’خان آیا نہیں تھا خان ہے اور رہے گا‘ مراد سعید

’خان آیا نہیں تھا خان ہے اور رہے گا‘ مراد سعید
’خان آیا نہیں تھا خان ہے اور رہے گا‘ مراد سعید

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کا کہنا ہے کہ سابق حکمرانوں نے ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ، سندھ میں سب سے زیادہ لوگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر عوامی پیسہ فالودے اور پکوڑے والوں کے اکاﺅنٹ میں منتقل کیا جارہا تھا، ہم اپنے نوجوانوں کو نہ صرف مچھلی کھلا رہے ہیں بلکہ مچھلی پکڑنے کا ہنر بھی سکھا رہے ہیں۔ آپ کہہ رہے ہیں ’خان آیا تھا‘ خان آیا نہیں تھا ’خان ہے اور رہے گا‘۔ ادارے مستحکم ہو رہے ہیں ،معیشت آئی سی یو سے اپنے پیروں پر کھڑی ہو رہی ہے پاکستان کا عالمی امیج دنیا بھر میں بہتر ہو رہا ہے ۔

قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے جواب میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا کہ اب ایسا لیڈر آیا ہے جو نہ کھاتا ہے اور نہ کھانے دیتا ہے اور جو کھایا ہے وہ بھی نکلوانے جارہا ہے۔ یہ ہر وقت نا اہل کی بات کرتے ہیں حالانکہ پاکستان میں پانچ سپریم کورٹ کے ججز نے جسے سرٹیفائیڈ نااہل قرار دیا اس کا نام نواز شریف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیواﺅں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے صرف پچیس ہزار روپے دینے سے حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی ، ہماری حکومت انہیں ہنر مند بنانے اور کاروبار ی مواقع فراہم کرنے میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔ہم اپنے نوجوانوں کو نہ صرف مچھلی کھلا رہے ہیں بلکہ مچھلی پکڑنے کا ہنر بھی سکھا رہے ہیں۔آپ کہہ رہے ہیں ’خان آیا تھا‘ خان آیا نہیں تھا ’خان ہے اور رہے گا‘۔

مراد سعید نے سابقہ اور موجودہ ادوار میں حکومتی اخراجات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خسان اپنے اخراجات خود اٹھا رہے ہیں، بنی گالہ کی سڑک عمران خان کے ذاتی پیسوں سے بنا ئی گئی جبکہ نواز شریف کے علاج پر عوامی پیسے سے 34 کروڑ خرچ ہوئے۔ شہباز شریف کے کئی گھروں کے اخراجات حکومتی خزانے سے نکلوانے کیلئے انہیںکیمپ آفس ڈکلیئر کیا گیا۔ نواز شریف کے بچے بھی اندرون اور بیرون ملک سفر کیلئے سرکاری جہاز استعمال کرتے تھے وہی بچے اب ٹویٹر پر آکر روزانہ کہتے ہیں کہ نواز شریف تو تنخواہ بھی نہیں لیتے تھے۔پچھلے دس سالوں میں انہوں نے چوبیس ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا۔ 24ہزار ارب روپے لے کر آپ ایک ہسپتال نہیں بنا سکے اور آپ کہتے ہیں کہ ہم احتساب کیوں کر رہے ہیں۔ہم نے عوام کو جو خواب دکھایاتھا وہ یہ تھا کہ ہم پاکستان سے چوروں ڈاکو?ں کا احتساب کریں گے اور ہم عوام کے ساتھ یہ وعدہ نبھا رہے ہیں۔

سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ سب سے زیادہ لوگ سندھ میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں صحت کے حوالے سے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں غذائی قلت کی وجہ سے وہاں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں بچے مر رہے ہیںاورلوگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ احتسا ب بند کیا جائے یہ نیب گردی ہے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر عوامی پیسہ فالودے والے اور پکوڑے والوں کے اکاﺅنٹ میں منتقل کیا جارہا تھاپیپلز پارٹی کے پرائم مسٹر گیلانی صاحب سپریم کورٹ کے کہنے پر بلاول صاحب کے ابو کے پیسے بچاتے بچاتے قربان ہو گئے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم ڈرنے والے نہیں اب کمیشن بن گیا ہے اپنا اپنا ریکارڈ لے کر آئیں۔ آج پاکستان کے ادارے مستحکم ہو رہے ہیں پاکستانی معیشت آئی سی یو سے اپنے پیروں پر کھڑی ہو رہی ہے پاکستان کا عالمی امیج دنیا بھر میں بہتر ہو رہا ہے۔

مزید : قومی