”بلا عنوان“

”بلا عنوان“
”بلا عنوان“

  

ان کا روحانی آقا بول رہا تھا اور وہ چاروں اسے سن رہے تھے، وہ کہہ رہا تھا، میرے دوستو! کچھ اور کہنے سے قبل میں اپنے اور تمہارے آقائے عظیم کے وہ الفاظ دھراتا ہوں جن میں وہ فرمایا کرتے ہیں کہ جو مجھے اور میرے پیروکاروں کو مطعون کرتے رہے اور کررہے ہیں۔ ہم نے انہیں کچھ یوں ذلیل و رسوا کرنا ہے کہ ان کے جنم لینے والے پھول، کسی پت چھڑ کے پھول بنا دیں گے جو کسی بہار کو نہ پہنچ پائیں گے۔ جو ہمارا جینا حرام کرتے رہے ہین، ہم ان کا جینا کچھ ایسا دوبھر کر دیں گے کہ وہ زندگی اور زندہ دلی فراموش کر دیں گے۔ ہمیں بے خانماں کرنے والوں کے شہروں اور گلزاروں کو ہم قبرستانوں اور ویرانوں میں تبدیل کر دیں گے اور وہ بھی کچھ ایسے کہ انہیں دنیا کے بے رنگ و بو صحرا اچھے لگنا شروع ہو جائیں گے۔ جن لوگوں کی وجہ سے ہم دربدر بھٹکتے رہے اور اپنے پیاروں کی راکھ چومتے رہے وہ جب اپنے جیتے جاگتے چہیتوں کو ڈھونڈنے نکلیں گے تو ویرانوں سے لپٹ کر روئیں گے جہاں انہیں اجنبی بھی دلاسے کے لئے نہ مل سکے گا۔ جنہوں نے ہمیں جانوروں کی طرح جینے پر مجبور کیا، ہم انہیں ایسے روبوٹ بنا دیں گے کہ کسی اپنے کا لمس تو کیا، اسے چھو بھی نہ سکیں گے، وہ کسی کا پیار تو کیا بے رخی کے بھی محتاج بنا دیئے جائیں گے۔

وہ چاروں پہلے بھی یہ الفاظ سن چکے تھے، مگر آج ان کے روحانی آقا کی آواز میں نئی گن گھرج محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ایک تکون تھا،چوکور کے مماثل، محل کے ایک مخصوص کمرے میں موجود، منبر پر موجود اپنے روحانی آقا کے ایک نئے روپ سے آشنا ہو رہے تھے۔ تینوں ZB،LP اور EMنے اپنے سینئر BG کی جانب دیکھا، ”روحانی آقا“ لائیوڈ ایلپسڈ خاموش ہوا تو BG بول اٹھا”اے ہمارے روحانی آقا! یہ تمام باتیں تو قیامت خیز ہیں۔ بوڑھے لائیوڈ ایلپسڈ نے اسے ٹوکنے پر اپنا بیان جاری رکھا اور مزید کہنے لگا، دوستو! آقائے عظیم تمہاری انتھک کاوشوں پر بے پناہ مسرت محسوس کر رہے ہیں اور تمہارے لئے ایک نئی خوبصورت دنیا کی نوید ہے۔ تمہاری اپنے کام سے بے پناہ لگن اور جذبے کی بدولت آج پوری دنیا میں ایک ہلچل برپا ہے۔ ذرا سوچو! تمہارے راستے میں ہزاروں رکاوٹیں آئیں، مگر آقائے عظیم کی نوازشوں کی بدولت ہم اپنے مشن میں سرخرو ہونے جا رہے ہیں۔ ہمارے دست راست CW نے اپنے حقیقی مشن کی کامیابی کی بدولت آقائے عظیم کے لئے وہ راستے ہموار کئے ہیں کہ آج وہ ان کا ہم نشین ہے اور ان کی محبت میں ہمہ وقت خوشی اور مستی کی کیفیت میں کچھ یوں جھوم رہا ہے کہ تمہاری سوچوں سے باہر ہے۔ اگر آج اس کی بعد از موت زندگی کی ایک جھلک تمہیں دکھا دوں تو تمہاری توجہ اپنے مشن سے ہٹ سکتی ہے اور تم اپنے کام سے غافل ہو سکتے ہو۔

جسے آقائے عظیم جلد انجام دینے کے خواہاں ہیں۔ بوڑھے لائیوڈ کی نگاہوں کی خیرہ کن چمک سے وہ تخیلات میں کھو گئے جہاں CW اور AE کیف و مستی میں جھوم رہے تھے۔ انہیں یوں کھویا ہوا پا کر بوڑھے لائیوڈ نے اپنی لاٹھی زور سے فرش پر ٹکرائی، جس پر وہ سبھی چونک اٹھے۔ بوڑھا لائیوڈ ان سے مخاطب ہوا، دیکھو! تم شائد متفکر ہو کہ اس کالے بجھنگ جارج فلائیڈ کی موت کے سبب کوئی ہنگامہ برپا ہو کر تمہاری کاوشوں میں رخنہ انداز ہو سکتا ہے تو اسے بھول جاؤ کہ یہ سب آقائے عظیم کی طرف سے پیدا کردہ ایک ”کرشمہ“ ہے، جس کی حکمت وہی جانتے ہیں جو ہمارے تمہارے ادراک سے باہر ہے۔ اس پر متفکر ہونے کی بجائے تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ آقائے عظیم کی یہ خوشی ہے۔ اپنے روحانی آقا کی جانب سے کیا جانے والا یہ انکشاف ان کے لئے غیر متوقع تھا۔ چنانچہ چاروں نے اطمینان کا سانس لیا اور ان کے سپاٹ چہروں کے نقوش آہستہ آہستہ مسکراہٹ میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔ بوڑھے لائیوڈ نے اک شعلہ فگار مسکراتی نگاہ ZB اور LP پر ڈالی اور بولا ”آقائے عظیم کو تم دونوں نوجوانوں پر فخر ہے۔ تمہارے کام کی پختگی اور تمہاری ذہانت پر وہ فریفتہ ہیں۔ تم ان کے جلیل القدر ساتھیوں میں شمار ہو چکے ہو۔ تم دونوں نے کمبخت DT کو جس طرح استعمال کیا ہے، کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ ”بوڑھے لائیوڈ نے توقف کیا تو LP بول اٹھا آقائے عظیم کی ہر خواہش پر ہماری جانیں قربان ہوں۔

ہم اگر متفکر تھے تو محض اس بناء پر کہ مشکلوں سے حاصل کی گئی ہماری مادیت کے ذخائر کو ان ہنگاموں سے خطرات کا خدشہ لاحق تھا۔ محسوس ہو رہا تھا کہ انسان پاگل گدھوں کی طرح ہماری ٹیکنیکل املاک کو نقصان پہنجانے کے درپے ہیں، جن کی بدولت ہم کامیابی کی منزل سر کرنے کی کوششیں کررہے ہیں اور پھر وہ گھوسٹ DT لومڑ کبھی کبھی ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے جب کبھی اس کی جبلت جاگ اٹھتی ہے تو ہمیں نئے سرے سے محنت درکار ہوتی ہے“۔ اس نے تائیدی نظروں سے اپنے دیگر ساتھیوں کودیکھا، جنہوں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔ بوڑھے لائیوڈ نے LP کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا”دیکھو شہزادے! جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں، ہمارے کام میں ایسی چھوٹی چھوٹی آزمائشیں آتی رہتی ہیں، جنہیں تم آقائے عظیم کے فرمودات کی روشنی میں بآسانی حل کر سکتے ہو۔ ہمارا اصل فخر تو BG اور EM ہیں۔ BG اس لئے بھی آقائے عظیم کی آنکھ کا تارا ہے کہ جس طرح وہ پوری دنیا کی آنکھیں، کان اور اذہان قابو میں کرکے اس بساط پر اپنے مہروں کو آگے پیچھے سرکا کر Multiple فتح حاصل کرتا ہے، وہ ہر کسی کا روگ نہیں اور EM ہمارے مستقبل کا وہ درخشندہ چاند ہے، جس کا مقام آقائے عظیم کی نظر میں چاند سے بھی اوپر ہے۔

بہرحال ہماری منزل نہایت قریب ہے اور یہ بھی واضح کر رہا ہوں کہ ابھی وقت کو اُلٹا گھمانا تھا، جس کی ابتداء ہو چکی ہے۔LP سے منسلک ہمارے کارندے جلد اہم خبر دیں گے، جسے جان کر ہم آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دے سکیں گے“۔ اتنا کہہ کر بوڑھا لائیوڈ خاموش ہوا تو ZB اپنی جگہ سے اٹھا اور بولا ”اے عظیم رہنما! میں سمجھتا ہوں کہ ابھی چند امور ایسے ہیں، جن پر مزید فکر و تدبر کی ضرورت ہے، جس میں سرفہرست ہمارے دشمن کے اندر بڑھتی ہوئی علمی، تحقیقی، تخلیقی اور معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہے، جو ہماری تربیت کردہ ذہانت استعمال کرکے وہ آگے بڑھ کر ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کر سکتا ہے یہ لوگ انہی ذہین انسانوں میں سے ہیں جنہیں ہم ورغلا کر اپنی مادیت کی بخشش کی بدولت، دنیا کے کونوں سے اٹھا کر لائے ہیں جو آج منافقانہ طرز عمل اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ جبلی طور پر وہ ہم جیسے نہیں“۔ بوڑھا لائیوڈ کچھ بے چین سا ہوا، پھر پر سکون ہو کر کہنے لگا ”اس سلسلے میں آقائے عظیم سے ہدایات موصول ہونے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے، ویسے مجھے دیکھو، بوڑھا ہو جانے کے باوجود میں بھی کسی کام پر مامور ہوں اور کتنا چوکس ہوں، یہ تم نہیں جان سکتے، جن غدار لوگوں کا تم نے ذکر کیا ہے، LP ان کی تفصیلات ہمیں مہیا کر دے گا، اگلی میٹنگ تک تم سے اجازت چاہتا ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -