بجلی گیس کی رائیلٹی کے لئے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کی دوڑ دھوپ!

بجلی گیس کی رائیلٹی کے لئے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کی دوڑ دھوپ!

  

اگر چہ وزیر اعظم عمران خان نے این ایف سی ایوارڈ کو ناقابل عمل قرار دیا ہے، اس کے باوجود خیبرپختونخوا کی حکومت بجلی اور گیس کی مد میں اپنے حصے کی رائیلٹی کے حصول کے لئے سرتوڑ جدوجہد کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاسوں سمیت وزیر اعظم سے اپنی ون آن ون ملاقات میں بھی اپنا یہ موقف بار ہا دہرایا کہ کے پی کے کو اس کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے، جس پر وزیر اعظم نے ناصرف ان کا موقف درست تسلیم کیا بلکہ اس حوالے سے معاملہ فوری حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل وزیر نے دوران گفتگو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے حق کے لئے ہر حد تک جائیں گے اور بجلی، گیس کی رائیلٹی کا حصول ہماری پہلی ترجیح ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ہمارے وزیر اعلیٰ کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے اور یقین دہانی کرائی کہ اس بجٹ میں نا صرف آپ کی رائیلٹی کا معاملہ حل کر دیا جائے گا بلکہ انضمام شدہ قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں لانے کے لئے خطیر رقم بھی دی جائے گی۔ اجمل وزیر نے اس موقع پر وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

صوبائی اسمبلی میں بجٹ 2020-21ء پر بحث جاری ہے اور اس امر کا قوی امکان ہے کہ اسمبلی اس کی اکثریت کے ساتھ منظوری دے دیگی، بحث کے دوران اپوزیشن ارکان نے کٹوتی کی جو تحاریک پیش کی ہیں ان کی منظوری کا امکان کم ہی ہے البتہ کورونا کے حوالے سے جو بحث کی جا رہی ہے اس میں کئی اہم نکات سامنے آئے ہیں جنہیں ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان ایشوز میں اصلاح کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے ایک مایوس کن اطلاع یہ آئی ہے کہ پشاور کے دو بڑے اسپتالوں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ اسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے بیڈز کم پڑ گئے ہیں، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) میں مختص تمام 25 وینٹی لیٹرز پر کورونا مریض زیر علاج ہیں، مریضوں کے لیے مختص 144 بیڈز میں سے صرف 16 خالی رہ گئے ہیں، جبکہ خیبر ٹیچنگ اسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے 25 وینٹی لیٹرز میں سے 3 رہ گئے ہیں، 91 میں سے 84 بیڈز پر کورونا کے مریض زیر علاج ہیں۔ دونوں اسپتالوں میں اب تک کورونا کے باعث 227 مریض انتقال کرچکے ہیں۔ سرکاری طور پر دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 22 افراد انتقال کرگئے۔ صوبے میں اموات کی تعداد 843 ہوگئی۔ 24 گھنٹوں کے د وران کورونا کے 636 نئے کیس رپورٹ ہوئے، کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 22 ہزار 633 ہوگئی، اب تک 6869 متاثرہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ صرف صوبائی دارلا حکومت پشاور میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی7 ہزار828 ہے، کورونا وائرس سے 413 افراد انتقال کرچکے ہیں۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان اور ان کی ٹیم کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرین کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں ہے لیکن اس کے باوجود کئی معاملات ایسے ہیں جن پر مزید توجہ دینے اور محنت کی ضرورت ہے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کورونا کے مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے صحت کے شعبے کو مستحکم کرنا موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ اس مقصد کے لئے صوبے کے تمام چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کورونا وبا کی وجہ سے درپیش چیلینج کو صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے ایک موقع کے طور پر استعمال کرے گی جس کے لئے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ صحت کے شعبے کو کورونا وبا کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے نئے مالی سال کے بجٹ میں 124 ارب روپے کی ریکارڈ رقم مختص کی گئی ہے جبکہ کورونا کی صورتحال میں ہنگامی نوعیت کی ضروریات پوری کرنے کے لئے 24 ارب روپے کا فنڈ اس کے علاوہ ہے۔ صوبے کے خود مختار تدریسی ہسپتالوں کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کے سلسلے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے 10 ارب روپے مختص کئے گئے جو ان تدریسی ہسپتالوں کے لئے مختص 26 ارب روپے کے علاوہ ہیں۔ ضم شدہ اضلاع سمیت صوبے کے چھوٹے بڑے تمام ہسپتالوں بشمول ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں، دیہی مراکز صحت اور بنیادی مراکز صحت میں درکار جدید طبی آلات اور ادویات کی فراہمی اور ڈاکٹروں سمیت دیگر تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی کو پوری کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات اٹھائے جائیں گے جس کے لئے ان تمام ہسپتالوں کی ضروریات کے کوائف اکھٹے کئے جا رہے ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے لئے پچھلے مالی سال کے بجٹ میں مختص ڈھائی ارب روپے کو بڑھا کر چار ارب روپے کر دیا گیا ہے جبکہ ہسپتالوں میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کو آؤٹ سورس کرنے کے لئے ایک ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

موسم کی شدت نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور کورونا سے متاثر یا پریشان شہری سورج کی تپش سے مزید پریشان ہو رہے ہیں تاہم محکمہ موسمیات نے رواں ماہ کے آخر میں مون سون بارشوں کی نوید سنا دی، اس ہفتے شدید گرمی کے وار سہنا پڑیں گے۔ اس دوران بیشتر علاقوں کا درجہ حرارت 40 سے 45 سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس ہفتے میں خیبر پختونخوامیں ہیٹ انڈیکس 45 سینٹی گریڈ سے بڑھ جائے گا۔ بجلی کی غیرعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے بھی لوگوں کا جینا حرام کر دیاہے ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -