فواد چوہدری کا انٹر ویو، وزارء پھٹ پڑے، وزیراعظم نے متنازعہ بیانات سے روکدیا، وزیر سائنس مطمئن نہیں تو استعفا دے دیں: فیاض الحسن چوہان

فواد چوہدری کا انٹر ویو، وزارء پھٹ پڑے، وزیراعظم نے متنازعہ بیانات سے ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم کی جانب سے تمام کابینہ اراکین کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ آئندہ کوئی متنازع بیان نہ دیا جائے۔ فواد چودھری نے اجلاس میں بیان سے متعلق وضاحت دی کہ میرا بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر چلایا گیا، میں نے ماضی میں ہونے والی صورتحال پر بات کی۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس فواد چودھری کے گزشتہ روز بیان کا ذکر کیا گیا۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے فواد چودھری کے بیان کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھا دیا۔ وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو گفتگو میں احتیاط اور اتحاد قائم رکھنے کی ہدایت کی۔ کابینہ اجلاس میں بعض وزرا اور مشیروں کی کارکردگی پر بھی گرما گرم بحث ہوئی۔وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے اسد عمر، عبدالرزاق داؤد اور ندیم بابر کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی اور کہا کہ کابینہ کے اندر سے لوگ سازشیں کر رہے ہیں۔ یہاں گیم ہو رہی ہے، ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کابینہ میں کچھ کہا جاتا ہے اور باہر کچھ اور کہتے ہیں۔ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم وزیراعظم بن چکے ہیں۔وزیراعظم نے فیصل واوڈا کو جذباتی دیکھ کر کہا کہ‘’فیصل ریلیکس رہو”, ہم پی ٹی آئی کا نظریہ دبنے نہیں دے سکتے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ کابینہ میں کچھ بتایا جاتا ہے، کاغذوں میں فیصلے کچھ اور طرح کے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کے سامنے سیدھی بات بتائی جائے۔اس سے قبل وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چو دھری نے اپنے ایک انٹرویو میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی اندرونی کہانی سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ کابینہ اجلاس میں وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس کام کرنے کے لیے چھ ماہ ہیں۔ اس کے بعد وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور معاملات دوسری طرف چلے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی گئیں۔ یہ توقعات نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کے لیے تھیں، اس لیے اس حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے پیمانہ بھی دوسروں سے مختلف ہے۔ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں کہ ڈیلیور نہیں کرسکے۔ حکومت دو چیزوں پر چلتی ہے۔ ایک سیاست پر اور دوسرا گورننس پر۔ ان دونوں میں توازن قائم نہ رہے تو معاملات کسی بھی وقت قابو سے باہر نکل جاتے ہیں۔ عمران خان کو اس بات کا پورا احساس ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ جب حکومت بنی تو جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر میں جھگڑے ہوئے، سارا سیاسی طبقہ کھیل سے باہر ہوگیا جس کا بیوروکریسی نے فائدہ اٹھایا۔ جہانگیر ترین نے اسد عمر کو وزارت خزانہ سے فارغ کروایا تھا۔ اسد عمر دوبارہ آئے تو انہوں نے جہانگیر ترین کو فارغ کروا دیا۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی ملاقاتیں ہوئیں لیکن بات نہیں بنی۔ پارٹی کے اندرونی جھگڑوں سے حکومت کو نقصان پہنچا۔ وزیراعظم کے مشیر فیصلے کر رہے ہیں اور سیاسی لوگ منہ دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان کی بنیادی ٹیم ہل گئی جب کہ نئے لوگ پرانے آئیڈیاز کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھے۔ ان میں صلاحیت بھی نہیں ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی سمجھ آتی تھی کہ انھوں نے کمزور لوگوں کو اہم عہدوں پر لگایا کیونکہ ان کا مقصد قیادت کو اپنے بچوں کو منتقل کرنا تھا۔ عمران خان کا تو یہ مسئلہ نہیں ہے۔ انھیں تو بہترین لوگوں کو عہدے دینے چاہیے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھیں کس نے مشورہ دیا کہ کمزور لوگوں کو لگائیں جو ہر بات کی ڈکٹیشن لیں۔ اس کا عمران خان کی ذات کو نقصان پہنچا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اطلاعات کی وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد میں نے کہا کہ مجھے وزارت نہیں چاہیے، صرف ایم این اے رہنے دیں۔ لیکن زلفی بخاری نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ آپ دوسری وزارت لیں۔ انھوں نے کئی وزارتوں کے نام لئے تو میں نے سائنس و ٹیکنالوجی لے لی۔ تین ماہ میں مجھے اندازہ ہوا کہ کسی وزارت میں بہت زیادہ کام کرنے کی گنجائش ہے تو وہ یہ وزارت ہے۔ وزارت اطلاعات میں غلطیاں دوسرے کرتے ہیں اور جواب آپ کو دینا پڑتا ہے اور ایسی باتیں کہنی پڑتی ہیں جو آپ نہیں بھی کہنا چاہتے۔

کابینہ اندرونی کہانی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لا ئن) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ فواد چودھری اگرحکومت سے مطمئن نہیں تو استعفیٰ دے دیں۔ اپنے ایک بیان میں فیا ض الحسن چوہا ن نے کہا کہ فواد چوہدری خود کو زیادہ وژنری سمجھتے ہیں، میں نے انہیں 6 ماہ قبل سمجھایا تھا کہ باز آ جاؤ۔ فواد چودھری سمجھتے ہیں کہ عمران خان ناکام ہو گئے ہیں، وہ وزیراعظم کا لحاظ کرتے ہیں تو ان کو شرم کرنی چاہئے۔علاوہ ازیں محکمہ اطلاعات و ثقافت میں آنے والے نو منتخب انفارمیشن افسران کے تربیتی سیشن کے اختتام پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز جیسے کرپٹ اور بد دیانت سیاستدان معاشرے میں کرونا سے زیادہ خطرناک ہیں۔ انتظامی و سیاسی صلاحیتوں کے فقدان کے باوجود حمزہ شہباز کی ترقی عظیم الشان اقربا پروری کے بغیر ممکن نہ تھی۔ حمزہ شہباز نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے ذریعے اپنی اور اپنے خاندان کے دیگر افراد کی جیبیں بھریں۔ انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر ملک میں احتساب کا بغل بج چکاہے، اب آلِ شریف سمیت سب کرپٹ عناصر پکڑے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نئے آنے والے انفارمیشن افسران کی تربیت کے لیے سماجی دوری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی پی آر کی تاریخ میں پہلی دفعہ نئے آنیوالے افسران کی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ اس کاوش پر ڈائریکٹر جنرل، ڈی جی پی آر اسلم ڈوگر اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ کرونا وبا کے دنوں میں ٹیکنالوجی کا اس سے بہتر اور مثبت استعمال ممکن نہیں تھا۔ ہمیں محکمہ اطلاعات میں نئے منتخب ہونے والے افسران سے بہترین کارکردگی کی توقع ہے۔

فیاض الحسن

مزید :

صفحہ اول -