مراد سعید نے سابق صدر آصف زرداری پر سنگین الزام لگا دیا

مراد سعید نے سابق صدر آصف زرداری پر سنگین الزام لگا دیا
مراد سعید نے سابق صدر آصف زرداری پر سنگین الزام لگا دیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں امریکی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے آصف زرداری سے ملاقات کی تھی، اس ملاقات میں حسین حقانی بھی موجود تھے، اس ملاقات میں امریکی سفیرسے کہا گیا کہ آپ ڈرون حملے جاری رکھیں۔

قومی اسمبلی میں بلاول کی تقریر پر ردعمل میں اظہارخیال کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ بلاول نے غریبوں کی بات کی ہے لیکن غریب توجیل میں سڑ رہاہے ، امیر ہی پروڈکشن آرڈر جار ی کروا کے پارلیمنٹ میں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایو ب خان کی تعریف میں ذوالفقار علی بھٹو کا آرٹیکل تاریخ کاحصہ ہے ، این آر او کیلئے یہ مشرف نہیں بلکہ امریکہ اور کنڈو لیزا رائس کے پاﺅ ں بھی پڑے تھے، بے نظیر نے کرپشن کیسز سے نجات کیلئے امریکہ سے درخواست کی تھی ۔

مراد سعید نے اپنی تقریر کے دوران سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اور سابق صدر باراک اوبامہ کی کتابیں بھی ایوان کو دکھائیں اور ان میں سے این آر او ، بینظیر اور  زرداری کی امریکیوں سے ملاقاتوں کے حوالے بھی دیے۔ 

مراد سعید کا کہنا تھا کہ جمہوری حکومت عوام کی خدمت کیلئے آئی ہے ، بلاول بھٹو نے جو تقریر کی ہے ، عوام اس کو سمجھ نہیں سکے ۔ بلاول کہتے ہیں  وزیر ستان کے ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں لیکن اس وقت یہ کہاں تھے  جب وزیر ستان کے ہر گھر سے جنازے اٹھ رہے تھے اور ڈرون حملے کئے جارہے تھے؟ ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب عمران خان جنوبی وزیر ستان کے لئے آواز اٹھا رہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں امریکی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے آصف زرداری سے ملاقات کی ، اس ملاقات میں حسین حقانی بھی موجود تھے، اس ملاقات میں امریکی سفیرسے کہا گیا کہ آپ ڈرون حملے جاری رکھیں۔باربار سلیکٹڈ کہنے والے ان ہی سلیکٹڈ طریقوں سے اقتدار میں آتے رہے ہیں۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ عمران خان نے برطانیہ کے وزیر اعظم نے عمران خان کو پاک جنوبی افریقہ میچ دیکھنے کیلئے بلایا تھا لیکن وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ میں قوم کا پیسہ اور وقت اس طرح برباد نہیں کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کہتی ہیں کہ نواز شریف تنخواہ نہیں لیتے تھے لیکن ان کا علاج سرکاری پیسے پر ہوتا رہا ۔

مزید : قومی /اہم خبریں