پنجاب اسمبلی، بجٹ اعداد و شمار پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی ایک دوسرے پرشدید تنقید

      پنجاب اسمبلی، بجٹ اعداد و شمار پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی ایک ...

  

لاہور(این این آئی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کی بجائے وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث کو سمیٹا، لیگی خاتون رکن حنا پرویز بٹ کی تقریر پر ایوان میں شور شرابہ ہوا اورحکومتی اور اپوزیشن اراکین مخالفانہ نعرے لگاتے رہے۔حکومت اور اپوزیشن نے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کی جانب سے دختر رسول ؐکی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف جلالی کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر دیا جس پر وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کے خلاف مقدمہ درج کر کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا گیا ہے۔صوبائی وزیر صمصام بخاری نے کہا کہ جیسے عقیدہ ختم نبوت ؐپر بات کی گئی ہے اس طرح اہل بیت پر بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔،مجھے سو سے زائد گد ی نشینوں نے کہا ہے ڈاکٹر آصف جلالی کیخلاف کارروائی کی جائے۔صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں ذاتی گھروں کیلئے 72 کروڑ روپے خرچ کیے گئے،2900پولیس اہلکار گھروں کے باہرر ڈیوٹیاں سرانجام دیتے رہے،غریبوں کے خون پسینے کے پیسے ذاتی چار دیواریوں کیلئے استعمال کیے گئے۔پنجاب میں چالیس شوگر ملیں ہیں جنہوں نے 78کررڑ روپے کسانوں کے دینے ہیں۔ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کیلئے جوفنڈز مختص کیے وہ صرف وہیں استعمال ہوں گے۔(ن) لیگ والے بجٹ کتابوں کو پڑھ لیتے تو انہیں ہمارے اور اپنے دور کے بجٹ کا فرق واضح ہو جاتا۔بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہ دستاویز ت دیکھ لیں جو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں بجٹ میں عوام کے لئے کوئی ریلیف نہیں ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین کی لاگت میں اضافہ ہوا تو کس بنیاد پر ہوا؟ 30ارب کا پراجیکٹ 67ارب سے آگے نہیں جا سکتا لیکن 300ارب تک کیسے پہنچ گیا۔ بجٹ میں گندم کی سبسڈی ختم کر دی گئی،کسان کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔(ن)لیگی رکن حنا پرویز بٹ نے کہا کہ جادو سے حکومتیں بنائی توجا سکتی ہیں لیکن قائم نہیں رہتیں جو کہتے تھے حکمران چور ہو تو عوام ٹیکس نہیں دیتی آج کم ٹیکس وصولی سے ثابت ہو گیا کہ حکمران چور ہیں،بجٹ 22 فیصدقرضوں پر ہے حالانکہ عمران خان کہتے تھے کہ قرضہ نہیں لونگا۔حنا پرویز بٹ کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان کی جانب سے شور اور ہنگامہ آرائی شروع کردی گئی جس کے بعد حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے مخالفانہ نعرے لگائے گئے۔ حکومتی رکنی سعید اکبر نوانی نے کہا کہ ن لیگ کی تعریف کرتا ہوں جس نے جاتے جاتے نئی سکیموں کے انبار لگا دئیے، اس کا نئی سکیموں کو بنانے کا مقصد موجودہ حکومت کیلئے مسائل کھڑے کرنا تھا۔ سعید اکبر خاں نے اجلاس کی کاروائی بامقصد بنانے کے لئے رولز میں پر زوردیتے ہوئے کہا کہ اس وقت صرف ڈیبیٹنگ کلب جیسی بحث ہو رہی ہے جو بے مقصد ہوتی ہے،ایوان کی کارروآئی بامقصد بنائی جائے۔لیگی رکن ملک ارشد نے بحث کے لئے کم وقت ملنے پر احتجاج کیا تاہم چیئر کی جانب سے ان کی بات نہ سنی گئی جس پر وہ احتجاجا۔ اجلاس سے واک آوٹ کر کے باہر چلے گے۔ وقت ختم ہونے پر اجلاس آج بدھ دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -