فپواسا کا حکومت پنجاب کی یونیورسٹی ایکٹ میں ترامیم پر احتجاج کی حمایت کا اعلان

فپواسا کا حکومت پنجاب کی یونیورسٹی ایکٹ میں ترامیم پر احتجاج کی حمایت کا ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز ایکیڈمیک سٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) خیبر پختونخواہ چپٹر کی جانب پنجاب یونیورسٹی ایکیڈمیک سٹاف ایسوسی ایشن کی پنجاب حکومت کی یونیورسٹی ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر احتجاج کے حمایت کا علان کر دیا ہے(فپواسا) خیبر پختونخوا کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سرتاج عالم کاکا خیل کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے مجوزہ''پنجاب پبلیک سیکٹر یونیورسٹیز امینڈمنٹ ایکٹ 2020'' میں ترامیم سے جامعاتی خود مختاری کو پامال ہوگی جو تعلمی دشمن اقدام کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ۔س نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ایکیڈمیک سٹاف ایسوسیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد چوہدری جس بہادری سے اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے فپواسا اس کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے اور اس مشکل گھڑی میں وہ پنجاب کے اساتزاہ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔ ڈاکٹر سرتاج عالم نے مزید کہا کہ حکومت کے زہنی پسماندگی کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ جامعات کا اختیار ریٹائرڈ بیوروکیٹ اور ججز کو دینا چاہتی ہے جو کہ نہ صرف ایسے لوگ جامعات کے معاملات سے بے خبر ہیں بلکہ اس عمر میں ان معاملات کو سمجھنے کے لئے اب ان کی زہنی صلاحیت بھی نہیں ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی حکومت سمجھتی ہے کہ ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جانا چاہئے تو پھر ان کو جامعات کے بجائے اپنے محکموں میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ڈاکٹر سرتاج عالم نے مزید کہا کہ حکومت کی لاسیز سے واضح ہوا کے دیگر محکموں کی طرح تعلیم کے حوالے سے بھی حکومت کوئی کارکردگی نہیں دیکھا سکی۔انھوں نے کہا کہ جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری اسی بنیاد پر ہوتی ہے کہ ان کے پاس تعلیم کے سا تھ ساتھ انتظامی امور کو چلانے، فنڈنگ لانے، اور بڑے پروجیکٹ کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کا تجربہ ہوتا ہے اس کے باوجود حکومت کو جامعات میں باہر سے لوگوں کو لانے کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت کو چاہئے کہ وہ وائس چانسلرز کے انتخاب کا عمل مزید شفاف بنائیں تاکہ تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی تجربے کے ساتھ ساتھ اس میں حوصلہ، فیصلہ کرنے کی ہمت اور ایمانداری کے ساتھ ساتھ جامعات کی ترقی کا اعلی مقصد اور اس کے حصول کا مہارت بھی ہو۔اور پھر انتخاب کے بعد جامعات کے وائس چانسلرز کو مزید اختیارات دی جائے اور ان کے جامعات کی مالی معاونت کی جائے تاکہ وہ اپنے جامعات، طلبا اور اساتزاہ کی ترقی کے لئے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کام کریں۔ڈاکٹر سرتاج عالم نے کہا کہ حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے جامعات انتظامی اور مالی بحران کا شکار ہیں، جامعات میں نہ تو وائس چانسلرز کی تقرری بروقت ہوتی ہی اور نہ ہی وائس چانسلرز کو کام کرنے دیا جا رہا ہے جبکہ حکومت کے نمائندے جامعات کے سینڈیکیٹ اور سینٹ کے ملاقاتوں میں بیٹھتے ہیں لیکن پھر بھی جامعات کے خودمختاری میں مداخلت کرتے ہیں۔ اسی مداخلت کی وجہ سے جامعہ ایگریکلچر اور جامعہ پشاور میں پچھلے کئی سالوں سے اساتزاہ کی ترقیاں التوا کا شکار ہیں۔ ففواسا خیبر پختونخواہ کے صدر ڈاکٹر سرتاج عالم نے موجوزہ ایکٹ کے خلاف پنجاب یونیورسٹی ایکیڈیمیک سٹاف ایسو سی سایشن کے احتجاج کی بھر پور حمایت کرنیتی ہے اور پنجاب کے اساتذہ تنظیم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -