عرب شہری دین سے دور کیوں ہورہے ہیں؟ تازہ سروے میں حیران کن انکشاف

عرب شہری دین سے دور کیوں ہورہے ہیں؟ تازہ سروے میں حیران کن انکشاف
عرب شہری دین سے دور کیوں ہورہے ہیں؟ تازہ سروے میں حیران کن انکشاف

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) عرب ممالک میں مذہب سے دوری کے حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے نے ’عرب بیرومیٹر ریسرچ نیٹ ورک‘ کے ذریعے ایک سروے کروایا ہے جس میں حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ سروے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے 10مسلمان ممالک اور فلسطین میں کرایا گیا۔ اس میں 25ہزار سے زائد لوگوں سے 2013ءاور پھر 2018ءمیں سوالات پوچھے گئے۔ جب ان سے مذہب کے بارے میں پوچھا گیا تو 2013ءمیں مجموعی طور پر 8فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ وہ مذہبی شخص نہیں ہیں، جبکہ 2018ءمیں یہ شرح بڑھ کر 13فیصد ہو گئی۔ جن لوگوں نے کہا کہ وہ مذہبی نہیں ہیں، ان میں اکثریت کی عمر 30کی دہائی میں تھی۔

ان 10ممالک میں صرف ایک یمن وہ ملک تھا جہاں ان لوگوں کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔ جن ممالک میں یہ سروے کیا گیا ان میں تیونس، لیبیا، الجیریا، لبنان، مراکش، مصر، سوڈان، فلسطین، اردن، عراق اور یمن شامل تھے۔ ان میں تیونس وہ ملک تھا جہاں 2013ءسے 2018ءکے دوران سب سے زیادہ لوگ دین سے دور ہوئے اور کہا کہ وہ مذہبی نہیں ہیں۔ دوسرے نمبر پر لیبیا، تیسرے پر الجیریا، چوتھے پر لبنان، پانچویں پر مراکش، چھٹے پر مصر، ساتویں پر سوڈان، آٹھویں پر فلسطین، نویں پر اردن اور دسویں نمبر پر عراق آئے۔

مزید : برطانیہ