جنوبی پنجاب میں دہری حکومت

جنوبی پنجاب میں دہری حکومت

  

ملتان کی سیاسی ڈائری

ملتان سے شوکت اشفاق

عالمی وباء کرونا وائرس کی انتہا جولائی سے اوائل اگست تک ہونی ہے متعدد عالمی ریسرچ ادارے ستمبر میں بھی اس کی تباہیوں کا خدشہ ظاہرکر رہے ہیں مگر حکومت اور عوام اس انتہائی خطرناک مسئلہ کو سنجیدہ لینے کو تیار ہی نہیں ہیں کچھ معاملات میں حکومت کی دوہری حکمت عملی نے عوام کو منفی سوچ پر مجبور کردیا ہے اور نتیجہ یہ آرہا ہے، باوجود اس کے کہ وباء متواتر تیزی سے نہ صرف پھیل رہی بلکہ اس سے اموات میں بھی اضافہ ہورہا ہے،توقع تھی کہ نقصان دہ اثرات سے عوام کوئی سبق سیکھیں گے اور اس سے بچنے کیلئے ایس اوپیز پر عمل کی کوشش ضرور کریں گے لیکن اس کی خلاف ورزیاں بڑھتی جارہی ہیں،حکومت نے عوامی تعاؤن مہم چلانے کی بجائے شہروں کی انتظامیہ کو مزید اختیار سونپ کر چالان،جرمانے اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو ایک طرف تو عام آدمی کو حکومت وقت سے متنفر کرنے کا باعث بن رہا ہے تو دوسری طرف قانون شکنی کی نئی راہیں متعین کررہا ہے جو اللہ نہ کرے کسی بڑے حادثے یا سول نافرمانی کی طرف بھی جاسکتا ہے،یہی وجہ ہے پرانے اور بزرگ سیاسی رہنما اور پارلیمنٹرین حکومت کو انتباہ کررہے ہیں کہ وہ سیاسی،معاشی اور انتظامی معاملات پر اس وقت خاص توجہ کریں کبھی ایسا نہ ہو کہ یہ ہاتھ سے نکل جائیں کیونکہ انہی خصوصی حالات کی آڑ میں جہاں اور بہت قانون شکنی ہورہی ہے وہاں تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کی گرفت ڈھیلی نظر آتی ہے،اچھی تو دور کی بات ہے محض گورننس نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی جس کا اشارہ نہیں بلکہ واشگاف الفاظ میں تجربہ کار پارلیمنٹرین ریاض حسین پیرزادہ نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں کیا کہ چولستان اور بہاولپور کے زمینداروں سے رقبے واپس لئے جارہے ہیں،غریبوں کی زمین ضبط کی جارہی ہے اگر کوئی مزاحمت کرے تو فصلوں کیلئے پانی بند کردیا جاتا ہے،ٹریکٹر بحق سرکار بند کردئے جاتے ہیں جو یہاں صدیوں سے آباد کاروں کیلئے زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔انہوں نے بجٹ پر سخت تنقید کی اور اسے شفافیت سے مبرا اور حقائق سے متصادم قرار دیا اور انکشاف کیا کہ پنک بک فراہم نہیں کی گئی لہذا اس پر بحث کرنا ہی فضول ہے،کسانوں سے سستی گندم خرید کرکے مافیا دو ہزار روپے من سے زیادہ فروخت کررہا ہے جو عام آدمی پر ظلم ہے مگر حکومت کسی مافیا کے خلاف قدم اٹھانے کو تیار نہیں ۔انہوں نے دیا مر بھاشا ڈیم سمیت دوسرے ڈیم بنانے کا مطالبہ کیا۔ادھر مسلم لیگ (ن)کے بزرگ رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے میڈیا کے ساتھ بات چیت میں ایسے ہی جذبات کا اظہاراور اپنے انداز میں موجودہ پارلیمنٹ کو اپنی مدت پوری کرنے دینے کی دست بدستہ درخواست کی اور واضع کہا ہے کہ ان ہاؤس ایک سلیکٹیڈ کو ہٹا کر دوسرے سلیکٹیڈ کو لانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،پاکستان مخالف قوتیں سازش کررہی ہیں ان کی سازش کو ناکام بنانا ہے۔انہوں نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا مرکز ملتان کو بنانے پر بھی زور دیا اور رکن قومی اسمبلی ریاض حسین پیر زادہ کی بجٹ تقریر کو تاریخی قرار دیا اور اس ایک تقریر پر اپنی تمام تقریریں قربان کرنے اعلان بھی کیا جو ان کے خیالات کی بھرپور تائید ہے،چونکہ وزیر اعظم عمران خان عوام کو کرونا کے مسئلہ پر مسلسل کنفیوژ کررہے ہیں اور ان کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور وزیر خارجہ حکومت بچانے یا بنانے کیلئے اتحادیوں سے رابطے میں مصروف ہیں۔مخدوم جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا کہ انہیں ایکسیڈنٹ میں مارنے کی سازش کی جارہی ہے اگر مارد یا گیا تو شہید ہوکر ہمیشہ کیلئے زندہ ہو جاؤں گا مگر میری آواز دبائی نہیں جاسکتی،مجھے پارلیمنٹ سے باہر رکھ کر عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکتا۔دوسری طرف کرونا،ٹڈی دل کے بعد اب مون سون میں سیلاب کی پیش گوئی کردی گئی ہے،این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے اس کیلئے ایک مضبوط اور مربوط حکمت عملی تشکیل کا تقاضا کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ہمیں روایتی تیاری کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مد نظر رکھنا ہوگا،اب یہ کتنا نقصان ہوگا کون کون سے علاقے اس کی زد میں آئیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن قارئین بتا رہے ہیں کہ پھر نقصان جنوبی پنجاب کا ہی ہوگا،ویسے نقصان اب بھی ہورہا ہے کہ جب سے پنجاب میں وزیرا عظم عمران خان کی تحریک انصاف کی حکومت کا نام تبدیل کیا گیا ہے اور اسے تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کی بجائے ”بزدار حکومت“باور کرایا جارہا ہے اس دن سے کم ازکم جنوبی پنجاب میں انتظامی اور قانون نافذ کرنے میں عجیب و غریب واقعات رونما ہورہے ہیں کچھ وزراء اور ارکان اسمبلی نے اپنے طور پر کچھ ایسے لوگوں کو بظاہر عوام سے رابطے کیلئے رکھا ہے کچھ کو وزیر اعلیٰ پنجاب شکایت سیل کے انچارج کے طور پر رکھا گیا ہے جو دھونس اور کرپشن کی نئی اور نوکیلی راہیں متعین کررہے ہیں،شکایت سیل کے مبینہ انچارج لوگوں نے آگے ان گنت لوگوں کو رکھ لیا ہے جو مختلف بہانوں سے مختلف کام کرنے والوں کو نہ صرف تنگ کرتے ہیں بلکہ ”مسئلہ“حل نہ ہوتو شام یا رات کو اس انچارج کے ڈیرے یا تحریک انصاف کے کسی مقامی دفتر میں اس کو طلب کیا جاتا ہے اسی طرح وہاڑی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر زراعت نعمان لنگڑیال نے گگو منڈی میں زرعی ادویات کی دکان چلانے والے عامر گجر نامی ایک شخص کو سرکاری زرعی ٹاسک فورس کے متوازی زبانی کلامی ٹاسک فورس بنا کر کھلا چھوڑ دیا ہے جس نے نہ صرف زراعت سے متعلقہ ذیلی اداروں بلکہ اس سے پرائیوٹ کاروباری لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے۔زرعی ادویات کی متعدد کمپنیوں کا نادہندہ ہونے کے باوجود انہی کمپنیوں پر فوجداری مقدمات درج کروا دئیے۔اسی طرح تونسہ شریف میں جہاں سے وزیر اعلیٰ کا تعلق ہے،وزیر اعلیٰ کے رشتہ دارنے پولیس کے ساتھ مل کر کاشتکاروں کی آباد زمینوں پر نہ صرف قبضہ کروانا شروع کردیا ہے بلکہ جو قابض و مالک ہیں انہیں بھی مختلف بہانوں سے تنگ کیا جارہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چشمہ بیراج سے اس علاقے کی بنجر زمینوں کو آباد کرنے کیلئے گزشتہ ادوار میں ایک نہر نکالی گئی جس کی وجہ سے ان غیر آباد زمینوں میں اب ہریالی آرہی ہے،اس ہریالی کو ہتھیانے کیلئے نوسر باز بھی میدان میں اتر آئے ہیں،اس کی وجہ یہ رہی ہے کہ زمین بنجر ہونے کی وجہ سے یہ کئی دہائیوں سے مشترکہ کھاتوں میں چلی آرہی تھی اب جب بھاگ لگے ہیں تو اب مشترکہ کھاتے میں بنجر زمین خرید کر محنت سے زرخیز بنائی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔حیرت ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اپنے گھر میں یہ سب کچھ ہورہا ہے لیکن وہ ٹس سے مس بھی نہیں ہورہے،شاید یہی وجہ ہے کہ مقامی پولیس مکمل پارٹی بن چکی ہے۔

٭٭٭

کرونا اور جنوبی پنجاب کے مسائل پر حکومت کا رویہ غیر متوازن ہے،ریاض حسین پیرزادہ

مجھے حادثے میں مروانے کی سازش ہے،مر گیا تو شہید کہلاؤں گا،ریاض پیرزادہ نے تاریخی تقریر کی،جاوید ہاشمی

جنوبی پنجاب میں دہری حکومت،صوبائی سربراہ کے رشتے دار درپردہ انتطامی معاملات چلاتے ہیں

مزید :

ایڈیشن 1 -