تجارتی معاہدہ قائم، امید ہے چین پابندی کریگا،صدر ٹرمپ

  تجارتی معاہدہ قائم، امید ہے چین پابندی کریگا،صدر ٹرمپ

  

واشنگٹن (بیورو چیف) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا چین کے ساتھ معاہدہ قائم ہے اور امید ہے چین اس کی پابندی کرے گا۔ صدر کو سوموار کی شب اپنے ٹوئیٹر پیغام میں یہ وضاحت کرنا پڑی کیونکہ اس سے تھوڑی دیر قبل امریکی تجارتی مشیر پیٹرناوارو کے ایک بیان سے غلط فہمی پیدا ہوئی اور سٹاک مارکیٹ نیچے گر گئی۔ تجارتی مشیر نے جو چین کے نقاد ہونے کی شہرت رکھتے ہیں سوموار کی شام ”فوکس نیوز“ پر ایک انٹرویو میں کہا کہ چونکہ چین نے کرونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ کے حوالے سے امریکہ سے حقائق چھپائے اس لئے اس کے ساتھ سب تجارتی معاملات ختم ہوگئے ہیں۔ یہ بیان جاری ہونے کی دیر تھی کہ وال سٹریٹ پر بحران پیدا ہوگیا اور ہوسکتا ہے کہ سٹاک مارکیٹ پوری طرح کریش کر جاتی لیکن مشیر نے ایک وضاحت کے ذریعے بیان بدل لیا۔ بعد کے بیان میں انہوں نے کہا چین کے ساتھ پہلا تجارتی معاہدہ برقرار ہے مگر دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا قائم ہونے سے ان کے درمیان آئندہ کے لئے تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ ج تک ان کے درمیان اعتماد پیدا نہیں ہوتا تجارتی معاملات ختم ہی رہیں گے۔ ایک طویل تجارتی جنگ کے بعد دونوں ممالک نے جنوری میں تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کئے تھے جسے صدر ٹرمپ نے اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیا تھا اور اس کے بعد سٹاک مارکیٹ میں استحکام پیدا ہوگیا تھا۔ امریکہ کو شکایت ہے کہ جنوری میں چین میں کرونا وائرس کا معاملہ پیدا ہو چکا تھا لیکن امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اس نے سب کچھ چھپا کر رکھا۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ پر اپنی قوت کے استحکام کے لئے چین نے جو اقدامات کئے ان پر بھی امریکہ نے سخت تنقید کی۔ امریکہ اس وقت جارحانہ انداز میں کرونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ کے حوالے سے چین کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے فارمرز کو بھی چین سے شکایت ہے کہ وہ معاہدے کے تحت امریکی زرعی اشیاء کی خریداری نہیں کر رہا جبکہ اس کی بجائے اس نے حال ہی میں برازیل سے سویابین خریدی ہے۔

امریکہ چین معاہدہ

مزید :

صفحہ اول -