پٹرول بحران حل نہ ہونے پر وفاقی کابینہ برہم، پٹرولیم ڈویژن سے وضاحت طلب

  پٹرول بحران حل نہ ہونے پر وفاقی کابینہ برہم، پٹرولیم ڈویژن سے وضاحت طلب

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور توانائی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے،کابینہ نے 20روز گذرنے کے باوجود ملک میں پٹرول بحران ختم نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پٹرولیم ڈویژن کی ناکامی پر وضاحت طلب کرلی اور پٹرولیم ڈویژن کے افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کردیا ہے،پٹرولیم ڈویژن نے پٹرول بحران کی نئی وجوہات پیش کرتے ہوئے ایران سے پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں کمی پٹرول بحران کی بڑی وجہ قرار دیا۔ وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں معاشی و سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ کابینہ کو سعودی حکومت کی نئی حج پالیسی کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔کابینہ نے متعدد نکات کی منظوری دیدی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 17 جون کے فیصلوں کی توثیق کردی۔کابینہ کی توانائی کمیٹی کے 4 جون کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی گئی۔ کابینہ نے چمبہ ہاوس لاہور اور قصر ناز کراچی کو لیز پر دینے، پاکستان میں سیٹلائیٹ سروس کی پالیسی کی تیاری اور غیر ملکی سیٹلائٹ سروسز کو پاکستان میں محدود کرنے کی منظوری دیدی ہے،ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کی سیٹلائٹ سروسز استعمال کرنے کی پابند ہونگی، وفاقی کابینہ کے فیصلے سے سالانہ اربوں روپے کی بچت ہوگی۔ متروکہ وقف املاک کے چیئرمین نے ادارے کی کارکردگی پر کابینہ کو بریفنگ دی۔کابینہ نے محکمہ موسمیات کے تحت ملازمت کے تمام درجوں کے لئے لازمی مینٹیننس ایکٹ 1952 کے نفاز میں توسیع کی منظوری دیدی۔ کابینہ اجلاس میں ایک بار پھر پیٹرول کی قلت پر بحث ہوئی۔کابینہ اراکین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ 20روز گذرنے کے باوجود پٹرول بحران ختم کیوں نہ ہوا۔اس موقع پر پٹرولیم ڈویڑن نے پٹرول بحران کی نئی وجوہات پیش کردیں اور ایران سے پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں کمی پٹرول بحران کی بڑی وجہ قرار دیا گیا پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کابینہ کو بتایا گیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں ایران سے اسمگل شدہ پٹرول وڈیزل فروخت ہوتاہے۔خیبرپختوں خواہ میں 400غیرقانونی پٹرول پمپس اور سٹوریج موجود ہیں۔خیبرپختونخواہ اور دیگر علاقوں میں خلاف قانون سٹوریج میں پٹرول ذخیرہ کیا جارہا ہے۔ وفاقی کابینہ نے پٹرول اور ڈیزل سے متعلق تاریخی فیصلہکتے ہوئے پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کوالٹی یورو 2 سے یورو 5 تک بڑھائی جانے کی منظوری دیدی۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پٹرول و ڈیزل کی یورو 5 پرمنتقلی کیہدایت کر دی گئی۔اس حوالے سے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 6 ماہ پہلے پٹرول کی کوالٹی بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا، یکم اگست سے پٹرول یورو 5 پر منتقل کر دیا جائیگا جبکہ ڈیزل جنوری2021 سے یورو 5 کے برابر چلا جائیگا۔امین اسلم کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت 70 فیصد پٹرول اور 40 فیصد ڈیزل درآمد ہو رہا ہے،پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہوگا جو یورو 2 سے یورو 5 پرمنتقل ہوگا۔کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے چینی کی قیمت پر تشویش کا اظہار اور شوگر انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عملدر آمد کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارشات پر عملدرآمد سے چینی کی قیمت میں فرق آئے گا،چینی کی قیمتوں سے متعلق نظام آئندہ تین ماہ میں مکمل ہوگا وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کرونا کی بعد میں پتا چلا ہے صحت کا نظام کتنا خراب ہے؟جب تک کرونا کی ویکسین نہیں آ جاتی اس طرح کی صورتحال کا سامنا رہے گا،اگست تک وبا کا خطرہ کافی حد تک موجود رہے گا،پاکستان میں کرونا کی وجہ سے ہلاکتیں کم ہیں،کرونا وبا پر بہت جلد قابو پا لیں گے، حکومت گندم کی اسمگلنگ روکنے اور آن لائن ایجوکیشن کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ کابینہ اجلاس میں اسلام آباد میں ٹیچنگ ہسپتال کی منظوری دی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آٹے کی قیمت کنٹرول کرنے کے لئے پنجاب کو نو لاکھ ٹن گندم ریلیز کرنے کا کہا گیا۔انہوں نے کہاکہ حکومت آن لائن ایجوکیشن کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ لاک ڈاؤن کا شور کرنے والوں کے اربوں روپے باہر بڑے ہیں۔جی

وفاقی کابینہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گندم کی ضروریات کے مطابق وافر دستیابی یقینی بنانا، گندم اور آٹے کی قیمتوں کو قابو رکھنا اولین ترجیح ہے،صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کئے جانے والے فیصلوں پر جلد از جلد عمل درآمدکو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں،ملکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المدتی حکمت عملی بھی تشکیل دی جائے،گندم کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے زیرو ٹالرینس پالیسی کو یقینی بنایا جائے۔ منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، وزیرِ برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، سیکرٹری خزانہ ودیگر سینئر افسران شریک ہوئے جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب، چیف سیکرٹری سندھ اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے گندم اور آٹے کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کیے جانے والے فیصلوں سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح نہ صرف گندم کی ضروریات کے مطابق وافر دستیابی کو یقینی بنانا ہے بلکہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کوقابو میں رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ان کی اولین ترجیح غریب طبقے کا تحفظ ہے تاکہ ان پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ وزیرِ اعظم نے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کیے جانے والے فیصلوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان فیصلوں پر جلد از جلد عمل درآمدکو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المدتی حکمت عملی بھی تشکیل دی جائے تاکہ مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے کسی دقت کا سامنا نہ ہو۔ وزیرِ اعظم نے تمام صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ گندم کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے زیرو ٹالرینس پالیسی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بنک کو ہدایت کی کہ ترسیلات زر کے حوالے سے مراعاتی پیکیج کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ اس پیکیج پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے، بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں، ملک سے باہر کام کرنے والے ہنرمندوں، مزدوروں اور دیگر پیشوں سے وابستہ افراد کو نہ صرف ترسیلات زر بلکہ ہر ممکنہ شعبے میں سہولت کاری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زرکے ضمن میں مراعات دینے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری، معاون خصوصی شہباز گل، سیکرٹری خزانہ و دیگر سینئر افسران شریک۔ گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر اور ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک کی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر کی موجودہ صورتحال اور اس حوالے سے ان کو مزید مراعات دینے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ گذشتہ اٹھارہ ماہ میں تقریباً دس لاکھ پاکستانیوں کو بیرون ملک بھجوایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کی صورتحال کے باوجود خطے کے دوسرے ممالک کی نسبت بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب ترسیلات زر میں استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال مئی میں ترسیلات زر 20.1ارب ڈالر تھیں جبکہ کورونا کے چار ماہ کے باوجود اس سال مئی میں ترسیلات زر 20.5ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے باہر کام کرنے والے ہنرمندوں، مزدوروں اور دیگر پیشوں سے وابستہ افراد کو نہ صرف ترسیلات زر بلکہ ہر ممکنہ شعبے میں سہولت کاری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ممالک میں موجود نوکریوں کے مواقع اور مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنرمندوں اور کاریگروں کی صلاحیتیوں میں اضافے اور انکی پیشہ وارانہ تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ایسے قابل افراد کو بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے مشیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بنک کو ہدایت کی کہ ترسیلات زر کے حوالے سے مراعاتی پیکیج کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ اس پیکیج پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -