وفاق اور سندھ کی کشمکش

وفاق اور سندھ کی کشمکش

  

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

ایم کیو ایم کے ایک اہم رکن اور بانی،متحدہ کے دیرینہ ساتھی محمد انور کے انکشافات نے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچادی ہے۔ اگرچہ یہ انکشافات کچھ نئے نہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ برطانوی سراغ رساں ادارے ایم آئی 6 اور امریکی سی آئی اے کے حوالے سے بھی کئی قصے زبان زدعام رہے ہیں۔ محمد انور کا یہ کہنا کہ وہ بھارت سے رقم لے کر بانی متحدہ کو د یتا تھا، حیرت ہوتی ہے، اپنے اداروں پر کہ وہ اس وقت جب یہ گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا تھا، کیا کررہے تھے۔ بھارت نے ہماری سیاسی جماعتوں میں اپنے لوگ پال رکھے اور ہم نے ان کو شہر کراچی میں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ وہ کراچی کے میئر بھی بنتے تھے، حکومتوں کا حصہ بھی بنتے تھے، کیا یہ کوئی ڈبل گیم کا حصہ تھا۔ کراچی کے سینکڑوں لوگ گواہ ہیں کہ چند اہم غیرملکی ڈپلومیٹ ایم کیو ایم کے خاص الخاص لوگوں کو ان کے ہیڈ کوارٹر عزیز آباد جا کر ویزے دیتے تھے۔ ہم ان ملکوں کے ویزا آفیسرز کو ایسا کرنے کی اجازت کیسے دیتے رہے۔

ایم کیو ایم کے مقتول راہنما ڈاکٹر عمران فاروق جن کے قتل کے مقدمے کا ابھی فیصلہ سنایا گیا ہے کئی برس برطانوی سفارتخانے میں پناہ گزیں رہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی سے رقم لینے والوں کی فہرست تیار کی جائے تو اور کئی ایسے نام سامنے آسکتے ہیں جن کو ہم آج بھی کچھ اور بنائے بیٹھے ہیں۔ محمد انور کے انکشافات سے بھارت کی جانب سے شرارت اور پاکستان دشمنی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن جن اداروں نے اس عمل کو روکنا تھا اور پاکستان دشمن لوگوں اور گروہوں کو بے نقاب کرنا تھا ان کی کارکردگی کیوں کمزور رہی اس کی وضاحت ضروری ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے پہلے بھی اور اب بھی بروقت اس حوالے سے گفتگو کی ہے، ان کا موقف درست ہے کہ بانی متحدہ ان کے سامنے اعتراف کرچکے ہیں۔ مصطفی کمال نے شہری سندھ کے مسائل دانستہ حل نہ کرنے کی پالیسی کو ہدفِ تنقید بنایا ہے جس سے بانی متحدہ کا نظریہ پھر سے زندہ ہونے کا امکان ہے وہ زیادہ تشویش کی بات ہے۔ انہوں نے اس کا ذمہ دار سندھ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کو قرار دیا ہے، اس بات میں بہت وزن ہے۔

شہری سندھ (کراچی، حیدرآباد اور سکھر) کے لوگ احساس محرومی کا باقاعدہ اظہار کررہے ہیں، موجودہ سندھ حکومت کے بجٹ میں بھی دانستہ طور پر کراچی کو نظر انداز کردیا گیا، وفاقی بجٹ میں بھی کراچی کو کچھ نہیں ملا تو کیا مقتدر حلقے بھی یہ چاہتے ہیں کہ گذشتہ دور لوٹ آئے۔ اگر کراچی میں احساس محرومی کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو لاوا کس کے خلاف پھٹے گا اس کا احساس ا سلام اباد / راولپنڈی میں پہلے سے ہونا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی 67ویں سالگرہ محدود پیمانے پر منائی گئی، لاک ڈاؤن کے حالات میں سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں نے ان کو خراج عقیدت پیش کیا، تقریبات کا سلسلہ چونکہ معطل ہے اس لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی بہتر جگہ ہے، جہاں سے لوگ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

کراچی کے ایک معروف عالم دین جامعہ بنوریہ کے استاد مفتی محمد نعیم کا انتقال شہر کراچی میں رنج و غم میں سنی جانے والی خبر تھی، ان کی نماز جنازہ مفتی تقی عثمانی جیسی جید ہستی نے پڑھائی، اس موقع پر کورونا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

علامہ طالب جوہری کا انتقال بھی شہر کراچی کو سوگوار کرگیا، ممتاز عالم دین اور مفسر قرآن کی حیثیت سے ان کا مقام بہت بلند ہے، ایک زمانے میں پی ٹی وی سے ان کا پروگرام ہر مکتبہ فکر کیلئے مشعل راہ ہوتا تھا۔ علامہ طالب جوہری ایک بہترین شاعر بھی تھے، ان کی شاعری کی کتب بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

جہاں دیگر بیماریوں، ہیٹ ویو اور کورونا سے اموات کے خوفناک دور کا پوری قوم کو سامنا ہے، وہاں لوگوں کے لیے شفاعیت آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکاری اور نجی ہسپتال سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کی شکایت کا ازالہ کرنے کا سلسلہ بہت ہی کمزور ہے۔ اس وقت وزیراعظم پاکستان کا سٹیزن پورٹل سندھ میں مکمل غیر مؤثر ہے۔ کوئی بیوروکریٹ وزیراعظم آفس کے احکامات کو اہمیت نہیں دیتا، اس کی بنیادی وجہ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان آئے دن کے تنازعات ہیں، جس کا فائدہ بیوروکریٹ خوب اٹھاتے ہیں۔

کراچی اور گھوٹکی میں رینجرز پر حملوں کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان بہت تشویشناک ہے، جس میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سلیپر سیل پھر سے فعال ہوسکتے ہیں۔ اس وقت بھارت چین کے درمیان لداخ میں صورتحال مکمل طور پر بھارت کے خلاف ہے اس وقت بھاشا ڈیم پر کام بھی شروع ہوچکا ہے۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہونے والا ہے۔

اس صورتحال کو ہضم کرنا بھارت کیلئے آسان نہیں، ایم کیو ایم کے ر اہنما کا بیان بھی اسی لیے اہمیت حاصل کرگیا ہے۔ وزیرخارجہ کے خدشہ کے مطابق اگر سلیپر سیل فعال ہوئے تو کراچی اور اندرون سندھ سمیت بلوچستان کے علاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سیکورٹی اداروں کو ریڈ الرٹ پوزیشن میں ہی رہنا پڑے گا۔

حیرت ہے کہ ایسی سنگین صورتحال میں بھی سندھ اور وفاق کے درمیان عجب مقابلہ جاری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری ایک الگ قسم کی دھمکی دیتے ہیں ان کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ کورونا سے ملک ٹوٹ سکتا ہے، جس کی کوئی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔

معیشت پورے ملک کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے، وفاق کے ریونیو کے اہداف پورے نہیں ہوئے اور آئندہ مالی سال میں بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے صوبوں کا حصہ کم ہورہا ہے۔ صوبے بلدیاتی نظام مفلوج کیے بیٹھے ہیں۔ صوبائی مالیاتی کمیشن فعال نہیں، ضلعی حکومتوں کا نظام مؤثر نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں بلدیاتی اداروں کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

معیشت میں بہتری کیلئے موجودہ وفاقی حکومت تعمیرات کی صنعت پر امید لگائے بیٹھی ہے لیکن کورونا کے پھیلاؤ کے حوالے سے حکومتی وزراء اور وزیراعظم کے بیانات نے خوف کی فضا بڑھادی ہے اس صورت میں تعمیرات کی صنعت میں ممکنہ سرمایہ کاری کا ہدف پورا نہیں ہوسکے گا۔

وفاقی حکومت اگر 31 دسمبر 2020 تک زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی خواہاں ہے تو اُسے عوام کو ایک امید افزاء مستقبل کی نوید سنانا ہوگی اور خوف کی فضا سے باہر نکالنا ہوگا۔

،

متحدہ کے بانی رکن انور کے بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی،مصظٖے کمال نے اپنے دعوی کی تصدیق قرار دیا

وفاق اور سندھ کی کشمکش سے شہری سندھ کا نقصان،عوام میں بے چینی،نقصان کا اندیشہ

بے نظیر کی سالگرہ تقریبات اجازت نہ ہونے کے باعث منعقد نہ ہوئیں،وزیر خارجہ کا بیان تشویش کا باعث

مزید :

ایڈیشن 1 -