بھارت کا ٹوٹنا طے ہے

بھارت کا ٹوٹنا طے ہے
بھارت کا ٹوٹنا طے ہے

  

خطے میں بھارت کی ریشہ دوانیاں بڑھتی جا رہی تھیں پاکستان کی طرف سے کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی کے بغیر بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر سویلین آبادی پر مسلسل گولہ باری سے معصوم اور نہتے شہریوں کی ہلاکت جاری تھی یہ سب کچھ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کررہا تھا، جس کا مقصد ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی ناکام اور بھونڈی کوشش تھی، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور دوسری طرف اپنے اندرونی خلفشار پر قابو پانے کے لئے اپنے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ بھارت کو پاکستان سے خطرہ ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو امن کی پیش کی جس کا ثبوت یہ ہے کہ 27فروری 2019 کو عالمی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی ایئر فورس کے ونگ کمانڈر ابھی نندن نے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو کر بمباری کی کوشش کی تو پاکستان ایئر فورس نے اس کے طیارے کو مار گرایا اور ابھی نندن گرفتار ہوا مگر پاکستان نے بھارت کے ساتھ امن کوششوں کو فروغ دینے اور جذبہ خیر سگالی کے طور پر نہ صرف ابھی نندن سے بہترین سلوک کیا بلکہ صرف 60گھنٹوں کے بعد اسے واہگہ کے راستے بھارت کے حوالے کر دیا۔

چاہئے تو یہ تھا کہ بھارت اس پر پاکستان کا شکر گزار ہوتا مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا کہ اس کی پشت پناہی کرنے والے اس کے آقاؤں جن میں امریکہ اور اسرائیل پیش پیش ہیں کا اس پر دباؤ تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی مذموم جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے جس کی اصل وجہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والا سی پیک معاہدہ ہے جو بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایک گیم چینجر ہے، جس کے باعث خطے کی مجموعی صورت حال یکسر بدل جائے گی اور خطے کا توازن پاکستان اور چین کے حق میں ہوجائے گا جسے بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا ٹرائیکا کسی صورت قبول کرنے پر تیار نہیں، مگر اب عالمی مبصرین کے مطابق بازی پلٹنے والی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان بننے والی شاہراہ قراقرم جو زمین سے 4963 میٹر بلند اور 880کلو میٹر پر محیط ہے جو گلگت بلتستان سے سنکیانگ تک جاتی ہے جسے دُنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے۔

پاکستان اور چین کے

درمیان سفر اور نقل و حمل کے لئے یہ شاہراہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ بھارت نے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ان کی ایما پر شاہراہ قراقرم کو بلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطہ منقطع کیا جائے۔ بھارت ابھی اس کی تیاریوں میں ہی تھا کہ ہماری خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس کے اس منصوبے تک مکمل رسائی حاصل کر لی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مارخور ہر اس منصوبے سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا دشمن کہاں چھپا ہے اور پاکستان کے خلاف کیا کررہا ہے۔کہ اس حوالے سے آئی ایس آئی نے ایک اور بھی کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے سربراہ اجیت دول کے بھانجے کلبھوشن یادو جو کہ گوادر پورٹ کو نقصان پہنچانے کے لئے ایران کے علاقہ چاہ بہار سے آپریٹ کرتا تھااور سندھ بلوچستان میں علیحدگی کی تنظیموں کی مدد کررہا تھا اس کی گرفتاری بھی آئی ایس آئی کا ایک اور کمال ہے کہ آج تک دنیا بھر میں کہیں بھی کسی خفیہ ایجنسی کے کمانڈر کو گرفتار نہیں کیا گیا ہاں نچلی سطح کے عہدیدار اور مخبر پکڑے جاتے ہیں،جس پر مارخور کو خراج تحسین پیش کرنا بہت ضروی ہے مارخور نے بھارت کے اس منصوبے سے ارباب اقتدار کو اس سے آگاہ کر دیا، جس کے مطابق پاکستان نے اس حوالے سے ضروری اقدامات شروع کردئیے جس میں پاکستان کا دشمن ٹرائیکا بالکل بے خبر تھا اس حوالے سے 7-8 اکتوبر 2019ء میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اکٹھے چین کا دورہ کیا جس کے دوران وزیر اعظم پاکستان چین کی سیاسی قیادت اور جنرل باجوہ نے فوجی قیادت سے ملاقات کی اور ٹرائیکا کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا اور ٹرائیکا کے منصوبے کا توڑ مشترکہ طور پر تیار کر لیا گیا۔ بعدازاں ان میں کچھ دیگر امور طے کرنے والے تھے اگر وزیراعظم یا جنرل باجوہ دوبارہ چین کا دورہ کرتے تو ٹرائیکا باخبر اور چوکس ہوجاتا کہ یہ دوبارہ دورہ کیوں کر رہے ہیں۔

لہٰذا اس حوالے سے 16مارچ 2020ء کو صدر عارف علوی نے چین کا دورہ کیا جو بظاہر کورونا وائرس کے حوالے سے تھا اور پھر پاک چین مشترکہ حکمت عملی تیار کر لی گئی۔ مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے عرض کرتا چلوں کہ لداخ کے حوالے سے چین بھارت لوکل فورس کمانڈرز کی میٹنگ ہوئی، مقصد بھارتی قیدی فوجیوں کو بھارت کے حوالے سے کرنا تھا۔ چینی کمانڈر نے بھارتی کمانڈر کی خاطر مدارت کی۔ چائے ختم کرنے کے بعد چینی کمانڈر نے بھارتی کمانڈر کو کہا (How was the Tea) چائے کیسی تھی؟ اس سوال نے بھارتی کمانڈر کو ہلاکر رکھ دیا۔ یہ وہی سوال تھا جو بھارتی گرفتار ونگ کمانڈر ابھی نندن سے پاکستانی افواج نے پوچھا تھا۔ گھبراہٹ میں جو جواب ابھی نندن نے دیا تھا وہ جواب بھارتی کمانڈر نے دیا کہ (Tea was good) اس حوالے سے زیرک اور صاحب دانش لوگوں کے لئے اشارہ کافی ہے۔ بجائے ا سکے کہ بھارت شاہراہ قراقرم کو بلاک کرتا اب کھیل الٹ ہوگیا۔ لداخ میں کافی آگے تک چینی فوج کا قبضہ ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جہاں بھارت کی کشمیر سمیت آٹھ ریاستیں (صوبے) ہیں۔ جہاں طویل عرصہ سے آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور اب ان تحریکوں کا ثمر بار نتیجہ برآمد ہوگا۔ ان ریاستوں میں تری پورہ، میزورام، منی پور، آسام، ناگالینڈ، میغالیہ، خالصتان اور مقبوضہ کشمیر شامل ہیں۔ مودی سرکار انتہائی پریشانی اور تشویش کا شکار ہے۔ ادھر بنگلہ دیش نے بھارت سے کہا ہے کہ 1905کے نقشے کے مطابق آسام اور بھارتی بنگال بنگلہ دیش کا حصہ ہے اس لئے واپس کیا جائے۔

ادھر نیپال کے بھارت سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں اور اس نے بھارتی سرحد کے ساتھ فوجی بیرکس،ہیلی پیڈ، ٹینٹ اور بنکر بنانے شروع کر دئیے ہیں۔ نیپال کا دعوی ہے کہ اتراکھنڈ نیپال کا علاقہ ہے، جس پر بھارت نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اس نے بھارت سے اپنے اس علاقے کی واپسی کا مطالبہ کردیا ہے۔ 1980ء سے جاری خالصتان کی تحریک آزادی تیزی سے تقویت پکڑ رہی ہے بھارت کے علاوہ اس کی شاخیں پوری دنیا میں قائم ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ خالصتان کو آزادی دی جائے۔ اور جہاں تک کشمیر کی تحریک آزادی کا تعلق ہے تو اب وہ اپنے پورے عروج پر پہنچ چکی ہے اور اس کا منطقی نتیجہ بہت جلد سامنے آجائے گا اور اب یہ طے شدہ بات ہے کہ بہت جلد بھارت کے ٹکڑے ہونے والے ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے بعض ذرائع سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چین نے بھارت سے کہا ہے کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کے حالات پر تحفظات اور تشویش ہے کہ اگر بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر سے نہیں نکلتی اور مودی سرکار آرٹیکل 370ختم نہیں کرتی تو چینی افواج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوجائیں گی، کیونکہ یہ بھی چینی علاقہ ہے جس پر بھارت کا ناجائز قبضہ ہے۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے اس انداز میں کشمیر کی بات کی ہے۔ چین، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے باہمی اتفاق پر بھارت اور مودی سرکار سخت پریشان ہے ادھر بھارت کے اندر ایک نا ختم ہونے والا انتشار ہے۔

عوام اور اپوزیشن پارٹیاں پہلے پاکستان کے ہاتھوں ابھی نندن کی گرفتاری اور رہائی اور اب لداخ میں بھارتی افواج کی پسپائی، بھارتی فوجیوں کی جانوں کا ضیاع اور گرفتاری پر مودی سرکار کی سخت الفاظ میں مذمت کررہی ہے اور امریکہ نے مودی جسے ہمیشہ جھوٹ بولنے کی عادت ہے اس بات پر اور پریشان کر دیا ہے کہ اس نے ٹی وی پر جھوٹ بولا کہ اس کا کوئی فوجی نہ تو چین کے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی مارا گیا ہے مگر امریکی میڈیا نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں کے تابوت،گرفتار فوجیوں کی تصاویر، چین اور بھارت کے مقامی فورس کمانڈرز کی میٹنگ کے بعد چین کی جانب سے بھارتی فوجیوں کی بھارت کو حوالگی کے علاوہ سٹیلائٹ پر یہ بھی دکھا دیا کہ چین بھارت کے علاقے لداخ کے اندر کتنا داخل ہوچکا ہے، جس پر امریکہ نے سخت نوٹس لیا کہ مودی نے جھوٹ بولا علاوہ ازیں اس پر بھارتی عوام نا صرف مودی کو بلکہ مودی ٹرمپ دوستی کی بھی دل کھول کرمذمت کررہے ہیں۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوست جان بولٹن نے کتاب تحریر کی ہے، جس میں اس نے لکھا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر سے درخواست کی تھی کہ وہ انتخابات میں آگے آئیں اور الیکشن جیتنے میں میری مدد کریں جسے پڑھ کر مودی کی سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ ٹرمپ نے ڈبل گیم کھیلی،جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو اس کا معاشی، تجارتی، سیاسی اور امن عامہ کا سارا دارو مدار پاکستان پر ہے۔

مزید :

رائے -کالم -