس پیسہ کا حساب کون دیگا  ؟

مزید : قومی /اہم خبریں