ملک سے آٹا، چینی، پٹرول، بجلی غائب، حکمران مخالفین کی عزتوں پر حملہ آورہیں

      ملک سے آٹا، چینی، پٹرول، بجلی غائب، حکمران مخالفین کی عزتوں پر حملہ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی اسامہ قادری سندھ حکومت پر برس پڑے اور کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم قرآنی صحیفہ نہیں کہ ترمیم نہیں ہوسکتی،اٹھارہویں ترمیم وفاق کو کمزور اور بلیک میل کرتے رہنے کیلئے ہے، کراچی بار بار اجڑتا رہا،اندرون سندھ کے وزیر اعلی نے کراچی کو بجٹ میں مکمل نظرانداز کردیا،سٹیل ملز کے قدیمی ملازمین کو مت نکالا جائے اگر نکالا گیا تو احتجاج کرینگے۔ منگل کو آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی اسامہ قادری نے کہاکہ لیاقت علی خان کے علاوہ آج تک کوئی بجٹ عوامی بجٹ نہیں آیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے۔کراچی میں جعلی ڈومیسائل سے مقامی لوگوں سے نوکریاں چھین لی گئیں۔ پی ٹی آئی کے جنید اکبر خان نے کہاکہ عرب ممالک میں اوورسیز پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں، واپس لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔احساس پروگرام میں پاسپورٹ والوں کو پروگرام سے فائدہ نہیں ہوتا،پاسپورٹ کی شرط ختم کی جائے۔ خیبرپختونخواہ میں گندم کی مشکلات ہیں،پیک سیزن میں بھی خیبر پختونخواہ میں آٹا نہیں مل رہا،پنجاب حکومت کی جانب سے آٹے پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ارمغان سبحانی نے کہاکہ ملک میں کاشتکاروں کا استحصال کیا جارہا ہے،ٹڈی دل کے حملے کی وجہ سے کسان حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے،کسانوں کو محنت کے برعکس گنے کی فصل کے پیسے نہیں مل رہے،ملک میں جعلی ادویات کی بھرمار ہے،زرعی ترقیاتی بینک سے کمرشل نظام ختم ہونا چاہئے یہ کسانوں کا استحصال کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی نے کہاکہ آپ نے تو لاک ڈاؤن کو مراد علی شاہ کا ڈرامہ قرار دیا تھا آج ملک کیوں بند کررہے ہیں،آپ کچھ گنواکے بھی سیکھنے کیلئے تیار نہیں۔ سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں والا نہیں سوتن والا سلوک ہورہا ہے،ٹڈی دل کینسر بن چکا، حکمران ڈرنا نہیں کی بانسری بجا رہے ہیں،کہتے ہیں سکون تو قبر میں ہی ملے گا،کوئی نیکی کرکے جائیں گے تو ہی قبر میں سکون ملے گا۔ تحریک انصاف کے سلیم الرحمان نے کہاکہ گزشتہ 20 سالوں میں سوات کی ایک سڑک پر بھی کام نہیں کیا گیا،کالام روڈ دسمبر 2019 میں ٹھیک ہوگئی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے سیاحت کے شعبے کو پرموٹ کرنے کا کہا تھا۔ ڈاکٹر شہناز بلوچ نے کہاکہ پاکستان کو خراب کرنے میں ہر ادارے نے کردار ادا کیا ہے،کسی کو بھی کسی شخص پر بہتان نہیں لگانا چاہئے،ہمارا اسلام ہمیں کسی پر بھی بہتان لگانے سے منع کرتا ہے،میں نے یہاں جو دیکھا ہے شاید ایوان میں کبھی واپس نہ آؤں،بلوچستان کے ساتھ گزشتہ دہائیوں سے جو ہورہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر رمیش نے کہاکہ 16 دن کورونا وبا سے لڑ کر واپس آیا ہوں،جب کورونا ٹیسٹ مثبت آیا مجھے راولپنڈی اور اسلام آباد میں کوشش کے باوجود بھی آکسیجن سلنڈر نہیں ملا۔ایوان میں غلط زبان استعمال کرنے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے،ایسے ممبران کو معطل کردینا چاہئے۔شازیہ مری نے کہاکہ فرنٹ لائن ہیروز کو سیلیوٹ پیش کرتی ہوں،ڈاکٹرز، پیرامیڈیکلز،ہیلتھ پروفیشنلز کو سلام پیش کرتی ہوں،حکومت نے الیکشن سے پہلے کے جھوٹے دعوؤں سے عوام کو تکلیف دی۔ کیا یہ مناسب ہے کہ وزیر غصے کاجواب غصہ سے دیں،حکومت نے اب تک صرف پاکستانیوں کو رسوا کیا ہے۔شازیہ مری نے کہاکہ اگر حکومتی ارکان نے جواب دینا ہے تو حقائق پر جواب دیں لیکن ہماری باتوں کے جواب میں عزتوں پر حملہ نہ کریں،خدارا ہماری عزت پر حملے نہ کریں۔ لوڈ شیڈنگ کی انتہا ہو چکی،چینی چوری کی انتہا ہو چکی آٹا مہنگا ہو چکا ہے،ملک کے مسائل کرونا وائرس نہیں بلکہ حکومت کی وجہ سے ہیں،میری تنقید کا جواب دیں مگر مجھ پر حملے نہ کریں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی علی گوہر خان نے کہاکہ صاف چلی شفاف چلی دیکھو تحریک انصاف چلی، یہ سلوگن چوروں کے لئے بنایا گیا،کہا گیا آئی ایم ایف کی طرف نہیں جائیں گے،نوکریوں کی تحقیقات پر انھیں بٹھا دیا جن پر الزام تھا،آج ہم سب ان نعروں کو بھگت رہے ہیں،صاف شفاف چلی حکومت نے ہمیں کہاں پہنچا دیا ہے،جس ملک میں عوامی نمائندے شفاف طور پر منتخب نہ ہوں۔ جس ملک میں نیب کے ذریعے اپوزیشن کو جیل بھیجا جائے، ایسے ملک میں بجٹ کیسے منصفانہ ہو سکتا ہے۔حفیظ شیخ ماضی میں غلط تھا یا آج غلط ہے،آج ٹھیک ہے تو حفیظ شیخ کے ماضی کے اقدامات پر کارروائی کریں۔بتایا جائے پشاور میٹرو کا احتساب کون کرے گا؟،یہ اندھا قانون زیادہ دیر تک نہیں چلے گا،وہ وقت دور نہیں جب ملک میں حقیقی جمہوریت آئے گی۔تحریک انصاف کے فیض اللہ کموکا نے کہاکہ ہم اپنے مقصد سے ہٹ رہے ہیں،ہمیں عوام کے مسائل حل کرنے ہیں،ممبران اسمبلی ہمیشہ اپنی قیادت کے غلام نظر آئے،بہت کم لوگوں نے آزادانہ کردار ادا کیا، اسمبلی کا ممبر ہونا کاروبار بن گیا، اس کے بعد دوسرے اداروں نے بھی حصہ وصول کرنا شروع کر دیا۔حکومتی رکن فیض اللہ کموکا نے احتساب کے قوانین مزید سخت کرنے کا مطالبہ کر دیا۔انہوں نے کہاکہ عوامی عہدے کا غلط استعمال کرنیوالا ان کو ڈی چوک میں لٹکایا جائے،لوگوں کو احساس ہونا چاہئے کہ ہم نے کرپشن نہیں کرنی،نیب کے کیسز کا رزلٹ ایسا نہیں جیسا ہونا چاہیے،جلد انصاف ہونا چاہیے اور ملک لوٹنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے،پولیس اور بیوروکرسی میں بھی اصلاحات ناگزیر ہیں،جن پر مفادات کے ٹکراو کا الزام آتا ہے انہیں سائیڈ لائن کیا جائے۔مسلم لیگ (ن) کے حامد حمید نے کہاکہ 2020ء کو تبدیلی کا سال قرار دیا گیا مگر جنوری میں ٹماٹر، فروری میں چینی، مارچ میں آٹا نہ ملا،اپریل میں عوام آپس میں گلے نہ مل سکے، مئی میں مریضوں کو بیڈ نہیں ملے اور جون میں پیٹرول نہیں مل رہا لیکن عوام کو گھبرانہ نہیں ہے کیونکہ ابھی اس سال کے چھ ماہ باقی ہیں۔اس فقیر اعظم کی کیا بات کریں، گوگل پر بھکاری لکھیں تو عمران خان کی تصویر آجاتی ہے،یہ کہتے تھے کہ ہمارے دور میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی، بی آر ٹی مکمل ہوگی، مالم جبہ کردار جیلوں میں ہونگے۔ کیا ہوا ان مسائل کا؟،ادویات کے بعد چینی آٹے کی قیمتیں آپ نے بڑھا دیں، بان متی کا کنبہ جوڑا، علی بابا چالیس چور اکٹھے ہوگئے۔ قومی اسمبلی میں بعض اراکین کی جانب سے نازیبا زبان کے استعمال کے معاملے کا سپیکر اسد قیصر نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ساتھ دیں ایسے اراکین کے خلاف کارروائی کروں گا جو ایوان کے تقدس کے منافی زبان استعمال کرتے ہیں،رکن حکومت کا ہویا اپوزیشن کا ویڈیوز نکلوا کر دیکھوں گا اور سخت ایکشن لوں گا رولز کے تحت غیر اخلاقی گفتگو پر رکنیت بھی معطل کرسکتا ہوں۔

ارکان قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -